اسرائیل کو کیوں تسلیم کیا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ذہن میں کافی عرصے سے سوال گھوم رہا تھا کہ ہم اسرائیل کو کیوں تسلیم کریں؟ ایسا کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کا زور ہے کہ پاکستان اسے تسلیم کرے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل دنیا میں اس ناجائز بچے کی طرح غیر ضروری ریاست ہے جس نے مظالم کی حد پار کر دی ہے۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کر کے ان پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ کیمپوں میں مقیم فلسطینیوں پر جو 80 کی دہائی میں مظالم کیے گئے۔ قتل و غارت کا بازار گرم رکھا، صبرا شتیلا کیمپس ان کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جس کے پیچھے موساد اور اسرائیل تھا۔

ہزاروں افراد کو جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا۔ معصوم بچوں، خواتین ، نوجوانوں اور بزرگوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اور خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ 1940ء کی قرار داد پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے تو اسرائیل کو مسترد کرنے کی بھی بنیاد ہے۔ جب اسرائیل بنا تو پہلے وزیراعظم نے اسرائیل کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی کہ دنیا میں ایک نوزائیدہ مسلم ملک پاکستان کو ختم کرنا ترجیح ہو گی۔

اسرائیل نے پاکستان کو ختم کرنا اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح رکھی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل نے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ امت مسلمہ ان آوازوں کو بھولی نہیں۔ قرارداد پاکستان کا حصہ ہے کہ بانی پاکستان نے کہا یہودی فلسطینی زمینوں میں اپنی آبادیاں بنارہے ہیں، اس عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل شہید نے بھی فرمایا تھا کہ تمام عرب اسرائیل کو تسلیم بھی کر لیں لیکن ہم پھر بھی نہیں کریں گے۔

اسرائیل نے ماضی میں فلسطینیوں اور اس کے عرب پڑوسیوں کے ساتھ دستخط کیے ہوئے تمام معاہدوں کو توڑا ہے۔ اسرائیل نے تاریخی طور پر کبھی بین الاقوامی قوانین یا بین الاقوامی معاہدوں کا احترام نہیں کیا۔ اسرائیل فلسطین کے لیے دو یا ایک ریاستی حل میں سے کسی کے لیے بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرتا اور امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ہونے والے میثاق ابراہیم کے بعد مقبوضہ علاقوں سے دست بردار ہو جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔

ہم سوچتے تھے کی اسرائیل کو آگے چل کر کوئی بھی مسلمان ملک تسلیم نہیں کرے گا مگر پتا چلا کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ مراسم بہتر بنا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سوچا جا رہا ہے ، اس پر ہوم ورک ہو رہا تھا، پھر پتا چلا کہ یو اے ای نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے بلکہ سفارتی تعلقات بھی قائم کر دیے ہیں اور سفری پرواز بھی ایک دوسرے کے ممالک میں شروع ہونے لگی ہے۔ دشمنیاں اور نفرتیں، محبت اور پیار میں تبدیل ہونے لگی ہیں۔

اس کے بعد قطر نے بھی اسرائیل سے مراسم قائم کرنے میں دیر نہیں کی، پہلے سے ہی کافی عرب ممالک جو اسرائیل کو ناجائز تسلیم کہتے تھے ، انہوں نے بھی چھوٹے موٹے مفادات اور پریشر کو قبول کرتے ہوئے اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس کے ساتھ معاشی اور سفری تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ اور مسلمان ممالک بھی ہیں جن کی کوشش ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے مگر وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

جتنی پاکستان کی اہمیت ہے ، اتنی شاید ان مسلمان ممالک کی نہیں۔ عرب ممالک مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ دوستی کی زنجیر میں جکڑ چکے ہیں اور اسے تسلیم بھی کر رہے ہیں اور اس ناجائز ریاست کی پالیسیوں پر نہ صرف عمل پیرا ہو گئے ہیں بلکہ پاکستان کے اوپر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ کسی بھی طرح اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ مگر پاکستان کے پاسپورٹ پر لکھا ہوا ہے کہ اسرائیل کے سوا ساری دنیا کے لئے قابل قبول ہے۔

کہا جا رہا تھا کہ اسرائیل اور دیگر ممالک کی کوشش تھی کہ پاکستان 2022  تک نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرے بلکہ اسلام آباد میں اسرائیلی سفارت خانہ قائم ہو اور تل ابیب میں پاکستانی سفارت خانہ تعمیر ہو۔ مگر پاکستانی قوم فلسطینی عوام کو کیسے دھوکا دے سکتی ہے۔ اسرائیل ناصرف فلسطینیوں کی کسی ریاست کے حق کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ فلسطینیوں کو فلسطینیوں اور اسرائیلی شہریوں پر مشتمل ایک مشترکہ ریاست کا شہری بننے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں۔

پاکستانی قوم نہتے مظلوم فلسطینی عوام  اور شہداء کے خون کا کیسے سودا کر سکتی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور بانی قائداعظم محمد علی جناح کی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے جیسے بہادرانہ فیصلہ سے منہ موڑ لے۔ پاکستانی حکمرانوں کی سوچ پر شک کیا جا سکتا ہے مگر قوم کی سوچ کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہے۔ ترکی نے جو پہلے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے تھے ، وہ بھی بحال ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے کے ممالک میں اپنا اپنا سفیر بھی مقرر کیا گیا ہے۔

عرب ممالک کے بعد پاکستان اور ایران ہی رہتے ہیں جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کا دور مکمل طور پر اسرائیلی دور حکومت تھا۔ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سعودی عرب، دبئی ، یو اے ای ، قطر و دیگر ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں بلکہ کوششں کے باوجود پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے پاکستان کے اوپر کتنا پریشر اور زور تھا، یہ حکمران ہی بہتر جان سکتے ہیں۔ مگر اس میں بڑی رکاوٹ حکمران یا سیاستدان نہیں بلکہ پاکستانی کی مذہبی سوچ رکھنے والی قوم تھی ، بالخصوص پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی قائد مولانا فضل الرحمان تھے، جنہوں نے سب سے پہلے عالمی اسٹیبلشمنٹ بالخصوص امریکا اور اسرائیل کے خلاف آزادی مارچ شروع کیا۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ اس وقت شروع کیا جب عالمی اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کو کشمیر کے بعد پریشرائز کر رہی تھی کہ کشمیر کے بعد پاکستان فلسطین کے بجائے اسرائیل کے ساتھ دوستی کی شروعات کرے۔

پاکستانی اینکرز، صحافی، سیاستدان اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے ساتھ کچھ مولوی بھی میدان میں آ گئے تھے ، جن کا موقف تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہیے ۔ ان میں جے یو آئی کے سابق رہنما مولانا شیرانی، سرفہرست تھے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد عتیق الرحمن عرف نور ڈاھری نے باقاعدہ طور پر ایک تنظیم بنائی گئی ہے جس کا مقصد پاکستان اسرائیل فرینڈشپ قائم کرنا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

نور داہری کا تعلق سندھ سے ہے اور وہ 10 سال سے زیادہ عرصہ تل ابیب اسرائیل میں رہ چکے ہیں۔ موساد اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ قریبی مراسم رکھتے ہیں۔ وہ براہ راست پاکستانی علماء، اینکرز پرسنز، صحافیوں اور قوم پرستوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں فنڈنگ بھی کرتے آ رہے ہیں۔ کچھ روز قبل نور داہری نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی حکومت کے ایک اہم وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ اس کے بعد مولانا طاہر اشرفی کا بھی نام لیا جاتا ہے جو اس وقت وزیراعظم کے مشیر ہیں۔

جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کے حکومت پر اسرائیلی حامی ہونے کا الزام عائد کرتے آرہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان پر یہودیوں کا نمائندہ ہونے کا الزام بھی لگاتے ہیں جس کی موجودہ حکومت تردید کرتی رہی ہے۔ 1990ء کی دہائی میں اوسلو معاہدہ کے بعد اسرائیل کے حق میں پاکستان کا رویہ کچھ نرم ہوا اور یہودی اور پاکستانی نمائندوں کی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں اسرائیل کی اولین ترجیح سفارتی تعلقات کا قیام رہی، کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔

پاکستان اور اسرائیل ان کے استنبول میں قائم سفارت خانوں کے ذریعے باہمی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے رہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے قادیانی ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی کوشش کی تھی جو کہ ناکام رہیں۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام اسرائیل نامنظور ملین مارچ مزار قائد پر منقعد کیا گیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

اس ملین مارچ سے جہاں جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے خطاب کیا وہاں فلسطینی مفتی اعظم اور مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری، حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ساتھ پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔

ملین مارچ کے مقررین نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ فلسطین، بیت المقدس اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ قربان ہو گا اور خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکا میں جہاں ٹرمپ کی شکست کے بعد جو بائیڈن صدر بن گئے ہیں، اس کی پاکستان بالخصوص مسلمان ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے حوالے سے کیا پالیسیاں ہیں اور آنے والا وقت کیا فیصلہ کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •