صحتمند معاشرے کی بنیاد ذہنی صحت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت، وفا، دغا، نفرت، رشتے، ساتھ نبھانا یا چھوڑ جانا عالمی احساسات ہیں۔ انسانی جذبات بنیادی طور پہ بنا قید رنگ و نسل یکساں ہیں۔ لیکن یہ جذبات اگر گراؤنڈ ریالٹیز کے ساتھ نہ جڑے ہوں، غیر متوازن ہوں، ایک جانب تمام جھکاؤ ہو اور باقی ہر حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہوں تو نفسیاتی بیماریاں بن جاتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد کتنے ایسے مردہ تعلق اور رشتے ہوتے ہیں جن کے تعفن سے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ زندگی کی ہر سانس بوجھل اور ذہن مکمل بیمار ہو جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان رشتوں کو سماجی دباؤ کے تحت نبھایا جاتا ہے۔

ایک فرسٹریٹڈ اور انتہا پسند ہجوم وجود میں آ چکا ہے لیکن نہ تو ہم ان باتوں کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں نہ ہی ان کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ ہمیں روتے بسورتے چہرے، اداسی، موت اور تنہائی فینٹیسائز کرتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اداسی کہیں دانائی سے جڑی ہے۔ دکھی رہنا یا دکھی ہونے کو ظاہر کرنا توجہ حاصل کرنے کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ ہم پرابلم سالونگ، سٹریس مینجمنٹ، کنفلیکٹ ریزولوشن جیسی صلاحیتوں کے نام تک سے واقف نہیں ہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ ان باتوں کو سمجھتا ہے، خوشی کی اہمیت جانتا ہے وہاں غلط فہمیوں اور کنفیوژن کو رشتوں میں جگہ نہیں دی جاتی بلکہ بات کہنے اور سننے کا رواج ہوتا ہے

لیکن ہمارے کنفیوژن کے شکار سماج میں ہم اپنے احساسات اور جذبات کو دبانے اور انہیں چھپانے میں اس قدر عادی ہو چکے ہی‍ کہ یہ لاشعوری طور پہ ہماری فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔ ہے۔ ہم میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو اپنے کیریر اور کام کے حوالے میں کامیاب ہیں لیکن ان کی ذاتی زندگی، تعلق اور رشتے ناکام ہوتے ہیں وہ کسی مجبوری کے تحت انہیں ساتھ لے کے چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ مسائل بعض اوقات معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن ہم چونکہ شروع سے اس بات کے عادی ہیں کہ بات کھل کے نہ کی جائے تو اس لیے انہیں دبائے رکھتے ہیں جب تک کہ لاوا اتنا نہ پک جائے کہ ایک دم پھٹ پڑے اور بڑا نقصان ہو۔

ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور انگزائٹی سماج کا خاصا بن چکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آپ ان لوگوں کے ساتھ رہ رہے ہیں جن میں نفسیاتی مسائل ہیں یا وہ اپنی رائے سے کسی طور سے ہٹنے کو تیار نہیں تو مسائل بڑھیں گے۔ وہ پھر آپ کے دوست ہوں، پارٹنر ہو یا خونی رشتے سر دردی بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پریشان کن صورتحال پیدا کیوں ہوتی ہے؟ کون سے ایسے عوامل ہیں جو لوگوں کو اس بات سے منع کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی بات سنیں اور معاملے کو حل کریں؟

پہلا مسئلہ ہمارے سماج میں پنپی ہوئی سوچ ہے کہ روایت، رواج اس سے جڑی کوئی بھی کہانی قابل احترام اور ”ان کوئسچن ایبل“ ہے۔ اس لیے اسے مان لیا جائے۔ یہ تصور کہ بڑوں سے سوال کرنا کسی بات پہ سوال اٹھانا توہین ہے اس نے سوچنے کے ہر دروازے کو بند کر دیا ہے۔ ہم کھل کے نہ تو نفرت کرتے ہیں نہ ہی محبت۔ ہمیں اپنے جذبات میں واضح ہونا نہیں آتا۔ ایک سیف سائیڈ ہمیشہ چاہیے ہوتی ہے جو کنفیوژن پیدا کرتی ہے۔ نفرت کریں گے تو بتا نہیں سکیں گے کہ یہ مسئلہ ہے یا فریق کی کس بات سے اختلاف ہے اس کا حل ڈھونڈنے کی بجائے طنز کا راستہ اختیار کریں گے۔

کبھی سوچا ہے ہمارے معاشرہ میں ہم روز مرہ کی زندگی میں ہی کتنے طنزیہ جملے استعمال ہوتے سنتے اور دیکھتے ہیں۔ محبت میں بھی یہی حرکت کرنی ہے خود کو بھی الجھا ہوا رکھنا ہے اور ان لوگوں کو بھی جو محبوب ہیں۔ یہ خیال کہ جن لوگوں سے آپ کو محبت ہے ساری دنیا سے بڑھ کے آپ ہی ان کے خیر خواہ ہیں۔ ان کی زندگی کا فیصلہ آپ سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا بالکل غلط ہے۔ ہر انسان اپنے بارے میں بہتر جانتا ہے اس کے حالات و واقعات، تجربات و مشاہدات بالکل یونیک ہوتے ہیں اس لیے اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ بھی وہ خود ہی کر سکتا ہے۔ لیکن دیکھ لیجیے ہماری سوسائٹی میں والدین کا بھی یہی خیال ہوتا ہے بہن بھائیوں دستوں کا بھی محبوب اور پارٹنر کا بھی۔ یہ کون سی محبت ہے کو ایسے قید کر لیتی ہے، اسی وجہ سے ایک تنگ نظر اور ٹھہری ہوئی سوچ والا معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

ایموشنل انٹیلجنس کیا ہے ہم نے خود کو کہاں تک جذبات میں انوالو کرنا ہے اور کہاں دماغ کا استعمال کرنا ہے یہ ہماری تربیت کا حصہ ہی نہیں ہے، اگر آپ کہ جذباتی زندگی پرسکون نہیں ہے تو آپ یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ آپ ایک صحتمند ذہنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ بیلنس رکھنا ہر احساس اور جذبے کو اس کی جگہ پہ رکھنا ذہانت ہے۔ لیکن ہمارا مکمل جھکاؤ جذبات کی جانب ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم متشدد سماج کے طور پہ سامنے آ رہے ہیں۔

ہمارے ساتھ یا معاشرے میں نا انصافی ہو تو ہم پہلا سہارا بددعا کا لیتے ہیں۔ طاقت رکھتے ہوں تو سیدھا مرنے مارنے پہ اتر آتے ہیں کبھی کوشش نہی‍ں کرتے کہ اس کی وجوہات کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ایک الجھن ہو تو خود کو مزید الجھنوں میں پھنسا لیں گے اس کا سرا پکڑنے کوشش نہیں کریں گے۔ یہ ضروری ہے کہ انسان کی زندگی کی جانب اپروچ پریکٹیکل ہو۔ ہم یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ الجھے رہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ الجھنوں کو سلجھائیں اپنی زندگی کو آسان بنائیں۔ زندگی کی قدر کریں اور اسے بھرپور جئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •