بڈو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ کالا بورڈ میں گندے نالے کے پل کے نیچے پیدا ہوا تھا۔ وہی ملیر والا کالا بورڈ، بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ کالا بورڈ کے بس اسٹاپ کا نام کالا بورڈ کیوں ہے۔ بہت پہلے جب لانڈھی اور کورنگی کے صنعتی علاقے نہیں بنے تھے تو ائرپورٹ سے آنے والی پتلی سی سڑک پر جو ملیر سٹی کی طرف جاتی تھی، سعود آباد موڑ پر ایک بڑا سا کالے رنگ کا سیمنٹ کا بورڈ بنایا گیا تھا جس پر اس پورے علاقے کا نقشہ بنا ہوا تھا کہ مکان کہاں ہوں گے، اسکول کدھر بنے گا، پارک، اسپتال، کمیونٹی سینٹر، کھیل کے میدان اور تجارتی مرکز کدھر کدھر ہوں گے۔ پھر بس کے کنڈکٹروں نے اس جگہ کا نام ہی کالا بورڈ رکھ دیا تھا۔

ایک دن ملیر ندی سے آنے والا بجری کا ایک ٹرک بے قابو ہو گیا اور اس بڑے سے کالے سے بورڈ سے ٹکرا گیا۔ ٹرک اور کالا بورڈ دونوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ کالا بورڈ ٹوٹ پھوٹ کر زمین سے ملتا گیا تھا اور پھر نام رہ گیا تھا۔ آج تک اس بس اسٹاپ کا نام کالا بورڈ ہی ہے۔

ملیر سعود آباد کا نقشہ بدل گیا ہے۔ پارکوں کی جگہ پر مسجد اور دکانیں بن گئی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کی جگہ پر بلڈنگیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ کھیل کے میدانوں پر پیدا گیروں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ بھلا ہو اس ٹرک کا جس نے اس اصل بنے ہوئے نقشے کے کالے بورڈ کو گرا دیا اور آج کے کونسلروں، صوبائی قومی اسمبلی کے ممبروں اور کے ڈی اے، کے ایم سی کے اہلکاروں کو شرمندگی سے بچا لیا ہے۔

کالا بورڈ پر ہی سعود آباد سے آنے والا نالہ سڑک کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہ سے ملتا ہے اور قومی شاہراہ کے نیچے سے گزر کر کراچی سے آنے والی ریلوے کی پٹری کے ساتھ بہنے والے نالے میں مل جاتا ہے۔ یہ نالہ عام دنوں میں اتنا ہی بھرتا ہے کہ سڑک اور پٹری کے درمیان ہریالی برقرار رہتی ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو یہ نالہ ابل پڑتا ہے۔ اب تو دونوں جانب سے دو رویہ سڑکیں بن گئی ہیں اور نالے کے اوپر پختہ چھت بنا دی گئی ہے جس پر ٹھیلے والے پھلوں، پکوڑوں، پان اور مچھلی کی دکانیں لگاتے ہیں۔ پہلے بہت پہلے اس نالے میں برسات کے زمانے میں گلی کے بچے نہایا بھی کرتے تھے۔ یہ کہانی اسی زمانے کی ہے۔

پانچ بچوں میں صرف وہی کالا تھا۔ اس کی ماں اور بقیہ چار بھائی بہن بھورے رنگ کے تھے۔ وہ پانچوں اپنی ماں کے پیچھے پیچھے پھرتے رہتے تھے جو ادھر ادھر اپنے پانچوں بچوں کی رہنمائی کرتی رہتی تھی کہ غذا کہاں ملے گی۔ زندہ کیسے رہا جائے گا۔ پیدا ہونے کے ساتھ ہی زندہ رہنے کی جدوجہد شاید فطری جبر ہے، انسان ہوں کہ جانور۔ یہ بات جانور فوراً ہی سمجھ لیتے ہیں مگر انسان کے بچے کو یہ بات بہت دیر سے سمجھ میں آتی ہے اور جب وہ سمجھ لیتا ہے تو صرف زندہ نہیں رہنا چاہتا ہے بلکہ بہت شان سے زندہ رہنا چاہتا ہے اور وہ سب کچھ کرتا ہے جو جانور سوچتے بھی نہیں ہیں اور شاید سمجھتے بھی نہیں ہیں۔

میں بہت چھوٹا تھا اور اسکول میں پڑھتا تھا۔ اس دن وہ سب کچھ میرے سامنے ہوا۔ دوپہر کے وقت میں اسکول سے گھر واپس آ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ دوپہر کی تپتی ہوئی دھوپ میں وہ پانچوں اپنی ماں کے ساتھ ریل کی پٹری کی طرف سے کالا بورڈ پر سڑک پار کر کے شاید گندے نالے کے پل کے نیچے سائے کی تلاش میں جا رہے تھے۔ یہ عام سی بات تھی۔ مسافر ٹرینوں کے گزرنے کے بعد عام طور پر کتے مسافروں کے پھینکے ہوئے کھانے کی تلاش میں جایا ہی کرتے تھے اور شاید وہ پانچوں بھی اپنی ماں کے ساتھ کچھ کھا کر ہی واپس آرہے تھے کہ بیچ سڑک پر نہ جانے کہاں سے بجری کے دو ٹرک آپس میں ریس لگاتے ہوئے چلے آرہے تھے اور سب کچھ آناً فاناً ہی ہو گیا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ اس کی ماں اور چار بچے سڑک کے بیچ میں ٹرک کے پہیوں کے نیچے آ کر فوراً ہی ختم ہو گئے تھے۔ سرخ خون بالکل انسانوں جیسا خون، سڑک پر اپنا نشان بنا رہا تھا۔ نہ جانے وہ کالا چھوٹا سا کتا کیسے بچ گیا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں سڑک کے کنارے گم سم ساکت سا، بے حواس کھڑا ہوا گوشت کے سرخ ٹکڑوں اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو تک رہا تھا اور وہ چھوٹا سا پلا اپنی ماں کے چیتھڑے جسم کو بار بار پکڑ کر کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وہ تصویر جیسے میرے ذہن کے کسی گوشے میں، کسی خانے میں جم کر رہ گئی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی ٹریفک دوبارہ ویسے ہی شروع ہو گئی تھی۔ نہ جانے والوں کو پتا تھا نہ آنے والوں کو علم تھا کہ کیا ہو چکا ہے۔ اگر زاہد نہیں ہوتا تو شاید وہ کالا پلا بھی دوسری گاڑیوں کی نذر ہو چکا ہوتا۔ نہ جانے کہاں سے زاہد دو بانس لے کر آیا تھا اور بانس سے اس کتیا اور اس کے چاروں پلوں کو آہستہ آہستہ گھسیٹ کر کالا بورڈ کے نالے میں دھکیل دیا تھا۔ پھر نہ جانے زاہد کے دل میں کیا خیال آیا تھا کہ اس نے اس کالے سے پلے کو جھپٹ کر اٹھا لیا تھا۔

اسی وقت نہ جانے کیوں مجھے بے ساختہ اور بے اختیار اس چھوٹے سے کالے سے پلے پر پیار آ گیا۔ میں تیزی سے زاہد کے پاس گیا اور سہمے ہوئے اس کتے کے سر پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگا۔

زاہد نے کہا تھا ”یہ بہت ڈر گیا ہے دیکھو پورا جسم جیسے تھرتھرا رہا ہے۔ میں اسے اپنے پلاٹ پر لے جاتا ہوں۔“

بس اسٹاپ پر اور بھی بہت سے لوگ کھڑے تھے، وسیم پان والے نے زور سے کہا تھا ”ابے لے جا لے جا، بڑا ہو جائے گا تو پلاٹ کی رکھوالی ہی کرے گا اور تو مزے سے اپنی خرمستی کرتے رہیو۔“ وہ دونوں ہی زور سے ہنسے تھے۔

جبار بھل والے نے کہا کہ ”ابے کوئی نام رکھ لیجیو اس کا۔ اب تو بے ماں کا ہو گیا ہے۔ سبھی مر گئے اس کے تو۔“

زاہد پھر ہنسا۔ میں ابھی تک اس سہمے ہوئے پلے پر ہاتھ پھیر رہا تھا کہ زاہد نے مجھ سے کہا، ”بابو میاں آپ نام رکھ دیں اس کا۔ آپ مدرسے سے آرہے ہیں نا۔“

میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ میں کیا جواب دوں، میں سوچ ہی رہا تھا کہ زاہد نے پھر کہا ”بڈو کیسا رہے گا؟“

”بہت بھلا نام ہے۔ یہ تو لگتا ہی بڈو ہے۔“

پھر اس کا نام بڈو پڑ گیا۔ زاہد اسے اپنے ساتھ لے کر چلا گیا۔ زاہد سیمنٹ ڈپو اور سنہری مسجد سے آگے ریلوے کے بھوت والے پل کے سامنے ایک خالی پلاٹ کا چوکیدار تھا۔ کالا بورڈ سے ملیر سٹی کی طرف جاتے ہوئے اس وقت قاری منزل کی دیوار کے بعد صرف اس پلاٹ کی چار دیواری بنی ہوئی تھی اور کچھ اور پلاٹوں پر تعمیر کا کام جاری تھا۔ بڈو زاہد کے ساتھ اس پلاٹ پر رہنے لگا تھا۔

میں خود سراسیمہ اور پریشان سا جب گھر پہنچا تو بار بار یہ حادثہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا۔ میری نانی نے مجھے میرا کھانا دیا اور میں نے انہیں بتایا کہ کس طرح کالا بورڈ پر یہ حادثہ ہوا تھا۔ وہ بہت مذہبی خاتون تھیں۔ ان کے خیال میں دنیا میں ہونے والا ہر امر صرف خدا کی مرضی سے ہوتا ہے اور صرف اس لئے ہوتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی اچھائی ہوتی ہے اور اس حادثے میں بھی انہوں نے بہت سارے اچھے پہلو نکال لئے تھے۔ خدا کی مرضی کا یہ فلسفہ ہی تو تھا جس کے تحت ہمارے بزرگ اپنی مشکل زندگیوں کو بھی آسانی سے گزار لیتے تھے۔ اب تو ہم لوگ ہر وقت سوال کرتے ہیں اور یہ سوال ہمیں کیا دیتے ہیں، الجھنیں، پریشانیاں، محرومیاں اور غصہ، زندگی آسان ہو جانے کے باوجود مشکل ہے، بہت مشکل۔ مجھے تسلی سی ہو گئی تھی۔

بڈو سے میری دوسری ملاقات بہت جلدی ہو گئی تھی۔ ملیر ایریا کی مارکیٹ میں غوثیہ مسجد کی دکانوں میں کرائے کی کتابوں کی دکان تھی جہاں ایک آنہ روز پر کتابیں کرائے پر ملتی تھیں۔ دوسرا دن چھٹی کا تھا۔ میں دوپہر کو سونے کے بعد گھر سے نکلا تھا کہ جا کر کچھ ابن صفی کی کتابیں اور عالمی ڈائجسٹ لے کر آؤں تاکہ کل اسکول کا کام ختم کر کے دن میں یہ کتابیں پڑھی جائیں۔ مارکیٹ کی طرف مڑنے سے پہلے زاہد کے پلاٹ کے پاس وہ سب لوگ بڈو کو گھیرے کھڑے تھے، حمید، محلے کے اور لڑکے موجود تھے اور ابراہیم نے بڈو کو پکڑا ہوا تھا۔

گلوان سب میں بہت شریر تھا۔ میری نانی مجھے ہمیشہ گلو کے ساتھ کھیلنے سے منع کرتی تھیں۔ میرے بیچ میں آنے سے پہلے میں نے دیکھا تھا، گلو کے پاس پتلی سی کوئی چیز تھی جس کے دونوں طرف لکڑی کے دو ٹکڑے بندھے ہوئے تھے اور ان لوگوں نے بڈو کی دم کو بیچ میں باندھا ہوا تھا اور لکڑی کے دونوں ٹکڑوں کو ایک طرف سے گلو نے پکڑ کر ابراہیم سے کہا تھا کہ دوسرا سرا پکڑ کر بڈو کو چھوڑ دے۔ جیسے ہی ابراہیم نے بڈو کو چھوڑا، گلو نے زور سے اپنی لکڑی کے ٹکڑے کو کھینچا تھا۔ مجھے تو صرف یہ نظر آیا کہ بڈو زور سے چیخا اور چیں چیں کرتا ہوا دور بھاگ گیا۔ زمین پر بڈو کی آدھی کٹی ہوئی دم پڑی ہوئی تھی۔

سارے بچے زور زور سے ہنسنے لگے۔ گلو نے چیخ کر کہا تھا یہ ملا کر میرے اکتیس دم ہو گئے۔ گلو مجھے پھر کبھی بھی اچھا نہیں لگا۔ گلی میں، شہر میں، کہیں بھی کوئی بھی دم کٹا کتا دیکھ کر مجھے شدید خوف سا آتا ہے۔ بڈو کی بے چارگی یاد آتی ہے اور گلو کا بد صورت چہرہ یاد آ جاتا ہے۔ گلو اب بڑا آدمی ہے۔ ہمارے علاقے کا سیاسی لیڈر ہے۔ وہ یونیورسٹی میں بھی لیڈر تھا اور اب بھی ہے لیکن میں اسے کبھی بھی معاف نہیں کر پایا ہوں۔ اس نے بڈو کی اور بڈو جیسے نہ جانے کتنے کتوں بلیوں کی دم کاٹی ہو گی، بغیر کسی وجہ اور مقصد کے۔ اس کھیل کا مجھے بعد میں پتا لگا تھا۔

گھوڑے کے دم کے بال یا مانجھا لگے مضبوط دھاگے سے یہ کھیل ہوتا تھا۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی ہے کہ آخر اس کھیل کی کیا ضرورت تھی، کیا مزا تھا اس کھیل میں اور کس قسم کا اطمینان نصیب ہوتا تھا؟ ہم لوگ بچپن سے ایسے کھیل کھیلتے ہیں جس میں جاندار کو تکلیف پہنچا کر ہمیں مزا آتا ہے۔ بڑے ہو کر انسانوں کو مار دینا بھی تو پھر آسان ہی ہو جاتا ہو گا۔

مجھے اس دن شدید تکلیف ہوئی تھی۔ بڈو کی زندگی بھی کیا زندگی تھی۔ آنکھوں کے سامنے ٹرک نے ماں کو کچل دیا تھا، ایک انسان نے پناہ دی تھی تو پھر انسانوں کے بچوں نے دم کاٹ دی۔ میں نے کتابوں کی دکان سے واپسی پر لالہ کے تندور سے ایک روٹی خریدی تھی اور زاہد کے پلاٹ پر بڈو کو جا کر اپنے ہاتھوں سے کھلائی۔ وہ مجھے پہچان گیا تھا، اپنی تکلیف کو بھول کر وہ میرے قدموں پر مچل مچل سا گیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2