گورے مینیجر اور خاتون سفیر کا دکھ
لبرل اکنامکس پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شمالی یورپ کے ایک فلاحی ملک کی ایک سفیر نے راقم سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ممالک میں تو عوام کے درمیان پائی جانے والی تفریق کا تصور بھی جرم کے زمرے میں شمار ہوتا ہے جو وہ پاکستان میں دیکھ رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلتی ہوں اور ٹریفک اشاروں پر کھڑی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھی اشرافیہ پر نظر دوڑاتی ہوں جن کی کاروں کے شیشے صاف کرتے معذور لوگ اپنی زرد آنکھوں اور مایوس چہروں سے چند سکوں کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور آپ کے طاقتور لوگ انتہائی رعونت سے کاروں کے شیشے نیچے کیے بغیر آگے چل دیتے ہیں اور ذرا نہیں سوچتے کہ محروم طبقات کے افراد بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔


