تصویر کہانی: بے بسی یا بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تصویر ہمارے معاشرے کی گرتی اخلاقیات کی عکاس نہیں۔ یہ تمثیل ہے ہمارے بڑوں اور بچوں کے درمیان صدیوں پر محیط خاموشی کی۔ یہ نشانی ہے آدھے، ادھورے علم اور خود ساختہ ایڈونچرزم کی۔

اس وقت سارے کے سارے شرفا اس لڑکی اور لڑکے کے عمل، ان کے کردار اور ان کے ساتھ ہوئے اس واقعے /حادثے کو اللہ کا عذاب قرار دے رہے ہوں گے۔ لڑکا جب قانون کچہری سے نکل بھی آئے تو دنیا کی سند قبولیت حاصل کرنے کے لئے خود کو دینی، پارسا ثابت کرتا اپنے اوپر ایک نقاب چڑھا کر زندگی گزارے گا جبکہ لڑکی کے گھر والے تقریباً زندہ درگور کر دیے جائیں گے اور وہ خود بھی اپنی اولاد کو ہی کوستے ہوئے زندگی گزاریں گے۔ جبکہ حقیقت انتہائی کڑوی ہے جسے کوئی دیکھنا نہیں چاہتا۔

ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں سے ایک پردہ، ایک جھجک، رعب اور لحاظ کا رشتہ بنانا ہے اس لیے انہیں سوال کی اجازت نہیں۔ وہ اپنے جسم، اپنے خیالات اور اپنی خواہشات کی بابت ذہن میں اٹھنے والے سوالات کے جواب والدین یا گھر والوں سے نہ پا کر کسی تیسرے کو تلاش کرتے ہیں اور پھر یہی کھوج انہیں غلط ہاتھوں، غلط تجربوں کی جانب لے جاتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے، وہ بڑے ہو رہے ہیں، بہادر ہو رہے ہیں مگر کب وہ کسی اور کو اپنا ذہنی، جذباتی اور جسمانی فائدہ اٹھاتے رہنے کی مشروط یا غیر مشروط اجازت دی دیتے ہیں انہیں خود بھی خبر نہیں ہوتی۔

جب جب پاکستان میں جنسی تعلیم کی بات کی جائے، اس کا مطلب صرف اور صرف عورت اور مرد کے ملاپ کو لیا جاتا ہے اور ہائے توبہ، احیا اور ثقافت کے رونے شروع کر دیے جاتے ہیں۔ جنسی تعلیم کا مقصد ہر گز یہ نہیں بلکہ اس کا مطلب طلبا کے اذہان کو بتدریج بہت سی جسمانی اور جذباتی حقائق اور تبدیلیوں سے آگاہ کرنا ہے۔ جب آپ انسان کو ایک کمرے میں بند کر دیں گے تو وہ باہر نکلنے کے لئے شاید کھڑکی سے چھلانگ لگانے کو ہی ترجیح دے گا کہ بس کسی طرح باہر دنیا میں جا سکوں۔

اسی طرح جب آپ ایک نو عمر کے ذہن کو سوال کی اجازت، ایک محفوظ ماحول میں کسی ہمدرد کی طرح ایک انتہائی اہم موضوع کے بارے میں آہستہ آہستہ آگہی نہیں دے رہے تو وہ چھلانگ لگا کر باہر موجود ہر اچھے برے ذرائع کو استعمال کرے گا۔ جتنا تجسس بڑھتا جائے گا اتنا ہی ہمارے بچے اپنے آپ کو غیر محفوظ طریقوں اور ذرائع کے حوالے کرتے جائیں گے۔ اس کا نتیجہ کسی طور بہتر نہیں نکلنے والا۔

کتنے ہی نوجوان لڑکے لڑکیاں تجسس کے راستوں سے ہوتے ہوئے بلیک میلنگ کا شکار ہوتے ہیں اور اس بات کو کسی سے شیئر نہیں کرتے کیونکہ یہ معاشرے کی جانب سے ممنوعہ قرار دیے گئے موضوعات ہیں جنہیں زیر بحث لانے والا خود آدھا مجرم یا ذمہ دار تصور کر لیا جاتا ہے۔ معاشرہ اتنا پارسا ہو چکا ہے کہ ایک غلطی کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ سیدھا کٹہرا اور سزا۔ کتنے ہی بلیک میلنگ یا جسمانی استحصال کے سلسلے اسی وقت رک جائیں جب گھر والے، والدین یا شریک حیات ساتھ دے اور ساتھ کھڑا ہو جائے کہ تم اکیلے نہیں۔

ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لکھنے میں یہ چار الفاظ ہیں مگر انہیں سننے والا ہی ان کی قدر اور ضرورت بتا سکتا ہے۔ اسکول، مدرسہ، گھر، کالج، محلہ، تقاریب، دکانیں یا مسجد کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں بچے اور بچیوں پر ظلم نہ ہوا ہو اور کہیں کہیں تو درندگی اور بلیک میلنگ کا سلسلہ ایک متاثرہ فریق یا ایک واقعے کے بجائے کئی افراد اور مہینوں سالوں پر محیط ہوتا ہے۔ والدین کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے۔ یہ ہے ہمارا فیملی سسٹم جسے ہم سلامیاں پیش کرتے نہیں تھکتے لیکن اسی خاندانی نظام میں فرسٹریشن اور ڈپریشن سے بھرے ٹائم بم پائے جاتے ہیں۔

جن بچوں کو دنیا میں لائے ہیں انہیں انسان سمجھ کر ان کا ہمدرد بننا بھی والدین کا فرض ہے۔ مان باپ کو کمزور بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں ہمیشہ اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ان کے بچے عمر کے کسی بھی حصے میں، زندگی کے کسی بھی مرحلے پر مڑ کر واپس ان کے پاس آ سکیں۔ والدین کا رشتہ پناہ ہونا چاہیے۔ اسے کسوٹی بنا کر اولاد کی کامیابیاں گننے کے چکر میں ہم اپنے بچوں کے مجرم بن جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ صرف اس وجہ سے اپنی زندگی ایک جھوٹ کے سہارے، پریشانیاں چھپاتے گزار دیتے ہیں۔

خوشحالی یا ”سب ٹھیک ہے“ کے نقاب کے پیچھے بہت سی سچائیوں کا ہم اور وہ خود سے بھی اعتراف نہیں کر پاتے۔ والدین بچپن میں انسپیکٹر کا ڈنڈا ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، جوانی میں بھی سوال جواب کی تھانیداری چلتی رہتی ہے اور اس ڈر سے کہ وہ ہمیں ناکام نہ سمجھ لیں، ہم ان سے اور خود سے، جھوٹ بولتے بولتے خود بڑھاپے کی گرفت میں پھنس کر سوچتے ہیں کہ اب تو واپسی کا کوئی دروازہ ہی نہیں۔

والدین کو کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ اولاد کسی بھی عمر کی ہو۔ اسے گلے لگانا یا اسے روتے ہوئے دیکھ کر تسلی دینا اسے کمزور بنانا نہیں ہوتا۔ انہیں نہ رونے دے کر ہم انہیں بہادر نہیں بے حس بنانا چاہتے ہیں۔ اسے نہ سن کر ہم اسے خود سے دور کرتے ہیں۔ انہیں گلے نہ لگ اکر ہم انہیں بڑا ہونے کا نہیں اکیلے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ انہیں تنہا کر کے ہم انہیں دنیا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ان پر رعب دکھا کر ہم انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بچے ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی تو بچے نہیں رہنا۔

اولاد کی ضرورت صرف کھانے اور کپڑے نہیں۔ جذباتی وابستگی اور دل کی بات بلا جھجک اور ناراضگی کے خوف سے آزاد ہو کر شیئر کرنے کی آزادی دینا بھی والدین کا فرض ہے۔ انہیں سوال کی آزادی دینا بھی والدین کا فرض ہے۔ انہیں ہر قسم کے موضوع پر کھلے ذہن سے معلومات فراہم کرنا، اچھا برا سمجھانا بھی والدین کی ہی ذمہ داری ہے۔ جب یہ دروازہ انہیں بند ملے گا تو وہ پھر باہر کا ہی رخ کریں گے جہاں بے ہنگم معلومات کا ازدحام اور ہر قسم کے افراد موجود ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •