لاہور کی طالبہ کی موت بمقابلہ 178 اموات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل سے سوشل میڈیا پہ ایک جواں سال لڑکی کی موت/قتل کے حوالے سے بہت شور ہے۔ لاہور میں ملنے والی لاش جس کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اسقاط حمل کے دوران پیچیدگی ہونے سے مرنے والی لڑکی کی ہے۔ اس کی لاش وہاں پھینک کر جانے والے لڑکے کا کہنا ہے کہ وہ اس کا دوست تھا اور ایک اور شخص کے ہمراہ اس کو طبی امداد دلوانے اسپتال لارہا تھا لیکن لڑکی اسپتال پہنچنے سے پہلے مر گئی اور وہ دونوں اس کی لاش پھینک کر فرار ہو گئے۔ دوسرا شخص تاحال لاپتہ ہے۔

اس خبر کے بعد سے پوری قوم میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ کئی مختلف قسم کی بحثیں چھڑ گئیں۔ کچھ نے میڈیا کو فحاشی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا، کچھ نے ساری نئی نسل کو یوں لعن طعن شروع کر دی جیسے ان میں سے ہر کوئی جنسی جرائم کا عادی ہے، کوئی تعلیم کو الزام دے رہا ہے ، کوئی دیر سے شادیوں کو، کوئی دین سے دوری کو، کوئی جنسی تعلقات کے متعلق شعور کی کمی پہ افسوس کر رہا ہے۔ کسی نے مکمل عورت ذات کو مجرم ٹھہرا دیا تو کسی نے سارے مردوں کو۔

لیکن کسی نے بھی معاملے کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہ تعلق اس لڑکی کی مرضی سے بنایا گیا تھا تو اسے اتنے خطرناک طریقے سے ابارشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر وہ اپنی مرضی سے اس گناہ میں شامل تھی تو حمل ہونے کی گنجائش کیوں رہی؟ جس کی وجہ سے وہ اس حال پہ پہنچی وہ خود کہاں ہے؟

ایک لڑکی جو اتنی تکلیف دہ موت مری ، کیا اتنا حق نہیں رکھتی تھی کہ آپ چند لمحے اسے معصوم/بے گناہ سمجھ کے حالات کا جائزہ لیں؟

کسی کو والدین کی عزت کا زیادہ خیال ہے ، کسی کو ملک و ملت کی، جو مرگئی اس کی نہ زندگی کی فکر ہے نہ اس کی تکلیف کا احساس۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہی ملک ہے ، یہی ہماری بچیاں ہیں اور ہر سال دوران زچگی ہر ایک لاکھ میں سے 178 لڑکیاں موت کا شکار ہو جاتی ہیں ، تقریباً تیس ہزار لڑکیاں حمل کے دوران موت کے منہ میں پہنچ جاتی ہیں۔ جن میں سے ستر فیصد اٹھارہ سال سے کم عمر ہوتی ہیں۔ لیکن کیوں کہ یہ اموات ایکسٹرا میریٹل ریلیشن کی وجہ سے نہیں ہوتیں، چوں کہ ان اموات پہ نکاح کا ٹھپا زبردستی چپکا دیا گیا ہے ، اس لیے ان اموات پہ کوئی غم و غصے کا اظہار نہیں ہوتا۔ ان کی روک تھام کے لیے کوئی جذباتی تقاریر نہیں ہوتیں۔

لیکن رکیے جذباتی تقاریر اور جذباتی اقدامات ہی تو نہیں چاہییں۔ کئی سال بعد کوئی ایک اسقاط حمل میں ہونے والے موت ہو یا دوران زچگی ہر سال ایک لاکھ میں سے ایک سو اٹھہتر اموات ہوں ، ہمارے مسائل کا جذباتی حل نہیں چاہیے۔ نہ ان ایک سو اٹھہتر سالانہ اموات کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیاں روکی جا سکتی ہیں ، نہ ہی ایسے کیس میں جس میں آپ کے خیال میں لڑکی نے گناہ کیا تھا اور اس کو چھپانے کے لیے ابارشن کروایا اور پیچیدگی کی وجہ سے مر گئی ، لڑکیوں کی تعلیم روکنا یا فوراً شادی کروانا یا کسی بھی قسم کا کوئی ہنگامی قانون بنانا عقلمندی ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ بیٹیاں جب اپنے فیصلے کی بنیاد پہ موت کے منہ میں جاتی ہیں بلکہ صرف بیٹیاں نہیں اولاد جب اپنے ذاتی فیصلے کی بنیاد پہ نقصان اٹھاتی ہے تو ہم کیوں اعتراضات اور الزامات کی توپیں چلا دیتے ہیں لیکن جب ان پہ مسلط کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں وہ موت کی منہ میں پہنچتے ہیں تو بطور معاشرہ ہمیں سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے؟

جنسی بے راہ روی کا حل تو آپ نے جلدی شادی نکالا اور جلدی شادی سے ہونے والی اموات کی کوئی فکر نہیں؟

آپ اولاد کی جلدی شادی کروانا چاہتے ہیں یا دیر سے، آپ جنسی تعلق کو شادی کے بغیر درست سمجھتے ہیں یا شادی کے بعد ، صرف اتنی گزارش ہے کہ اولاد کی ذہنی و جسمانی صحت کو اولیت دیں۔ ان کو شعور و آگاہی دیں۔ جنسی مسائل سے آگاہی آپ کی اگلی نسل کو ان تمام مسائل سے بچائے گی جن سے آپ ایسی خبریں پڑھ کے ڈرتے ہیں اور یہ ڈر آپ کو واویلا مچانے پہ مجبور کرتا ہے۔

جنسی تعلیم و آگاہی میں سب سے بنیادی بات ہی جنسی جرائم سے بچاؤ ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے میں جب ان کی شادی ہو جائے تو بھی انہیں پتا ہوتا ہے کہ اپنی جنسی و تولیدی صحت کا خیال کیسے رکھنا ہے۔ شادی کے فوراً بعد زندگی داؤ پہ لگا کے ایسی نسل وجود میں لانے کی ہرگز ضرورت نہیں ، جس کی تعلیم و تربیت کے لیے نہ آپ کے پاس وقت ہو، نہ شعور نہ وسائل۔

ہمیں جذباتی شور و غل چھوڑ کے مسائل کی بنیاد سمجھ کے مسائل حل کرنے ہوں گے ورنہ اسپتال کے پاس سے لاش تو شاید اب نہ ملے لیکن ہر سال ہر ایک لاکھ میں سے ایک سو اٹھہتر بیٹیاں موت کے منہ میں جاتی رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 93 posts and counting.See all posts by absar-fatima