صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت کا اختتام، اہلیہ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس سے روانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حامیوں کو ہاتھ ہلا کر الودع کہہ رہے ہیں۔

امریکہ کے 45 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت کی مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل اپنی اہلیہ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

بدھ کی صبح صدر کا سرکاری ہیلی کاپٹر میرین ون صدر ٹرمپ اور اُن کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو لے کر 10 منٹ کی مسافت پر واقع ریاست میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز نامی فوجی ہوائی اڈے پہنچا۔

ہوائی اڈے سے صدر ٹرمپ صدارتی طیارے ‘ایئر فورس ون’ کے ذریعے فلوریڈا میں موجود اپنے ریزورٹ کے لیے روانہ ہو گئے جہاں وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد آئندہ کچھ ہفتوں تک قیام کریں گے۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے ان کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ، داماد جیرڈ کشنر، صاحبزادے ایرک ٹرمپ، بیرن ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی موجود تھے۔

ہوائی اڈے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں شامل کئی عہدیدار اور مشیر بھی اُنہیں الودع کہنے کے لیے موجود تھے۔

ہوائی اڈے پہنچنے پر سبکدوش صدر کو توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

ایئر پورٹ پر صدر ٹرمپ کے حامی بھی موجود تھے۔
ایئر پورٹ پر صدر ٹرمپ کے حامی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر اپنے حامیوں سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے اس چار سال کے عرصے میں بہت سے اہداف حاصل کیے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے فوج کی تنظیمِ نو کی، ٹیکسوں میں کمی کی اور اس سے متعلق کئی اصلاحات کیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے ساڑھے سات کروڑ ووٹ حاصل کیے جو تاریخ میں کسی عہدے پر فائز صدر نے حاصل نہیں کیے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ کو ایک مضبوط بنیاد ملی ہے جسے مزید مضبوط کر کے وہ امریکہ کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اُن کے دورِ صدارت کے دوران روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا اور اسٹاک مارکیٹ میں عالمگیر وبا کے باوجود تیزی کا رُحجان رہا۔

صدر کا کہنا تھا کہ “ہم نے ویکسین کے معاملے پر معجزہ کیا اور پانچ، دس یا کئی برسوں کے بجائے صرف نو ماہ میں ویکسین تیار کی اور اب یہ امریکی عوام کو لگائی جا رہی ہے۔”

اُن کا کہنا تھا کہ ان کے اس پورے دور میں انہیں اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور امریکی عوام کا تعاون حاصل تھا جس پر انہوں نے ان سب کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس موقع پر میلانیا ٹرمپ نے بھی حاضرین سے مختصر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خاتونِ اول بننا، اُن کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی جس پر وہ امریکی قوم کی شکر گزار ہیں۔

امریکی روایات کے برخلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے صدر جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی لیے وہ بائیڈن کی حلف برداری سے صرف چند گھنٹے قبل فلوریڈا روانہ ہو گئے۔

روایتی طور پر سبکدوش ہونے والا صدر نئے صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کرتا ہے جس کے بعد نیا صدر سبکدوش ہونے والے صدر کو وائٹ ہاؤس سے رُخصت کرتا ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ نے تین نومبر کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد بھی نہیں دی تھی۔

صدر ٹرمپ کا اصرار رہا تھا کہ تین نومبر کے انتخابات میں ووٹرز فراڈ اور بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ تاہم امریکی عدالتوں نے صدر اور اُن کے حامیوں کے اس ضمن میں متعدد انتخابی دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے حلف برداری سے ایک روز قبل اپنے الوداعی خطاب میں نئی انتظامیہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اُنہوں نے اس پیغام میں بھی جو بائیڈن کا نام نہیں لیا تھا۔

سبکدوش ہونے والے صدر ٹرمپ کو رواں ماہ چھ جنوری کو امریکی جمہوریت کی علامت سمجھی جانے والی کانگریس کی عمارت ‘کیپٹل ہل’ میں حملے پر اُکسانے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

البتہ اپنے الوداعی خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاسی تشدد سے گریز اور اتحاد کا پیغام دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1162 posts and counting.See all posts by voa