تقدیر کی گہرائیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایف ایس سی کے دنوں کی بات ہے۔ گرمیوں کی ایک خوشگوار صبح تھی وہ۔ گلیوں میں چھاؤں کی ٹھنڈی چادر بچھی ہوئی تھی۔ دھوپ دیواروں سے نیچے کو بہنا شروع ہو چکی تھی۔ میں معمول کے مطابق اپنے سٹڈی روم میں پہنچ گیا۔ کام ہمیشہ کی طرح آپس میں گتھم گتھا تھا۔ میں سرا ڈھونڈنے لگا۔ اچانک میری بہن کمرے میں داخل ہوئی۔

”تمھیں ظفر بلا رہا ہے باہر،“ اس نے کہا۔
”مم، اچھا۔“ گویا سرا ہاتھ آ گیا۔

میں باہر کے دروازے کی طرف جانے لگا۔ میں ظفر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ایک مسکراتا ہوا شریف انسان۔ کئی سال پہلے جب یہ لوگ ہمارے ہمسایے میں آئے تھے تو ظفر اپنے دروازے کے باہر فیروزی کپڑوں میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔ تب پہلی بار میں نے اسے دیکھا تھا۔ اب میں باہر آ چکا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے کھڑا ظفر زیر لب خندہ زن تھا۔

نہیں! یہ وہ ظفر نہیں تھا جسے میں نے پہلی دفعہ فیروزی کپڑوں میں دیکھا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک غیر ارادی مسکراہٹ ضرور تھی لیکن اس کی آنکھوں میں گمبھیر اداسی تھی۔

”یار یہ آپ نے لکھا ہے؟“ اس کے اس پر سکون سوال نے مجھے پریشان کر دیا۔

”ہاں۔“ میرے اس مختصر جواب کے پیچھے کئی سوال قطار بنائے کھڑے تھے۔ میرے کاغذوں میں سے یہ صفحہ کب غائب ہوا؟ کیسے ظفر اور کے گھر پہنچا؟ اسے کیا ضرورت پیش آئی کہ اس معمولی سے کاغذ کو لے کر میرے پاس آئے؟ ان تمام سوالوں کو روکتے ہوئے میں نے فقط یہی پوچھا:

”کیوں؟ کیا ہوا؟“

”یار لوگ بھی ایک بات کا کیا سے کیا مطلب نکال لیتے ہیں!“ اس کی آنکھوں کی غمگینی میں تسکین کی نمی گھلتی ہوئی محسوس ہوئی۔

”پر یار کچھ بتاؤ تو سہی!“ میری بیتابی انتہاؤں کو چھونے لگی۔

”آپ کا بہت بہت شکریہ!“ کاغذ میرے ہاتھوں میں تھما کر وہ چلا گیا۔ میں وارفتگی کے عالم میں کاغذ کو تکے جا رہا تھا۔

معمولی سے کاغذ پر اقبال کا ایک شعر لکھا ہوا تھا۔ اور اسی کے مطابق میں نے ہلکی پھلکی ڈرائنگ کی ہوئی تھی۔ وہ شعر یہ تھا:

ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی
کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا

میں نے کاغذ اپنی جیب میں رکھ لیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ دن معمول کے مطابق گزر گیا۔ رات کو ظفر کے گھر سے پھر بلاوہ آ گیا۔ اس بار اس کا بھائی تھا۔ یا الہی! یہ ماجراکیا ہے؟ میں نے داد رسی کی۔ لیکن اب میں خود بھی اس معمے کو سلجھانے کا خواہاں تھا۔ اس کے بھائی کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا۔ تاریک دیوڑھی سے ایک میلے سے پردے کو ہٹاتا ہوا میں اندر داخل ہوا۔

صحن کا فرش جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا۔ اس میں چارپائیاں لگی ہوئی تھیں۔ سامنے برآمدے میں واحد بلب روشن تھا۔ اپنے حال سے یکسر مایوس۔ برآمدے میں گندم کی بوریوں کے پہلو میں بکریاں چارہ کھا رہی تھیں۔ برآمدے کے ساتھ دو کمرے تھے۔ جو جڑواں ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے وجود سے غافل تھے۔ صحن میں بیری کا ایک اجڑا ہوا درخت تھا۔ اس کی سسکیوں کی آواز بخوبی سنی جا سکتی تھی۔ اس بیری کے نیچے ظفر، اس کے والدین اور بہن بھائی تین چار چارپائیاں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سب میرے منتظر تھے۔ مجھے گھبراہٹ محسوس ہونے لگی۔

”آؤ بیٹا!“ ظفر کے ابو نے اپنائیت سے کہا۔ اس کے بعد صبح والا سوال دہرایا گیا۔

میں نے کچھ کہے بغیر کاغذ جیب سے نکالا اور اس کی تہیں درست کرنے لگا۔ سب مجھے اشتیاق سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے خاموشی کی سیل توڑتے ہوئے کہا:

”یہ ایک معمولی سی چیز ہے، انکل۔ اس میں ایک شعرلکھا ہوا ہے۔ اس کے مطابق کچھ تصویریں بنائی گئی ہیں۔ یہ دیکھیں، یہ ایک تلوار ہے، جو سمندر سے نمودارہو رہی ہے۔“ میری حالت عدالت میں بیان دینے والے ایک شخص کی سی تھی۔ جسے سب تشکیک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

”مجھے بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے؟“

”بس بیٹا، آپ کو کیا بتائیں! ہمیں لگا کہ ہم پر کسی نے تعویذ کر دیا ہے۔ کل جب میں بیری کے نیچے سے موٹر سائکل نکالنے لگا تو یہ اس کی شاخ پر ایک جگہ رکھا ہوا تھا۔ بیٹا، ہم پر برا وقت نازل ہوا ہوا ہے۔ گھر میں ہر وقت لڑائی رہتی ہے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں لگا کہ۔“

میرے خدا۔ میں سر جھکائے بڑبڑا رہا تھا۔ اور اب معاملے کی تہہ میں پہنچ کر اس سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”انکل، میں ان تعویذ وغیرہ پر یقین نہیں رکھتا۔ اللہ پر بھروسا رکھیں۔ وہی کارساز ہے۔ یہ تو میں کرتا رہتا ہوں۔ ظفر جانتا ہے۔ پتہ نہیں کیسے آپ کے گھر۔“

”بیٹا، ہو سکتا ہے آپ کی بات سچ ہو۔ لیکن ہم پر کسی کی بد نظر لگ گئی ہے۔“ میرا وہاں مزید ٹھہرنا غیر ضروری تھا۔

”اچھا بیٹا، آپ کا بہت بہت شکریہ! ہم نے آپ کو تکلیف دی۔“
”انکل، کوئی بات نہیں۔“ میں مختصر سا کلام کر کے واپس آ گیا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔

کچھ دن بعد گلی میں میرا ظفر سے آمنا سامنا ہوا۔ اس نے مجھے روک لیا۔ میں نے اس کے گھر کی خیریت دریافت کی تو وہ جذبات میں بہ گیا۔

”یار، آپ کو تو پتہ ہے، میرے امی ابو کی ہر وقت لڑائی رہتی ہے۔ وہ تعویذ والی بات بھی اسی لئے ہوئی تھی۔“ اس نے اپنے دل کی بھڑاس نکال دی۔

”یار، آپ کوشش کیا کرو کہ گھر کا ماحول خوش گوار رہے“

”میں نے قسم کھائی ہے۔ ان کے درمیاں صلح کروا کے رہوں گا۔ چاہے مجھے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے!“

میں حیرت بہ دندان اس کے لفظوں پر غور کیے جا رہا تھا: چاہے مجھے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے! اس نے ایک دفعہ کہا مگر اس کی گونج مجھے بار بار سنائی دی اور پھر لاشعور میں کہیں دب کر رہ گئی۔

وہ 14 اگست کا دن تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ آزادی کا سورج آہستہ آہستہ مغرب کی دوسری جانب خاموشی کی پراسرار دنیا میں ڈوب گیا۔ اب رات ہو چکی تھی۔ میں صوفے پر بیٹھا ایک کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا۔ میرے کانوں میں ایک ہلکا سا شور داخل ہوا۔

”یہ کیا ہے؟“ میں نے پیر قالین پر مارتے ہوئے پاس بیٹھے کزن سے پوچھا۔ اس کے چہرے پر بھی یہی سوال تھا۔ ہم قریب قریب دوڑتے ہوئے باہر کے دروازے پر آ نکلے۔ گلی میں ایک بلب روشن تھا۔ کچھ لوگ کھڑے تھے۔

”کیا ہوا؟“ میں نے پوچھا۔ وہ میری طرف متوجہ ہوئے۔
”وہ جو ظفر تھا ناں!“
”ہاں! ہاں!“

”اس کا اکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا ہے!“ سامنے گھر سے اٹھتی ہوئی نحیف سسکیاں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں۔ اپنے درد کو میں چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بانٹ رہا تھا۔ تقدیر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے؟ ہر چیز کو فنا ہو جانا ہے۔ جیسے اللہ کی منشا۔

ہم دروازے پر کھڑے سوگ میں شامل تھے۔ اڑوس پڑوس کی خواتین جوق در جوق ظفر اور کے گھر پہنچنا شروع ہو گئیں۔ میں پلٹ کر اندر آ گیا۔ میں نے کتاب کھول لی اور صفحوں کو گھورنے لگا: فیروزی کپڑوں میں مسکراتا ہوا شریف انسان۔ میں نے پوری قوت سے کتاب بند کر دی۔ گویا، میں اس تصور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس صفحے پر قید کرنا چاہتا تھا۔ ظفر کا مسخ چہرہ۔ لیکن میں اپنے مختل دماغ کو کھوپڑی سے باہر نہیں نکال سکتا تھا۔ میں دروازے پر آ گیا۔

نعش پہنچ چکی تھی اور گلی کے نکڑ پر نیم کے سائے تلے ایک ڈالے میں رکھی ہوئی تھی۔ وہ لوگ نعش کو لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ جہاں تکفین و تدفین کے عمل کو سر انجام دے سکیں۔ مجھے ایسا لگا کہ ظفر کے ساتھ اس کا سارا خاندان ابھی اس ڈالے میں دفن ہو جائے گا۔ لوگ ظفر کا آخری دیدار کر رہے تھے۔ میری امی اسی طرف سے آ رہی تھیں۔

”جاؤ، ظفر کو آخری بار دیکھ لو۔“

میں نے انکار کر دیا۔ میں ایسا کیسے کر سکتا تھا! ظفر کی ہنستی ہوئی شریفانہ یاد کو ہمیشہ کے لئے مسخ نہیں کر سکتا تھا۔ یا پھر۔ کیا پتہ! اس کا زخمی وجود ایک دم کھل اٹھے، فیروزی سوٹ میں۔ ایک بے رحم سرد لہر میرے سارے وجود میں دوڑ گئی۔

گلی میں کافی رش تھا۔ سب سے آخر میں ظفر کے ابو گھر سے نکلے۔ ساتھ سیاہ برقعے میں لپٹی سسکیاں بھرتی ہوئی ظفر کی امی تھیں۔

”نو جوان بیٹے کی موت کا دکھ!“ ایک عورت نے تبصرہ کیا۔
”بے چارے نے ابھی دیکھا ہی کیا تھا!“ دوسری بولی۔
”اللہ اسے جنت نصیب کرے!“ ۔
”بس کر۔ نہ رو!“ ظفر کے ابو اس کی امی کو سہارا دیتے ہوئے میرے سامنے سے گزر رہے تھے۔
”بس۔ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ نہ رو۔ نہ۔“

”میں نے قسم کھائی ہے، ان کے درمیاں صلح کروا کے رہوں گا، چاہے مجھے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے!“ میں چونک پڑا۔ یہ ظفر کی آواز تھی۔ وہی ظفر جو اب اس دنیا میں نہیں تھا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •