میں ایک مطمئن ”ان پڑھ“ ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے یہ کہنے میں بالکل عار نہیں کہ میں انگریزی زبان ”روانی“ سے نہیں بول سکتی، اچھا بولنے اور لکھنے والوں کو سنتی اور پڑھتی ہوں، ایسے قابل لوگ بھی اردگرد ہیں جو دونوں زبانوں میں کمال ذوق اور مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا پڑھتی ہوں اور جب وہ بولیں تو کان اور دل لگا کر سنتی بھی ہوں۔ جو بھی نیا لفظ ملے اور اچھا بھی لگے تو اس کا مطلب بھی تلاش کرتی ہوں اور جب اس پرائی زبان میں لکھنے لگوں تو ان الفاظ کو سلیقے سے استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتی ہوں۔

مجھے اس بات پر بھی کوئی شرمندگی نہیں کہ مجھے انگریزی میں کوئی سنجیدہ گفتگو کرنی پڑے تو پہلے اپنے ذہن میں، اس جملے کا اردو سے انگریزی میں کوئی تین چار مرتبہ ترجمہ کرتی ہوں اور پھر اسے بالکل اردو والے، دیسی لہجے میں ہی بول بھی دیتی ہوں۔ مجال ہے جو یہ کم بخت لہجہ ”بدیسی لچک“ کھا جائے۔ آدھی صدی ہونے کو آئی میری زندگی کے اس سفر کی، لیکن ابھی بھی کتنی پرائمری اسکول کے بچوں والی مشق ہے میری اور پھر بھی اتنے عرصے میں، میں ایک ”پڑھی لکھی کلاس“ کی زبان پر عبور نہیں حاصل کر پائی۔ اس کلاس میں پکی ”پینڈو“ اور ”ان پڑھ“ ہوں

لیکن مجھے اس بات پر اطمینان ہے کہ میں نے آج تک بارش کے بعد ”روڈوں پر کھڑے پانی“ میں ”جمپیں“ نہیں لگائیں اسی لیے کبھی ”بوٹوں“ ”شرٹوں“ اور ”پینٹوں“ کے ”ڈرٹی“ ہونے پر مجھے ڈانٹ نہیں سننی پڑی۔ ”اسکولوں“ کے ”کلاس روموں“ میں بیٹھے ”سٹوڈنٹوں“ کی ”کاپیوں“ پر بلاوجہ ”لائنیں“ نہیں لگائیں۔ ’ ”پیپروں“ میں ”نمبروں‘ کے کم یا زیادہ ہونے پر والدین، انتظامیہ کو“ کالیں ”بھی نہیں کرتے تھے اور کوئی“ کمپلینیں ”بھی نہیں آتی تھیں۔

ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ آسمان پر ”کائٹیں“ دیکھتے ہوئے مجھے اردگرد کا پتہ ہی نہ چلے اور ”کاروں“ کے ”ہارنوں“ کا شور مجھے پریشان کر دے۔ ”سن ڈے“ کے ”دن“ اگر میرے بہن بھائیوں کی ”فیملیاں“ اکٹھی ہوں تو ہم مختلف ”ڈشیں“ بنا کر ”انجوائے منٹ“ کا ”مزہ“ بھی نہیں لیتے۔ نہ ہی پیپروں سے ”بالیں“ بنا کر لکڑی کے ”بیٹوں“ سے ہم ”شاٹیں“ لگاتے ہیں۔ فارغ وقت کی ”ہابیوں“ میں ”بکیں“ پڑھنے یا مختلف ”کلروں“ کے ”فلاوروں“ سے بھرے ”پارکوں ’میں بیٹھنے،“ پکچریں ”دیکھنے یا دوستوں کو“ کالیں‘ ’کرنے کی بھی عادت نہیں۔

میں آئے روز ”موبائلوں“ کی ”سکرینیں“ بھی نہیں توڑتی ہوں۔ پکنک منانے جائیں تو ”جوسوں“ اور ”بسکٹوں“ کے ”باکسوں“ کو یا ”پلیٹوں ’کو“ شاپروں ”میں ڈال کر“ روڈوں ”کی“ سائیڈوں ”پر پھینکنے کی بھی عادت نہیں ہے۔ نہ ہی کبھی ایسا اتفاق ہوا کہ کبھی‘ چپسوں“ اور ”ٹافیوں ’کے“ ریپروں ”کو پھینکنے کے لیے“ ڈرموں ”یا“ ڈسٹ بنوں ”کو ڈھونڈنا پڑا ہو۔ میں شادی“ ہالوں ”میں جانے سے پہلے“ پارلروں ”میں وقت بھی ضائع نہیں کرتی۔ لوگوں کے گھروں میں“ لائٹیں ”زیادہ جلیں تو انہیں اگلے مہینے کے“ بلوں ”میں ہونے والے اضافے کی“ ٹینشنیں ”ہوتی ہیں، مجھے یہ سب پریشانیاں اس انداز سے لاحق نہیں ہوتیں تاہم لوگوں کی ان“ ٹینشنوں ”کے پیچھے چھپے“ کمپلیکسوں ”نے نہ انہیں کعبے کا چھوڑا نہ وہ صنم کے ہوئے۔

لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ میں جس زبان میں بولتی، لکھتی، سوچتی اور خواب دیکھتی ہوں اس پر مجھے عبور ہو۔ ابھی بھی جس ڈائری میں انگریزی اور چینی زبان کے نئے نئے لفظ لکھتی ہوں اسی کا ایک حصہ اردو کے الفاظ کے درست تلفظ کے لیے مخصوص ہے۔ سیکھنے کا عمل بھی بھلا کبھی رکا ہے؟ اسی لیے کبھی یہ زعم رہا ہی نہیں کہ میرے سامنے والے کو بچپن سے اس ملک میں رہتے ہوئے بھی ابھی تک ”درست“ اردو بولنی نہیں آئی۔ مجھے اس بات کا اطمینان بھی ہے کہ میں جو بھی ”زبان“ بول رہی ہوں اس سے برتری کے زہر میں لتھڑا تضحیک کا تیر نہیں برسے گا۔ قصہ مختصر کہ ’زبان وہی اچھی جو اپنائیت کا احساس دلائے۔ کیونکہ زبان مٹھاس ہے، احترام، اخلاص، محبت، اور تہذیب ہے اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہو گا اسے جتنا بھی ”کھڑک دار“ بنا کر بول لیجیے، بات نہیں صرف لہجہ سنائی دے گا اور تاثرات دکھائی دیں گے اور پھر ”گل ودھ جائے گی“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •