بعد از گھسی پٹی محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت میں مبتلا ہونا ایک نظم ہے اور نبھانا نثر۔ نظم کو ہم ’فنٹاسی‘ سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ نثر حقیقت پر مبنی ہے۔ تخیل بہرحال حقیقت سے زیادہ حسین ہوتا ہے۔ تخیل کو جب حقیقت کا سامنا ہوتا ہے تو حقیقت جیت جاتی ہے۔ محبت نبھانا دنیا کا ایک ایسا جھوٹ ہے جو ہم سبب انسان بول رہے ہیں۔ اپنے اپنے نکتے پر ہم سب محبت نبھا رہے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ محبت دلوں کا سودا ہے، جذبات کا لین دین ہے۔

محبت میں لینا لکھا ہی نہیں۔ آج ہے، کل ہم سے رخصت طلب بھی ہے۔ کل تھی، آج کل نہیں رہی نہ اندر نہ باہر، اب اس محبت کی جب تاریخ انتہا آ جائے تو بڑی بڑی طاقتور ہستیاں میں نے زبوں حالی کا شکار دیکھی ہیں۔ محبت جاتے جاتے ہم سے ہمارا اپنا آپ بھی چرانا چاہتی ہے۔ دراصل ہم محبت کے نشے سے نکل نہیں پا رہے ہوتے، یوں ہم خود کو مزید تباہ کر لیتے ہیں۔ جاتی محبت بس خزاں کی سی ہوتی ہے۔

اگر اس نشے سے باحفاظت باہر باہر آیا جائے تو بہار رت پھر آ سکتی ہے۔ یاد رہے کوئی بھی رت دائمی نہیں ہوتی، ہر حالت کو تغیر ہے اور انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ اس تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے۔ ایک بے حد مفید زندگی ہم خود اپنے لیے ترتیب دے سکتے ہیں۔ بس تھوڑی فہم و فراست سے خود کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ تھوڑی ہی مدت میں ہمارا اس کے سحر سے باہر آنا صحت مند قدم ہے، جو ہم سے رخصت طلب ہو، اس کو بھی خوشی خوشی جانے دیجیے، اس محبوب کے لیے بھی آپ کی فراخدلی بہت ضروری ہے۔

اگر آپ یا آپ کے جاننے والوں میں سے کوئی یہ جنگ لڑ رہا ہے تو اس کو کئی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ کئی عوامل ہمیں گمراہ کرنے کے لیے ہمارے ضبط کو آزمائیں گے اور یہ وہ عوامل ہیں جو ہماری خود پر کی گئی محنت کو ضائع کر کے، ہمیں پھر سے اسی ٹوٹے نشے کی نذر کر دیں گے۔ ذیل میں چند مدد گار تدابیر درج ہیں جو کہ ہمیں اس جذباتی جنگ میں اپنے آپ سے جتوانے میں بڑا کردار ادا کرتی ہیں :

1۔ کبھی بھی ہمت نہیں ہارنا رو بہ صحت ہونا ممکن ہے۔
2۔ جو بھی کچھ اس محبت نامی نشے کے بارے میں آپ معلوم کر سکتے ہیں، کریں۔
3۔ اپنی جذباتی صحت پر چاہتے نہ چاہتے ہوئے، ہر حالت میں توجہ مرکوز رکھیں۔
4۔ اپنے اقرار پر کبھی سمجھوتا نہ کریں۔

5۔ پہلے سے کسی بھی کھیل یا مشغلے کو ترتیب دیں تاکہ جب بھی آپ کو محبت کی ضرورت محسوس ہو آپ خود کو مصروف کر لیں۔

6۔ محبت کے نشے کی ضرورت پر کتنی دفعہ قابو پایا، اس کا حساب رکھیں، آپ کو تقویت ملے گی اپنی فتح کو دیکھ کر۔

7۔ مسٹر رائٹ یا مس رائٹ کی تمنا کرنا ٹھیک ہے مگر اس کو اپنی کمزوری نہ بنائیں۔ اس خواہش اور تمنا کو اتنا اہم نہ بنائیں کہ زندگی کو روک لیں۔ جتنا مکمل آپ زندگی کو بسر کریں گے، اتنا مسحور کن آپ ہوتے جائیں گے۔ لوگ خود ہی آپ کی طرف متوجہ ہوں گے۔ آپ کسی کا انتظار نہ کریں اور آگے بڑھیں۔

8۔ وہ بن کر نہ دکھائیں جو آپ نہیں ہے۔ آپ جیسے ہیں ویسے رہیں۔
9۔ اپنی عزت کریں، فلسفۂ خودی اپنائیں۔

10۔ خود کو اور دوسروں کو معاف کر دیں۔ دل۔ میں بغض رکھنا، خود کو غلطی پر سمجھنا کمزور کر دیتا ہے اور اس جذباتی کمزوری میں پھر محبت کے نشے کی طلب ہونے لگتی ہے۔

11۔ کسی پر زبردستی نہ کریں کہ وہ آپ کے ساتھ رہے۔

12۔ دوسروں سے اپنی قدر کروانے کی خواہش ترک کرنا ہو گی۔ آپ کو خود اپنی قدر ہونی چاہیے۔ جتنی آپ اپنی قدر کریں گے، اتنا ہی لوگ آپ کی قدر و منزلت جانیں گے۔

13۔ اکیلے پن کے خوف سے غلط انتخاب نہ کریں، جلدی نہ کریں کسی کو زندگی میں شامل کرنے کی۔ یہ آپ کی کی تکلیفوں میں مزید اضافہ کرے گی۔

14۔ ماضی میں جینا اور اس پر افسوس کرنا چھوڑیں، کسی احساس جرم میں نہ پڑیں۔ آج اور آنے والے کل پر توجہ دیں۔

15۔ پرفیکشن کے پیچھے مت بھاگیں۔ خود کو بہتر کرتے جائیں کیونکہ کسی کو کبھی سب کچھ نہیں ملا نہ ہی آپ کو ملے گا۔

16۔ اپنا وقت ان لوگوں کے ساتھ بتائیں جو آپ پر بھروسا کرتے ہیں اور جو آپ کو وہ عزت دیتے ہیں جس کے آپ مستحق ہیں۔

17۔ جو بھی فیصلہ کریں، اس کی ذمہ داری قبول کریں، یہ آپ کی روحانی طاقت اضافہ کرے گا۔
18۔ جب بھی تنہائی محسوس کریں خود کو صحت مند ماحول اور سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔

19۔ یاد رکھیں اکیلے ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ناکام اور غیر اہم ہیں اور محبت کے قابل نہیں ہیں۔ خود کو اہم سمجھیں۔

20۔ خود کو غیر صحت مند رویے سے الگ کریں، وہ کام کریں جن کے بارے میں آپ نے کبھی سوچا تھا مگر کر نہیں پائے، زندگی کو مقصد دینے کی کوشش کریں۔

21۔ بری عادتوں کو جانیں، خود کو بہتر کریں، اچھی عادات اپنا کر مثبت کردار اپنائیں۔ منفی رویے ترک کریں۔ یہ سب یک دم نہیں آہستہ آہستہ کریں ورنہ آپ تھک جائیں گے۔

22۔ ذرا غور سے اس زندگی کو دیکھیں جب آپ محبت کے نشے میں سرشار تھے۔ ملنا بچھڑنا کھو دینے کا خوف وغیرہ سب پر ایک نظر ڈالیں، موجودہ زندگی آپ کو بہتر لگنے لگے گی۔ عزیز چیزوں سے دکھ اور خوف پیدا ہوتا ہے۔ عزیز سے الگ ہوں تو دکھ اور خوف سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

23۔ کچھ نیا مزیدار سیکھیں اور کریں۔ یہ آپ کی سوچوں میں تبدیلی لائے گا۔
24۔ آپ کی خود سے اور دوسروں سے توقعات محدود اور حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے۔

بقول فیض ؀
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا،
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •