’لائن کِنگ‘ کی موت کے بعد اس کے نُطفے سے بیٹے سِمبا کی پیدائش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Baby Simba the lion
Wildlife Reserves Singapore
لگتا ہے کہ ننھا سمبا اپنے والد کا نام زندہ رکھے گا
سنگاپور کے چڑیا گھر میں آج کل شیر کے اس پہلے بچے کی آمد کا جشن منایا جا رہا ہے جس کی پیدائش مصنوعی تخم ریزی یا آرٹیفشل انسیمینیشن سے ہوئی ہے۔

بدقسمتی سے ننھا سِمبا اپنے والد مُسافا کو کبھی نہیں مل سکے گا کیونکہ بوڑھا شیر اپنے بچے کی پیدایش سے پہلے دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔

بوڑھا مُسافا بہت غصے والا تھا جس کی وجہ سے اس کا کسی شیرنی سے کامیاب جنسی ملاپ نہیں ہو سکا تھا۔

کسی شیرنی کے ساتھ ملاپ نہ ہونے کے باعث چڑھیا گھر والوں کو فکر ہوئی کہ مفاسا کی نسل کو آگے کیسے بڑھایا جائے، چنانچہ انھوں نے اس کا تولیدی مواد مصنوعی طریقے سے حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ طریقہ بہت کم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

چڑہا گھر کے ترجمان کے مطابق جب انھوں نے مصنوعی طریقے سے مُفاسا کا تخم حاصل کیا تو اس وقت تک 20 سالہ مفاسا خاصا لاغر ہو چکا تھا اور اسے ٹیکہ لگا کر موت کی نیند سلانا پڑ گیا۔ یاد رہے کہ اس وقت بھی مفاسا جنگل میں پائے جانے والے اپنی نسل کے دوسرے شیروں کے مقابلے میں کم و بیش چھ سے دس برس زیادہ جی چکا تھا۔

اس وقت تک مفاسا نہ صرف بوڑھا ہو چکا تھا بلکہ اسے ایٹروفی کا مرض بھی ہو چکا تھا جس میں انسانوں کی طرح جانوروں کے اعضاء بھی سکڑ جاتے ہیں۔

اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بوڑھے شیر کی گرتی ہوئی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا پہلا کام ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مفاسا کو ٹیکہ لگا کر‘ ابدی نیند سلانا تھا۔

جب اسے ٹیکہ لگا دیا گیا تو مصنوعی طریقے سے اس کا تخم نکالا گیا۔ ترجمان کے مطابق اگرچہ یہ عمل ٹیکہ لگانے کے بعد کیا گیا تاہم یہ عمل بھی اہم تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اس کی موت کے بعد اس کی نسل چلتی رہے۔

لگتا ہے کہ ننھا سِمبا اپنے والد کا نام زندہ رکھے گا کیونکہ تین ماہ کی عمر میں سمبا بظاہر خوب پھل پھول رہا ہے۔

Simba the cub

Wildlife Reserves Singapore
سمبا کا نام ڈزنی کی فلم ’لائن کنگ‘ سے لیا گیا ہے

اپنے والد مفاسا کی طرح سِمبا کا نام بھی ڈزنی فلمز کی مشہور اینیمشین فلم ’لائن کِنگ‘ سے لیا گیا ہے۔ سِمبا کی پیدائش اکتوبر میں ہو گئی تھی تاہم چڑہا گھر کے حکام نے اس خبر کو اب عام کیا ہے۔

سِمبا کی پیدائش کے وقت سے اس کی ماں کائلا کو بھی گلینڈز میں سوجن ہو گئی تھی جس کے وجہ سے وہ سِمبا کو دودھ نہیں پلا سکی، چانچہ سِمبا کو بوتل سے دودھ پلانا پڑا۔ حکام کے مطابق اس کے باوجود سِمبا اپنی ماں سے دور نہیں ہوا ہے۔

سنگاپور کے چڑیا گھر میں قائم جنگلی حیات کی صحت اور تحقیق کے مرکز کا کہنا تھا کہ سِمبا ایک صحت مند ننھا شیر ہے جسے گیند سے کھیلنے کا بہت شوق ہے اور وہ ہر اس وقت گیند کے ساتھ زور آزمائی کرتا رہتا ہے۔

مرکز کے ماہرین کے مطابق اب سمبا نے دودھ کے ساتھ ساتھ شوق سے تھوڑا تھوڑا گوشت بھی کھانا شروع کر دیا اور وہ سارا دن ان چیزوں سے کھیلتا رہتا ہے جو چڑہا گھر والوں نے اس کی صحت مند نشو ونما کے لیے خاص طور پر بنائی ہیں۔

چڑیا گھر کے حکام کا مزید کہنا تھا کہ اب چونکہ مفاسا کا جینیاتی یا نسلی مواد سِمبا میں منقل ہو چکا ہے، اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان کی یہ کوشش ’چڑیا گھروں میں افریقی نسل کے اس شیر کی نسل کو قائم رکھنے میں نہایت مددگار ثابت ہو گی۔‘

یاد رہے کہ شیروں کی یہ افریقی نسل جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی تنظیم کے مطابق ایسے جانوروں میں شامل ہے جن کی نسل ختم ہو جانے کا خطرہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp