لاہور میں طالبہ کی پراسرار موت،قصوروار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک ہی خبر گردش کر رہی ہے۔ (لاہور میں ایک لڑکی کی موت سے متعلق خبر ہے،تفصیل میں نہیں جاؤں گی) لوگ واقعے کی تفصیل کے ساتھ لڑکیوں کے لیے لمبے چوڑے نصیحت نامے لکھ رہے ہیں۔ گویا لڑکیوں کے لئے دنیا میں رہنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے یا شاید اس سے بھی زیادہ مشکل۔ ذرا سی لغزش، کوتاہی ان کی زندگی برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔

لیکن ٹھہریے!
کیا صرف لڑکیاں قصوروار ہوتی ہیں؟

یقیناً اب آپ کے ذہن میں آ رہا ہو گا کہ نہیں نہیں لڑکے بھی برابر کے قصوروار ہوتے ہیں۔ (یہ اور بات ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کو بہت مارجن دیتا ہے )

لیکن کیا صرف یہ دو لوگ قصور وار ہیں؟
کیا انسان پیدائشی طور برائیوں سے عبارت ہوتا ہے؟
گناہوں سے لتھڑا ہوتا ہے؟
نہیں۔
یقینا اًیسا نہیں ہے۔
حدیث مبارکہ ہے :
” ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“
فطرت سے مراد دین اسلام کو قبول کرنے کی استعداد ہے۔ یعنی اس کی خلقت میں، اور پیدائش میں یہ بات شامل ہوتی ہے کہ ”اسلام“ اس کی زندگی کا راستہ بنے۔ اور وہ اس راہ کو اختیار نہ کرے جو اس کے مقصد تخلیق، یعنی روئے زمین پر خالق کائنات کی عبودیت و بندگی اور آخرت کی ابدی نجات کو اس سے دور کر دینے والی ہو۔

گویا انسان کی فطرت پاکیزہ ہے۔ اس کی شخصیت کی تشکیل اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں اور ماحول پر منحصر ہے۔

ایک انسان کی تربیت میں سب سے زیادہ کردار والدین کا ہے۔ انسان کے کردار کی تشکیل میں والدین بنیادی اور باقی تمام عناصر(معاشرہ، دوست، تربیتی ادارے ) ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

والدین اپنے بچوں کو جو ماحول فراہم کرتے ہیں، بچوں کی شخصیت اس کے مطابق ہی پروان چڑھتی ہے۔ ببول کا پیڑ بوئیں تو اس پہ آم لگنے کی امید رکھنا بیوقوفی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

تربیت کا رنگ پختہ ہو تو معاشرے کا رنگ نہیں چڑھتا۔ تربیت کے رنگ کچے ہیں۔ والدین اپنی ذ مہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ والدین نے اپنی دنیا بسائی ہوئی ہے اور بچوں نے اپنی دنیا۔ نوکری کرنے کی وجہ سے ماؤں کے پاس وقت کی کمی ہے۔ نیٹ کلچر نے بچوں کو ماؤں سے دور کر دیا ہے۔ اب بچہ جو کچھ سیکھتا ہے ٹی وی اور میڈیا سے سیکھتا ہے۔

اب میڈیا سے وہ کیا سیکھ رہا ہے ، ہم اس کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ اور پھر لبرلزم، پرائیویسی نام کی بلاؤں نے ایسی اندھیری غار میں دھکیل دیا ہے کہ جہاں سے واپسی کے لئے اب شاید صدیاں درکار ہیں۔

یہ تو صرف ایک واقعہ ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات روز ہوتے ہیں۔ بس کچھ منظرعام پہ آ جاتے ہیں اور اکثر نہیں آتے۔

ہم یہ قطعی نہیں کہہ سکتے کہ قصوروار صرف لڑکی اور لڑکا ہیں بلکہ والدین، معاشرہ، تربیتی ادارے۔ سب کے سب قصور وار ہیں۔ مغرب کی اندھا دھند تقلید نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •