ایک این آر او اپنے لیے۔۔۔

عاصمہ شیرازی - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزرتا ہر لمحہ آنے والے ہر پل کا اشارہ دیتا ہے۔ جانے والے ہر لمحے کی ڈور میں آنے والے کئی لمحات بندھے ہوتے ہیں۔ ہر آہٹ جہاں اگلے قدم کا پتہ دیتی ہے وہیں چال کا نشان بھی۔

سیاست کے امکان اور امکان کی سیاست دونوں اپنی اپنی جگہ خود بناتے ہیں۔

بدنام زمانہ لفظ ’این آر او‘ کو دوسرے لفظوں میں ’سیاست کے امکانات‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں تقریبا ہر آمرانہ دور سے کوئی نا کوئی حکومت مخالف تحریک اور پھر کسی نا کسی قسم کی مفاہمت جنم لیتی ہے۔

گویا ہر غیر آئینی دور کسی نیم آئینی امکان سے وجود پاتا ہے اور یوں بار بار معطل ہونے والے آئین کی بحالی کی جانب سفر پھر نئے سرے سے شروع ہو جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ہم ہر بار اُسی موڑ پر آ کھڑے ہوتے ہیں جہاں ہمیں اپنے شرمناک ماضی میں جھانکنا پڑتا ہے۔

ہاتھ سے پھسلتی اقتدار کی چھڑی کو قابو میں لانے کے لیے جنرل ضیا الحق کو محمد خان جونیجو کو نیم جمہوری نظام دینا پڑا۔ اور پھر جونیجو صاحب نے ضیا الحق کو جمہوری این آر او دیا جبکہ بے نظیر بھٹو نے نظام کو آئینی راستہ دکھایا۔

ستم ظریفی یہ کہ سیاست دانوں کو دیا جانے والا این آر او جرم اور آمروں کو دیا جانے والا این آر او جائز قرار پایا۔ آمروں کا نہ تو میڈیا ٹرائل ہوتا ہے اور نہ ہی عدالتی کٹہرے اُن کے منتظر۔

جنرل مشرف کا این آر او ذرا مختلف تھا۔ سیاسی اور غیر سیاسی مقدمات جنھیں اپوزیشن انتقامی مقدمات سے تشبیہ دیتی ہے سے جان چھڑانے یا امکان کی سیاست کے نئے باب کے طور پر ایک اور مفاہمت دیکھنے کو ملی تاہم اس بار بھی اس مفاہمت یعنی این آر او کو میڈیا میں اپوزیشن کے یک طرفہ گُناہ کے طور پر ہی دیکھا گیا اور وہ سنگ باری کی گئی کہ امکان کی اس سیاست کو این آر او کے تابوت میں دفن کر دیا گیا۔

ضیا

BBC
ہاتھ سے پھسلتی اقتدار کی چھڑی کو قابو میں لانے کے لیے جنرل ضیا الحق کو محمد خان جونیجو کو نیم جمہوری نظام دینا پڑا

اچھا ہوا کہ سیاست دانوں کو کٹہرے میں کھڑا ہو کر اس جُرم کا حساب دینا پڑا مگر این آر او کے اس یکطرفہ احتساب پر تاریخ کو کبھی نا کبھی تو مداخلت کرنا ہو گی۔

کیا یہ سچ نہیں کہ جب جب سیاست دانوں نے این آر او لیا تب تب دراصل آمروں کو این آر او دیا گیا۔ این آر او کے ان کمزور سیاسی پارٹنرز نے ہمیشہ کمزور پڑتے آمروں کو باعزت واپسی کا راستہ فراہم کیا یا یوں کہیے کہ قوم کے وسیع تر مفاد میں سیاسی نظام کے جنازے کو کندھا دیا۔

یہی وہ تلخ ماضی ہے جس کی کڑواہٹ پاکستان کے سیاسی نظام میں آج بھی محسوس ہو رہی ہے۔

ایک بار پھر این آر او دینے اور لینے سے متعلق بات ہو رہی ہے۔ ایک بار پھر کمزور معیشت اور سیاسی بحران، تقسیم در تقسیم ہوتا معاشرہ اور بے جان سیاسی نظام کا ڈھانچہ فقط چند سہاروں پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزرو اکائیاں اور نحیف ستون ریاست کو دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ گروی رکھے اثاثے چلتی سانسوں کی قسطیں ادا کر رہے ہیں۔ مایوسی، نا اُمیدی کے سائے طویل اور صبر کے دامن مختصر ہو رہے ہیں۔

بھلا اُمید بنا زندگی کیسے چل سکتی ہے؟ امکان بغیر سیاست کا وجود ہی کیا ہے؟ ایک بار پھر سہاروں کو سہاروں کی ضرورت ہے۔ بات معاشی اشاریوں سے عوام کے غیض و غضب تک پہنچ رہی ہے۔ حالات بے قابو ہونے سے پہلے کسی نئی اُمید کا دلاسہ تو دینا ہی ہو گا ورنہ اب کی بار کوئی کسی کو کندھا نا دے سکے گا۔

اس بات کا احساس مقتدروں کو نہیں ہو گا تو اور کس کو ہو گا، ہو سکتا ہے اس بار بھی کوئی این آر او ہو جائے، یہ مفاہمت کسی کے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہو یا نہ ہو ریاست کو محفوظ بنانے کے لیے ضرور ہو سکتی ہے۔

مثلث کی تیسری ملاقات میں بھی فقط ریاست ہی بولتی دکھائی دی، اب کی بار حکومت کو سُننا پڑے گی۔ شاید کپتان پھر این آر او نہ دینے کا اعلان کرے مگر یہ این آر او اپوزیشن کو نہیں خود کو دینا ہو گا۔۔۔ اب کی بار ’ایک این آر او اپنے لیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •