لاہور قلندر سے پاکستان قلندر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھیل کی دنیا کبھی تفریح اور تندرستی کے دو اشاریوں سے عبارت تھی۔ کھیل کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے ہار اور جیت کو تسلیم کرنا کھیل کا اخلاقی فلسفہ تھا۔ ہارنے والے کے لئے فتحمند کھلاڑی کی بہتر صلاحیت اور مہارت کا اعتراف کرنا اعلیٰ ظرفی کہلاتی تھی۔ ہماری روایت میں تو ڈبلیو جی گریس اور ماجد جہانگیر کی بیٹنگ بسی ہے۔ آؤ ٹ ہونے پر امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کیے بغیر پویلین لوٹ جاتے تھے۔ ہماری ہڈیوں میں تو گاما پہلوان کی وضع داری رچی ہے۔

1924 میں گونگا پہلوان نے منٹو پارک میں امام بخش کو چت کر دیا تو شکست خوردہ پہلوان اور ان کے حامی اکھاڑے میں دبائے مفروضہ تعویزوں کا قصہ لئے بیٹھے تھے لیکن رستم زماں گاما پہلوان نے رسان سے کہا، ’ہم نے بہتوں کو گرایا ہے، ایک بار گر پڑے تو کیا ہوا۔ شکست و فتح تو ہوتی رہتی ہے۔‘ یقین رکھیے، یہاں امام بخش کی ضعیف العتقادی سے کسی زندہ کردار کی طرف اشارہ ہرگز مقصود نہیں۔ یوں بھی تاریخ کے کسی حادثے کو مطعون کرنا چہ معنی، یہاں تو یونیورسٹی استاد، صحافی حتیٰ کہ ادیب تک کے شعور میں اوہام کے کیچوے کلبلاتے ہیں۔

بیسویں صدی میں سیاسی نظریات کی قطبی کشمکش نے کھیل کا یہ معصوم تصور بدل ڈالا۔ عوام کی کھیلوں میں والہانہ دلچسپی کو رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لئے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ 1936 کے برلن اولمپکس میں سیاہ فام امریکی کھلاڑی جیسی اوونز نے سونے کے چار تمغے جیت کر ہٹلر کی نسل پرست برتری خاک میں ملا دی تھی۔ یہ ستم ظریفی اپنی جگہ کہ فرینکلن روزویلٹ جیسی اوونز کو مبارک باد دینے کی ہمت نہ کر سکے۔

1980 کے ماسکو اولمپکس اور 1984 کے لانس اینجلس اولمپکس سرد جنگ کی رستاخیز میں گہنا گئے۔ اب تو شطرنج کی بساط پر اناطولے کارپوف، بورس گلکو اور کیسپاروف کی کشمکش میں کے جی بی کا کردار واضح ہو گیا ہے۔ کھیل کی اسی دنیا کا ایک روشن رخ 1995 کا رگبی ورلڈ کپ تھا جس نے فٹ بال اور رگبی میں بٹی ہوئی نیلسن منڈیلا کی قوم کو رنگ و نسل کی ہم آہنگی کا درس دیا۔

گزشتہ صدی نے کھیل کے میدان میں سرمایہ دار کو داخل ہوتے دیکھا۔ منافع کو حتمی اخلاقی قدر قرار دینے والا ذہن جب سیاست، فلم اور کھیل کی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو فضا میں جرم کی دھند پھیل جاتی ہے۔ فلم اور جرائم کی زیر زمیں دنیا کا تعلق ایک صدی پر پھیلا ہے۔ سیاست میں سرمائے کی مداخلت ہمیشہ رہی لیکن سرمائے کے مفاد میں جمہوری عمل کو تابع مہمل بنانے کی کہانی نسبتاً جدید اور پیچیدہ ہے۔ کرکٹ میں بڑے سرمایہ دار کی رونمائی 1976 میں کیری پیکر ورلڈ سیریز کی صورت میں ہوئی۔

تب آج کے کچھ پشتینی امرا 35 ڈالر اور 50 ڈالر یومیہ معاوضے کے اختلاف پر قومی ٹیم چھوڑ کر بیرونی سرمایہ کار سے خفیہ معاہدے کیا کرتے تھے۔ ضیا آمریت نے کرکٹ کو جہانگیر بک ڈپو کے نصابی تعاون سے سماجی تلبیس کا درجہ دیا۔ 1987 ءکی کرکٹ ڈپلومیسی اور مبینہ جوئے سے گزرتی ہوئی پاکستان کرکٹ کو مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ دیکھنا پڑا۔ پاکستان میں کھیل کے میدان بین الاقوامی مقابلوں سے محروم ہو گئے۔ غیر ملکی سیاح خواب بن گئے۔ بیرونی سرمایہ کاری ٹھپ ہو گئی۔ حملے کی تحقیقات کا اجمال یہ ہے کہ اگست 2016 ءمیں خبر آئی کہ اس حملے کے تین ملزم پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

اس پس منظر میں نجم سیٹھی نے 2015 میں 20 اوورز کی پاکستان سپر لیگ کا اعلان کیا۔ چھ ٹیموں کے لئے سپانسر تلاش کیے گئے۔ ابتدائی برسوں میں بیشتر میچ دبئی میں کھیلے گئے۔ دھماکوں کی گونج اور بارود کی دہشت میں کرکٹ کا ذکر بھی خوشگوار معلوم ہوتا تھا۔ پی ایس ایل کی ایک ٹیم لاہور قلندر کا نام عجب رنگ سے سامنے آیا۔ پرجوش تعارفی موسیقی اور اس کے پس پشت فواد رانا کا کھلکھلاتا چہرہ۔ فواد رانا لاہور کی گلیوں سے اٹھنے والا کردار ہے، جوانی سیاسی آدرشوں، اجوکا تھیٹر اور موسیقی کی دھن میں گزاری۔

نامعلوم کب خلیج گئے۔ یہ معلوم ہے کہ ایک ورکنگ ماں کے ان بیٹوں نے کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کو فراموش نہیں کیا۔ قلندر کا لفظ ہی وارفتگی کا اشارہ دیتا ہے۔ پے در پے چار ایڈیشن میں مکمل ناکامی ملی مگر حوصلے کا یہ عالم کہ اس ناکامی سے پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام برآمد کیا جو چار برس میں پانچ لاکھ نوجوانوں کی صلاحیت پرکھ چکا ہے۔ مستحق کھلاڑیوں کو کرکٹ کا سامان ہی نہیں، علاج معالجہ اور روز گار تک فراہم کرتا ہے۔

رہنمائی فواد رانا کی رہی لیکن برسوں دن رات ایک کرنے والے عاطف رانا اور عاقب جاوید ہیں۔ لاہور قلندر کا چیف کوچ عاقب جاوید واقعی ایک قلندر ہے جو آزاد کشمیر سے کوئٹہ اور بہاولپور سے دادو تک گھنٹوں ایک ایک نوجوان میں صلاحیت ڈھونڈتا ہے۔ پی ایس ایل کے باقی پانچ سپانسرز کے سیاسی اور معاشی پس منظر سے قطع نظر، لاہور قلندر نے اپنے شہر کو نہیں، پاکستان کو اپنا سمجھا ہے۔ فخر زمان، شاہین آفریدی، حارث رؤف اور دلبر حسین جیسے کھلاڑی لاہور قلندر سے نکلے ہیں۔

اور اب عاطف رانا لاہور کے ہائی پرفارمنس سنٹر میں عالمی معیار کی سہولتوں سے نئے حنیف محمد، برائن لارا، راہل ڈریوڈ اور سعید انور ڈھونڈنے نکلا ہے۔ درویش نے اپنی دائمی مایوسی میں کہا کہ باؤلنگ ایک لمحے کا کرشمہ ہے۔ بیٹنگ گھنٹوں پر محیط ارتکاز مانگتی ہے۔ ایسا ارتکاز ہمارا اجتماعی اختصاص نہیں۔ عاطف رانا کی آنکھ میں چمک آتی ہے اور وہ کہتا ہے، ہمارے بچوں کو صرف موقع ملنا چاہیے۔ میں نے فلسفہ لپیٹ دیا اور کہا، عاطف پاکستان کو ہر شعبے میں لاہور قلندر چاہیے جو پاکستان کے بچوں سے محبت کرے اور ان پر اعتماد کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •