مجروح تو تھے ہی،اب مرحوم بھی ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خبر تو نئی نہیں ہے کہ پشتو ادب اور صحافت کا معروف نام مشتاق مجروح شدید علیل ہیں اور مقامی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، لیکن یہ خبر اس حوالے سے آج نئی ہے کہ وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور آج شام ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کردی جائے گی۔

ہم سب شاعر ، ادیب ، صحافی اور اہل قلم سوشل میڈیا پر سراپا رنج و غم ہیں، پوسٹ پر پوسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی وفات کو ایک المیہ گرداننے کے ساتھ ساتھ ان کی موت کو نہ پر کیے جا سکنے والے خلا سے بھی انہیں تشبیہہ دے رہے ہیں۔

یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی کہ اہل قلم کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے ، خصوصاً جن کا تعلق ادب کے ساتھ ساتھ صحافت سے بھی ہو کہ یہ بہت مضبوط لوگ ہوتے ہیں، یہ ریاست کے پانچویں ستون سے متعلقہ ہوتے ہیں، یہ لوگ بہ یک جنبش قلم حکومت کے ایوانوں میں بھونچال برپا کر دیتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے مسائل کی طرف حکومت وقت کی توجہ مبذول کرانا اور اس معاملے میں اولیت کا تمغا اپنے سر سجانے جیسے طریقوں سے واقف کار یہ لوگ جب خود مسائل کے شکار ہوتے ہیں تو پھر ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا (کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر) ، یہ اپنے لئے چیختے پکارتے ہیں ، پر کوئی بھی ان کی آہ و بکا سننے والا نہیں ہوتا۔

اگر یہ لوگ بیمار پڑ جائیں تو کوئی حکومتی نمائندہ ان کی بیمار پرسی کے لئے بھی فارغ نہیں ہوتا اور بالآخر یہ موت کے آغوش میں خاموشی سے چلے جاتے ہیں اور پھر ان کی یاد میں تعزیتی ریفرنسز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

مشتاق مجروح پشتو ادب اور صحافت کا ایک جانا پہچانا نام تھا ، کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ کئی اخبارات سے منسلک رہے۔ لیکن اس دوران اتنا پیسہ اپنے لیے نہیں بچا سکے کہ اگر کل کلاں بیمار پڑ جائیں تو اپنا علاج معالجہ کرا لیں۔

مشتاق مجروح یوسفزئی

اور ایسا ہی ہوا کہ بر وقت علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے کس مپرسی میں چل بسے۔ اس سے پہلے ہمارے پاس دو ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب جواں سال پشتو کے مشہور شاعر سبحان عابد جگر کے عارضے میں مبتلا ہوئے تو بالآخر ملک ریاض نے ان کی علاج معالجے کی ذمہ داری لی اور جگر ٹرانس پلانٹ کے مہنگے اور اذیت ناک مرحلے سے گزرے ، پر اللہ کی مہربانی اور ملک ریاض کی مالی معاونت سے وہ صحت یاب ہو گئے۔

دوسری مثال ریاض تسنیم کی تھی ، ان کا بھی جگر کا ویسا ہی مسئلہ تھا اور ایک بار پھر ملک ریاض تک رسائی ہوئی اور اس بار بھی وہ اس کار خیر کے لئے تیار ہوئے یا جب ان تک رسائی ہو رہی تھی تو اب کی بار دیر ہو چکی تھی ، علاج تو شروع ہو گیا تھا لیکن واقعی دیر ہو چکی تھی اور دوران علاج وہ راہی ملک عدم ہو گئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادب اور ثقافت کے نام پر جو ادارے ہیں ، وہ کتنے ادبی لوگوں کو جانتے ہیں اور جب کوئی بیمار پڑتا ہے تو ان کے علاج کے لئے ان کی بساط کہاں تک ہے۔ حال ہی میں عمر دراز مروت، پروفیسر مھجور خویشکی اور ڈاکٹر پروفیسر ہمایون ہمدرد مرحومین بھی بروقت اور کافی و شافی علاج نہ ہونے کی وجہ سے وفات پا چکے ہیں۔

بات مشتاق مجروح یوسفزئی کے ناکافی علاج معالجے کی ہو رہی تھی ،  ذہن میں یہ سوال انگڑایاں لے رہا ہے کہ مشتاق مجروح تو کوئی گم نام آدمی بھی نہیں تھے ، وہ قلندر مومند جیسے جید ادیب شاعر، نقاد، تخلیق کار اور محقق کے ادبی وارث اور جانشین تھے اور ان سے حاصل کیے ہوئے فیض کے فیض رساں تھے۔ پشتو ادب کے املا اور گرائمر پر عبور رکھتے تھے۔ پشتو کتابت پر ان کو ملکہ حاصل تھا۔ طنز و مزاح اور ظرافت کی مرتے دم تک آبیاری کرتے رہے ہم پر افسوس کہ یہ پشتو ادب کے معمار اپنی ہی بیماری میں حکومت وقت کے لیے مزاح اور طنز کی ایک انمٹ علامت بن کر رخصت ہوئے۔

سیاسی لوگوں کے بھی قریب رہے اور سیاست سے وابستہ اداروں کے لئے بھی سرگرم عمل رہے لیکن یہ سب کچھ تب درست تھا جب وہ تندرست تھے، جب وہ بیمار پڑ گئے تو پھر سب کے کام سے گئے اور ایک لکھاری کا کام سے جانا، جان سے جانا ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •