اقلیتوں کے لیے ایک کاغذی کمیشن کی تشکیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 2020ء دنیا بھر میں کووڈ 19 وبا کے باعث ہونے والی غیر معمولی تباہی کی وجہ سے ہمیشہ یاد ر کھا جائے گا۔ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے لئے یہ سال اس وبا سے متاثر ہونے کے علاوہ ایک بار پھر اقلیتوں کے ایک کاغذی کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے بھی یاد رہے گا۔ حکام کادعویٰ ہے کہ مذکورہ کمیشن کے قیام سے پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو درپیش جملہ مسائل کے حل میں خاطر خواہ پیش رفت ہو گی۔ آئیے اس کمیشن کا جائزہ لیتے ہیں۔

پانچ مئی 2020ء کو وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے اقلیتوں کے قومی کمیشن (National Commission for Minorities) کے قیام کی منظوری دی۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن 12 غیر سرکاری اور 6 سرکاری اہل کاروں پر مشتمل ہو گا جن دو مسلمان، تین ہندو، تین مسیحی، دو سکھ جبکہ ایک ایک رکن پارسی اور کیلاش برادری سے شامل ہیں۔

ابتدا میں 15 اپریل 2020ء کو وفاقی کابینہ نے کمیشن کے ارکان میں احمدی برادری کے ایک رکن کو شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا تھا تاہم حکمران جماعت کی جانب سے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس ممکنہ فیصلے کے خلاف ایک مہم جاری ہو گئی جس میں حکومتی وزراء بھی شامل تھے۔ 29 اپریل کو مذہبی امور کے وزیر نورالحق قادری نے بتایا کہ حکومت احمدی برادری کو شامل کرنے پر نہیں سوچ رہی۔ کابینہ کے کسی رکن نے احمدیوں کے اخراج پر اعتراض نہیں اٹھایا چنانچہ احمدی رکن کو شامل کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

ماضی میں ستمبر 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے قیام کے بعد ایک مالیاتی کمیٹی میں ایک احمدی عاطف میاں کو شامل کرنے کے فیصلے کو بھی اپنی جماعت کے دباؤ پر واپس لے لیا تھا۔احمدی رکن کے اخراج پر ملک اور بیرون ملک حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ”مضحکہ خیز“ (absurd) قرار دیا۔

5 مئی 2020 کو کابینہ کی میٹنگ کے بعد احمدی برادری کے اخراج کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا، ”احمدی اقلیت کی تعریف میں نہیں آتے“ ۔ یاد رہے 7 ستمر 1974ء کو دستور پاکستان میں دوسری ترمیم کر کے احمدیوں کو ”غیر مسلم“ قرار دیا جا چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بسنے والے احمدی برادری کے افراد کی تعداد کوئی چار ملین کے قریب ہے۔

پاکستان میں اقلیتی برادری اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقلیتوں کے مجوزہ کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے قانون سازی کے ذریعے کمیشن کی تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنٹر فار سوشل جسٹس (CSJ) ، قومی کمیشن برائے امن و انصاف (NCJP) ، پیپلز کمیشن فار میناریٹیز رائٹس (PCMR) اور سیسل اینڈ آئرس چوہدری فاؤنڈیشن نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل کا اقدام 19 جون 2014ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، بچوں کے حقوق پر کمیشن اور خواتین کی حیثیت پر کمیشن سے مطابقت نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں یہ کمیشن اقوام متحدہ کی جانب سے پیرس اصولوں میں تعین کردہ معیارات سے انحراف ہے۔

اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل کوئی نئی اختراع نہیں ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ باور کروانے کے لئے کہ پاکستانی سرکار مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اور پر عزم ہے متعدد بار مذہبی اقلیتوں کے ایک فعال کمیشن کا دعویٰ کیا جا چکا ہے۔ 1995ء میں جب مذہبی رواداری پر اقوام متحدہ کے خصوصی مبصر عبدالفتح عامور پاکستان کے دورے پر تھے تو انہیں بتایا گیا کہ ملک میں اقلیتوں کا ایک کمیشن فعال اور متحرک ہے۔تاہم اس کمیشن کی کسی سرگرمی کے بارے کبھی کوئی خبر نہیں ملی۔

علاوہ ازیں 2009 اور 2015 میں اقوام متحدہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کی کمیٹی کے سامنے جواب دیتے ہوئے پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ ملک میں اقلیتوں کا ایک کمیشن موجود اور فعال ہے۔ جناح انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں ایسے کسی کمیشن کی غیر موجودگی بیان کرتے ہوئے اس دعوے کی قلعی کھول دی تھی۔ دوسری طرف اقوام متحدہ میں یہ رپورٹ جمع کروانے سے ایک ماہ قبل انسانی حقوق کے نیشنل ایکشن پلان میں دسمبر 2016 تک اقلیتوں کے قومی کمیشن کے آئینی ادارے کی تشکیل کا بل پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا جو بجائے خود اس حقیقت کا اقرار تھا کہ اقلیتوں کے کمیشن نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔

ستمبر 2013ء میں پشاور چرچ پر خودکش حملہ کے بعد چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی نے سو موٹو ایکشن لیا جس میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کیے جانے والے اقدامات کے بارے استفسار کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں تفصیلی فیصلے میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک کمیشن/کونسل تشکیل دینے کا حکم صادر فرمایا جس کے مطابق یہ کمیشن آئین اور قانون کے تحت بنایا جائے گا۔ معروف قانون دانوں، سیاست دانوں، انسانی حقوق کے دفاع کاروں اور مذہبی اقلیتوں نے خوش دلی سے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا۔ اس فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس پر عمل درآمد ایک خواب بن کہ رہ گیا۔

دسمبر 2014ء میں سپریم کورٹ کے بنچ نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا تو اس کارروائی کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وزارت مذہبی امور کے تحت اقلیتوں کا کمیشن تشکیل دیا جا چکا ہے جو بین المذاہب تعلقات اور قومی ہم آہنگی پر پالیسی مرتب کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر انسانی حقوق کی تین تنظیموں سنٹر فار سوشل جسٹس CSJ قومی کمیشن برائے امن و انصافNCJP اور پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق HRCP، CSJ and CICF کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جس کے نتیجے میں جسٹس ثاقب نثار نے ایک کمیشن ( شیعب سڈل کمیشن ) تشکیل دیا، جس نے 8 فروری 2019 کو جو جواب عدالت میں جمع کروایا وہ سرکاری محکموں کے عدم تعاون، عدم دلچسپی اور مزاحمت کی کہانی تھی۔ عدالتی فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہونے میں ریاست کی ادارہ جاتی غفلت، سستی اور اقلیتی معاملات میں عدم دلچسپی کے مروجہ انداز کو روا رکھا گیا تھا۔

حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت تراشا گیا ہے ، چنانچہ اس کو کوئی آئینی حیثیت اور اختیار حاصل نہیں ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ 2010 میں آئینی تر امیم کے بعد اقلیتوں کے معاملات اب صوبائی حکومتوں کے تحت ہیں۔ اس تناظر میں کابینہ کے فیصلے کی عمل داری اسلام آباد کی حدود تک محدود ہو گی۔ یہ تشکیل سپریم کورٹ کے حکم نمبر 4 پیرا 37 کی صریحاً خلاف ورزی ہے (SC SMC 1 / 2014 ) جس میں کمیشن کی تشکیل قانون سازی کے ذریعے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کمیشن کے ارکان میں سے احمدی برادری کے اخراج کے باعث ابتدا ہی سے کمیشن کی آزادی اور خود مختاری مشکوک ہو گئی ہے۔ کمیشن میں سرکاری اہل کاروں کی موجودگی اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے اداروں کی تشکیل کے لئے طے شدہ پیرس اصولوں سے بھی انحراف ہے۔ جس کے باعث کمیشن کو سرکار کی مداخلت اور جملہ اثرات سے محفوظ نہیں رکھا سکتا۔ یہ کمیشن حکمران جماعت کے 2018ء میں دیے گئے انتخابی منشور سے بھی انحراف ہے جس میں انہوں نے اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

مجوزہ کمیشن اقلیتوں کے مسائل پر از خود نوٹس لینے، ان کے حل کے لئے اختیار اور وسائل سے یکسر عاری ہے۔ مزید براں احمدی برادری کے اخراج کے بعد کمیشن کا مشمولاتی تأثر بھی دھندلا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جون 2014ء سے 2020ء تک اقلیتوں کے کمیشن کے قیام میں تاخیر مذہبی اقلیتوں کے بارے سرکار کی سنجیدگی کا بیان ہے۔ چھ سال گریز کے بعد ایک بے دست و پا کمیشن کی تشکیل عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، حالیہ ایڈہاک ادارہ ایک مفروضے سے زیادہ حیثیت کا حامل نہیں۔

پاکستان میں ایک آزاد خود مختار اور مشمولاتی انسانی حقوق کے ادارے کی ضرورت ہے۔ یہ کمیشن انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور بچوں کے حقوق پر تشکیل کردہ اداروں (کمیشنز) جیسا تشکیل دیا جائے۔ ایک با اختیار، آزاد اور آئینی کمیشن کی تشکیل کے بغیر عدالت عالیہ کے حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •