گورے مینیجر اور خاتون سفیر کا دکھ

لبرل اکنامکس پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شمالی یورپ کے ایک فلاحی ملک کی ایک سفیر نے راقم سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ممالک میں تو عوام کے درمیان پائی جانے والی تفریق کا تصور بھی جرم کے زمرے میں شمار ہوتا ہے جو وہ پاکستان میں دیکھ رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلتی ہوں اور ٹریفک اشاروں پر کھڑی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھی اشرافیہ پر نظر دوڑاتی ہوں جن کی کاروں کے شیشے صاف کرتے معذور لوگ اپنی زرد آنکھوں اور مایوس چہروں سے چند سکوں کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور آپ کے طاقتور لوگ انتہائی رعونت سے کاروں کے شیشے نیچے کیے بغیر آگے چل دیتے ہیں اور ذرا نہیں سوچتے کہ محروم طبقات کے افراد بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔

Read more

بھولے عوام کب سمارٹ ہوں گے؟

تیسری دنیا کے بیشتر ممالک جہاں غربت بیماری بے روزگاری اور معیشت سے جڑے ہوئے دیگر مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ الیکشن کے دنوں میں اور خاص طور پر پولنگ کے روز درجنوں لوگ لڑائی جھگڑوں میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔ اردگرد پر نظر دوڑائیں تو ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور برما جیسے ممالک ماضی میں ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے ، یہاں پر بھی

Read more

پیپلزپارٹی کی سیاست: کارکنوں کے لئے کوئی جگہ نہیں

اس پر دو باتیں پوری شد و مد کے ساتھ میرے ذہن میں آئیں۔ پہلی یہ کہ محترم زرداری اس کے علاوہ اپنی لاڈلی بیٹی کو اور کیا دے سکتے تھے؟ لین دین میں وہ بڑی مہارت رکھتے ہیں اور لازم ہے انہوں نے وہی کرنا تھا جو انہوں نے زندگی میں سیکھا ہے۔ کراچی کے بمبینو سینما کی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت سے لے کر اب تک کی تجارت کے معاملات کو وہ خوب جانتے ہیں۔

Read more

ایم آر ڈی شیطانی ٹولہ نہیں، قومی تاریخ کا روشن باب تھی

آج کا مضمون لکھنے کی تحریک موجودہ حکومت کے شہری ہوا بازی کے وزیر کے اس بیان سے ملی۔ جس میں انہوں نے عمران خان کی موجودہ حکومت کے لیے چیلنج بننے والے حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سابق دور آمریت میں بننے والے اتحاد ایم آر ڈی کو بھی نشانے پر لیا ہے اور اسے شیطانوں کے ٹولے سے تشبیہ دی ہے۔ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے۔ شاید یہ  فروری 1981ء

Read more

لکیر کے دُکھ اور گُم شدہ قصے

پاکستان اور ہندوستان آج سے تقریباً 75 برس قبل دو آزاد و خود مختار مملکتوں کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ دونوں ممالک نے اپنی آزادی پر کیا کچھ کھویا، اور پایا، اس کی اپنے ہاں ایک الگ داستان ہے۔

دونوں ریاستوں کی یہ علیحدگی صرف سرحدوں تک ہی محدود نہ رہی بلکہ دلوں تک کو ایک دوسرے سے جدا کر گئی۔ جہاں اور بہت سے علاقے جدا ہوئے۔ وہاں پنجاب کے دونوں حصے، مشرقی اور مغربی پنجاب کی جدائی کا دکھ اس حد تک زیادہ محسوس کیا گیا کہ اس کو یاد کر کے دل خون کے آنسو رلاتا ہے۔ ان تلخ یادوں کو اب مٹایا تو نہیں جا سکتا۔ ان میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔ اس غم و غصے کو دوستی میں بدلنے کے لئے ماضی میں کئی کوششیں کی گئیں۔

Read more