ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور “کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کسی شاعر کا مسلسل ایک ہی ڈھب سے لکھا ہوا کلام بار بار پڑھیں تو کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ ہر بار اسے داد دیں؟

یا پھر کوئی مُصنف جو ایک ہی چیز ایک ہی موضوعِ کو زیرِبحث لائے، اور بار بار ایسے کرتے ہوئے بھی وہ اتنی ورسٹائلٹی کے ساتھ حقائق سے روشناس کروائے کہ لُطف آ جائے۔

تب تو آپ بھی یقیناً میری طرح اس مُصنف / مُصنفہ کے عشق میں مبتلا ہو جائیں گے۔۔۔۔۔کچھ ایسا ہی حال ادھر ہے۔

کہ اِن دنوں میں بھی ایک ایسی مصنفہ کو تفیصلاً پڑھ چُکی ہوں جن کے اولین مضامین پڑھنے کے بعد ہی ان کی ذات اور فن کے سِحر سے باہر نکلنا کم از کم میرے لیے ناممکن تھا۔

اور اب جبکہ انکی حالیہ کتاب “کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ” ادبی حلقوں میں پڑھی اور سراہی جا رہی ہے تو اس پہ بات کرنا ازحد ضروری سمجھا۔

بات چلی ہے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی۔۔۔۔۔

 ڈاکٹر طاہرہ کاظمی دنیائے ادب میں دو سال پہلے وارد ہوئیں۔

 اور خُوب لکھ رہی ہیں۔۔۔ اتنے کم عرصے میں یہ دبنگ انداز قاری کویقیناً چُونکنے پہ مجبور کرتا ہے۔

 اور حیرت یہ کہ ایک ہی موضوع “عورت”

عورت

 اور بس عورت

انکے مسائل معاشرتی ناہمواریاں، عورت سے جنسی امتیازاور رسم ورواج کے نام پر عورت کو بھینٹ چڑھا دینا۔۔۔ یہ وہ موضوعات ہیں جن پہ اُنہوں نے کمال خُوبی اور مہارت سے لکھا ہے۔

تمام مضامین میں تیسری دنیا میں عورت پہ ڈھائے جانے والے مظالم اور اس کی ذات کی شکست وریخت کو سلیقے سے بیان کرنا یہ ڈاکٹر صاحبہ کا خاصہ ہے۔۔

سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ ایسی خاتون جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہوں، یعنی ایسا پیشہ جہاں آپ کو اپنے لیے وقت نکالنا مشکل ہو۔ ایسے میں حالاتِ حاضرہ پہ نظر، کتابوں کا مطالعہ اور پھر لکھنا اور وہ بھی اتنی خُوبی سے۔

سائنسی اور فلسفیانہ بُنیادوں پر اپنے موقف پہ دلائل پیش کرنا۔ اس پر داد تو بنتی ہے نا صاحبو!۔۔۔۔۔۔

اگر آپ عورت ہیں۔

اور عورتوں پہ لکھی اب تک کی ایک بہترین کتاب پڑھنا چاہتی ہیں تو لازمی پڑھیے۔

(مرد بھی پڑھیں لیکن بچ بچا کے اور ذہنی وُسعت کے ساتھ کہ حقائق سے پردہ اُٹھاتی یہ کتاب آپ کے لیے دل آزاری کا باعث نہ بنے )

عورتوں کی نمائندگی کرنے اور اپنے حقوق کے لیے جنگ کرتی عورتوں کو باغی، فیمینسیٹ اور غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے طعنے ملنا عمومی رویہ ہے۔

باغی عورت کی تعریف ڈاکٹر صاحبہ کے مطابق ملاحظہ کیجیے۔

“باغی عورت کو بستر چُبھتا ہے جب اسے خیال آتا ہے کہ اس بچی کی لاش کُوڑے کے ڈھیر پہ کھلے آسمان کے نیچے برہنہ تھی۔۔جب ننھے سے جسم کو کُتوں نے پیٹ بھرنے کے لیے بھنبھوڑا تھا، اس لمحے باغی عورت کو اپنے جسم پہ نوکیلے دانت محسوس ہوتے ہیں۔ سرد تاریک رات کا اندھیرا اور بے رحم آسمان روح میں غم کا بھاری پتھر اُتارتا ہے۔۔۔۔

اگر روزِ قیامت آپ نے اپنے حصے کے سچ کا روزنامچہ پیش کرنا ہے تو ہم سے تھوڑی سی آگ مُستعار لیجیے۔اور دیکھیے کہ زندگی کی تاریک راہوں میں حق کے دیپ کیسے روشن کیے جاتے ہیں۔ اور سنگ باری کے باوجود روح فرحت وانبساط کی کن بُلندیوں پہ پرواز کرتی ہے۔

(بھیگے پروں والی چڑیا، ہماری بیٹیاں اور مشرق کے منافق دیوتا)

چلیے ڈاکٹر صاحبہ کے ایک مضمون کے توسط سے پڑھیے ایک جدید ٹرم Himpathy جسے متعارف کروایا ہے کورنل یونیورسٹی کی فلاسفر پروفیسر kate .A.Manne نے۔۔

“یہ وہ ناجائز اور بے حقیقت ہمدردی ہے جو مساجونسٹ (misogynist) مردوں کو عورت پہ ہر طرح کا ظلم ڈھانے کے باوجود دی جاتی ہے”

“پِدرسری معاشرے کا بدصورت سچ جہاں مرد کسی بھی صورتِ حال سے بر الزمہ اور عورت ہر حال میں گھٹیا قصُور وار اور مجرم”

ایسےجوڑے دیکھے جو آپس میں میل نہ کھاتے تھے پر دونوں ایک دوسرے پہ فریفتہ تھے۔ وہ راز پا چُکے تھے کہ جب من و تو کا فرق مٹ جائے تب اندر کی آنکھ بیدار ہو جاتی ہے۔۔۔ اور سامنے والے کے اندر کا حال دیکھتی ہے۔

باقی سب مایا ہے۔

کالم: شوہر بدصُورت ہو تو عورت زہر کھالے؟

(اگر بیوی بدصورت ہو تو مرد قُربت سے پہلے نشہ کر سکتا ہے۔۔۔مراکش کے امام کے فتوی پر لکھا گیا ڈاکٹر صاحبہ کا کالم)

اور یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں ڈاکٹر صاحبہ ایک نامور اور خُودپرستی کے زُعم میں مُبتلا مصنف کو لتاڑ رہی ہیں

“یہ تم نے کس خُمار آلود لمحے میں یہ مغالطہ پال لیا کہ تم پر ادب اترتا ہے۔۔۔ نازل ہوتا ہے۔

دراصل تم جہالت کے نزلے میں مبتلا ہو۔

ادب انسانی شعور کی اعلی ترین سطح پر تخلیق کیا جاتا ہے۔

اُترتا تو موتیا ہے ان آنکھوں میں جو عورت اور مرد کی مساوات سے کھلنے والے امکانات دیکھنے سے قاصر ہیں!

(طاہرہ عبداللہ زندہ باد)

۔۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ ہم سب کے ذخیرہ کتب میں ایک اچھے اضافے کے لیے شکریہ۔۔

شکریہ ایک نئی ٹرم Himpathy سے مُتعارف کروانے کے لیے۔

ہمارے دلوں میں جینے کی اُمنگ جگانے کے لیے۔

یہ احساس دلانے کے لیے کہ بحثیت عورت ہم کمزور نہیں، طاقتور ترین ہستیاں ہیں کہ ہم تخلیق جیسے جان لیوا عمل کے لیے چُنی گئیں۔

مجھے ڈر ہے کہ اس کتاب میں معاشرے کے ننگے سچ اتنے دبنگ انداز سے بیان کرنے پر کہیں منٹو کی طرح آپ پہ بھی فتوے نہ لگیں۔

لیکن دوسری طرف آپ کو جتنا پڑھا اور جانا ہے امیدِ واثق ہے کہ آپ جیسی آہنی اعصاب والی خاتون ان سے ڈرنے والی ہرگز نہیں۔۔۔۔

ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب میں شامل مایا اینجلو کی نظم پڑھیے اور بھر پوُر لُطف لیجیے۔۔۔۔

“صبح کی دہلیز پر”

تم میرا نام تاریخ میں لکھ سکتے ہو

تلخ جھوٹ کیساتھ

تم مجھے خاک میں ملا سکتے ہو

لیکن میں پھر اُٹھوں گی

کیا تم مجھے بکھرا ہوا دیکھنا چاہتے ہو؟

جھکا ہوا سر اور نیچی نظر

آنسووں کی طرح گرتے ہوئے کندھے

رُوح سے اُٹھتی سسکیاں

تُم مجھے اپنے الفاظ سے قتل کر سکتے ہو

تُم مجھے اپنی نفرت سے مار سکتے ہو

لیکن پھر بھی ،ہواکی طرح،میں پھر اُٹھوں گی

دہشت بھری راتوں کو بھولتے ہوئے

میں اُٹھتی ہوں

ایک روپہلی اُمید بھری صبح میں

میں اُٹھتی ہوں

اپنے آباو اجداد کا اثاثہ لیے

میں غلامی کا ترک کیا ہوا خواب اور نئی امیدہوں

میں اُٹھتی ہوں

میں اُٹھتی ہوں

میں اُٹھتی ہوں

(مایا اینجلو)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زریں منور کی دیگر تحریریں