براڈ شیٹ، پی ڈی ایم اور پاک امریکا تعلقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی شک نہیں کہ کرنٹ افیئرز کے نام پر ہمارے اخبارات میں جو خامہ فرسائی ہوتی ہے اس میں چسکہ فروشی یا ذاتی ایجنڈے کی تبلیغ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارے قارئین کی اکثریت بھی اخباری کالمز کو محض چسکے کی طلب یا اپنی سیاسی عصبیت کی تسکین کی خاطر ہی پڑھتی ہے۔ جہاں اس میں لکھاریوں کا قصور ہے کہ ہر کوئی کسی نہ کسی سیاسی بت کی پوجا میں مصروف اور اس کی مدح سرائی فرض سمجھتا ہے وہیں مجبوری بھی ہے کہ اگر درست حقائق لکھ دیے جائیں تو ہمارا اجتماعی ہاضمہ انہیں قبول کر سکتا ہے اور نہ سیٹھ میڈیا اسے شائع کرنے کی جرات۔

راقم کی کوشش رہتی ہے کہ اس موضوع پر لکھا جائے جس کے دیانتداری کے ساتھ تمام پہلو اجاگر ہو سکیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے موضوعات پر لکھنے سے گریز ہی کرتا ہوں۔ ایسی ہی کسی وجہ سے لگاتار پچھلے چند کالم بین الاقوامی معاملات پر لکھے تو کچھ دیرینہ قارئین کی طرف سے بذریعہ فون اور واٹس ایپ ملکی ذرائع ابلاغ پر بری طرح چھائے اسکینڈلز پر رائے دینے کی فرمائش آنا شروع ہو گئیں اور قارئین کسی بھی لکھنے والے کے لیے اثاثہ ہوتے ہیں لہذا ان کا حکم سر آنکھوں پر۔ تاہم اس کالم کے مستقل قارئین جانتے ہیں یہاں عموماً ایک نشست میں ایک موضوع پر ہی بات ہوتی ہے اور پیشگی معذرت کہ آج دو تین موضوعات ایک ساتھ نمٹانے پڑیں گے اور ان پر بھی اپنی اوقات و محدودات کا دھیان رکھتے ہوئے ہی بات ہوگی۔

سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے براڈ شیٹ اسکینڈل پر بات کرنے کے لیے۔ براڈ شیٹ کا قصہ شروع ہوتا ہے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت سے جب اس وقت کے چیئرمین نیب جنرل امجد نے راتوں رات قائم ہوئی مذکورہ کمپنی کی خدمات حاصل کیں کہ وہ ہمارے دو سو کرپٹ سیاستدانوں، بیورو کریٹس، تاجروں، فوجی افسروں کے بیرون ملک چوری شدہ پیسے کی کھوج لگا کر دے تو اس کا 20 فیصد اسے دیا جائے گا۔ جس کے بعد براڈ شیٹ نے کام شروع کیا، اور مبینہ طور پر آفتاب شیر پاؤ کے اکاؤنٹس جس میں 50 لاکھ ڈالر پڑے تھے اور ایڈمرل منصور الحق کے اکاؤنٹ جس میں 75 لاکھ ڈالر تلاش کر لیے۔

پھر مگر پرویز مشرف نے جن کی کرپشن کا سراغ لگانے کے لیے نیب کے چیئرمین جنرل امجد کو مامور کیا تھا انہی سیاستدانوں کی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ضرورت پڑنا شروع ہوئی تو انہوں نے نیب چیئرمین کو کہا کہ فلاں فلاں کا نام انکوائری میں سے نکال دیا جائے۔ جنرل امجد پر دباؤ بڑھا تو وہ نیب چھوڑ گئے، لیکن نیب کے براڈ شیٹ سے رابطہ کرنے پر یہ جواب ملا کہ ہم یوں درمیان میں انکوائریاں بند نہیں کر سکتے، جب براڈ شیٹ نے نیب کی بات نہ مانی تو نیب نے 2003 ء میں یک طرفہ طور پر معاہدہ ختم کر دیا۔

جس کے بعد براڈ شیٹ نیب کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں چلی گئی، عدالت نے براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ دے دیا اورنیب کو 4 ارب 38 کروڑ روپے جرمانہ ہوا، نیب کے وکیل، لیگل فرم کو فیس ادائیگی اور سود کے بعد یہ رقم بعد ازاں 7 ارب 18 کروڑ تک پہنچ گئی جو میرے اور آپ کے خون پسینے کی کمائی سے اب براڈ شیٹ کو ادا کی گئی ہے۔ گویا کھویا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کا، اور اتنی کہانی ہر کسی کے علم میں آ چکی ہے۔ بات لیکن یہیں تک محدود نہیں، اسی کمپنی کے کاوے موساوی جو انٹرویوز مسلسل دے رہے ہیں اصل شرمناک انکشافات اور خطرناک بات اس میں ہیں اور پیشگی معذرت اسی چیز کی تھی کہ اس کی تفصیل اور ملوث کرداروں پر اخباری کالم میں بات نہیں ہو سکتی۔

پی ڈی ایم تحریک جس طوفانی رفتار سے اٹھی تھی اور اب جو ہو رہا ہے اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے حسرت ہے ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔ جب سے پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو نے یہ کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کا راستہ اختیار کرنے پر قائل کریں گے حکمراں جماعت ان پر بہت لہلوٹ ہو رہی ہے۔ کیونکہ اس تجویز کی نون لیگ کے احسن اقبال نے کھل کر مخالفت کر دی جس کے بعد حکومتی وزراء کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔

حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں پیپلز پارٹی کی اس تجویز سے اختلاف میں حق بجانب بھی ہیں کیونکہ ہماری پارلیمان کے ایوان بالا میں اپوزیشن جماعتوں کو 64 اراکین کی حمایت کی وجہ سے بھاری بھر کم اکثریت میسر ہے۔ اس قدر واضح اور ٹھوس پر اکثریت پر اعتماد کرتے ہوئے ان جماعتوں نے سینٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ لیکن جب خفیہ رائے شماری کا وقت آیا تو حزب مخالف کے چودہ ارکان کا ضمیر جاگ گیا جس کی بدولت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بدستور اپنی جگہ بیٹھے ہیں۔

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں تو خفیہ رائے شماری کی سہولت بھی میسر نہیں۔ قومی اسمبلی کے اراکین کو اپنی نشستوں سے اٹھ کر تحریک کے حامیوں اور مخالفین کے لئے مختص لابیز میں جاکر رجسٹر پر دستخط بھی کرنا ہوتے ہیں اور آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر وزیراعظم کے انتخاب یا اس کے خلاف پیش ہوئی تحریک اعتماد کے دوران کسی رکن اسمبلی نے جماعت کی قیادت کی ہدایات کے برعکس ووٹ دیا تو وہ اپنی نشست سے محروم ہو جائے گا۔ یعنی نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ ویسے بھی بلوچستان اسمبلی، وزیراعظم اور صدر کے انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی کا رویہ دیکھنے کے بعد احمق ہی کوئی ہوگا جو ٹرک کی اس نئی بتی کے پیچھے لگے گا۔

میرے خیال میں ان دونوں موضوعات پر مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ امریکا ایک عالمی قوت ہے اور اس کے ہمارے خطے پر اثرات ہیں فی الوقت یہ سوچ ہونی چاہیے وہاں آنے والی تبدیلی کے اثرات ہم پر کیا ہوں گے؟ ہمارے دانشوران کو ارباب اختیار کی توجہ اس طرف دلانے کی ضرورت ہے پاکستان امریکا سے دو طرفہ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کس طرح کر سکتا ہے؟ آج تک پاکستان اور امریکا کے آپسی تعلقات کی نوعیت امریکی مفادات کی نگہبانی پر مبنی رہی ہے اور اسی ضرورت کے تحت اس میں اتار چڑھاؤ آتا رہا۔

ماضی بعید میں سوویت یونین کے خلاف اور ماضی قریب میں افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے امریکا ہماری طرف ملتفت رہا لیکن جونہی وہ مقاصد کماحقہ پورے ہوئے امریکا نے نہ صرف آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کبھی ہم پر تجارتی پابندیاں لگائیں تو کبھی ادائیگی کے باوجود ہتھیاروں کی ترسیل روک دی۔ حالیہ دنوں میں افغانستان کے محاذ پر امن لانے کی کوششوں میں ہماری بھرپور اعانت و مدد کے باوجود ہم پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکی رہی اور امریکا نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔

نو منتخب صدر جو بائیڈن پاکستان کے ساتھ پہلے بھی کام کر چکے ہیں اور بدلتی دنیا میں مستحکم ’جمہوری اور امن کے خواہاں پاکستان کی اہمیت سے واقف ہیں لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اب تک ان کی نئی انتظامیہ کے جو نام سامنے آئے ہیں ان میں بڑی تعداد انڈین لابی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے اور خطے میں انڈیا کو امریکا کی طرف سے رول دینے کی کوششیں بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں احساس دلایا جائے کہ پاک امریکہ تعلقات کو خطے کے دیگر ممالک میں امریکی مفادات سے الگ کر کے دیکھا جائے تو اس طرح متستقل بنیادوں پر پاکستان کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •