سید ماجد شاہ کی کتاب ”ق“ : ایک طلسم نگری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے پاس یہ کتاب پی ڈی ایف میں تقریباً دو سال سے موجود تھی۔ اور ہر چند ماہ بعد پڑھنا شروع کرتی تھی اور کسی نہ کسی وجہ سے بیچ میں وقفہ آ جاتا تھا۔ اس جنوری پکا ارادہ کر کے کھولی کہ اب ختم کر کے ہی چھوڑوں گی۔ پہلے بھی کچھ افسانوں پہ پڑھ کے فوراً مختصر رائے اپنی فیس بک وال پہ شیئر کی تھی لیکن پوری کتاب پہ رائے یقیناً تب ہی دی جا سکتی تھی جب ایک ایک افسانہ پڑھ لیا گیا ہو۔ نہ ہی اس دیگ کے چاول ایسے تھے کہ آپ ایک چاول دیکھ کے باقی چاولوں کا حال بتا سکیں۔ اس کا ہر چاول اپنی ساخت و ذائقے میں منفرد اور لذیذ ہے اس لیے پوری دیگ کی بریانی ایک نشست میں کھا کر رائے دی جا سکتی تھی۔

اس کتاب کا نام جتنا منفرد ہے۔ اس کے افسانے اس سے بھی زیادہ منفرد ہیں۔ ماجد شاہ صاحب افسانوی ماحول تخلیق کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ کہ جب آپ افسانہ پڑھنا شروع کرتے ہیں تو چند ہی لمحوں میں کرداروں کے ساتھ اس ماحول میں جا پہنچتے ہیں اور پھر افسانہ آپ کے اردگرد برپا ہو رہا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ ان کے ہر افسانے کے مرکزی خیال سے متفق ہوں، میں بھی نہیں ہوں۔ کچھ افسانے جہاں بخوبی میرے نظریات اور احساسات کے ترجمان نظر آئے وہیں کچھ افسانے نظریاتی طور پہ الگ بھی تھے لیکن اس کے باوجود ان کی کہانی میں آپ خود کو مکمل طور پہ ان میں محو ہونے سے روک نہیں سکتے۔

آپ کو ماجد صاحب کے افسانوں میں جہاں ایک طرف کثرت سے استعمال ہونے والے موضوعات کا ایک بالکل منفرد رخ ملتا ہے وہیں ایسے موضوعات بھی ہیں جن پہ یا تو سنجیدہ ادیب لکھنا نہیں چاہتا یا جب لکھتا ہے تو جذبات کے دھارے میں اس مسئلے کی کراہت اجاگر کرنا شاید بھول جاتا ہے۔

” گھوم رے سورج“ اور ”ق“ ایسے ہی دو افسانے ہیں جو قربانی اور سمجھوتے پہ لکھی جانے والی کہانیوں کو بہت عمدہ اور منفرد انداز میں پیش کرتے ہیں۔ گھوم رے سورج کی اگر مثال لیں تو یہاں ایک ایسے شخص سے شادی کا احوال ہے جو پسند نہیں جس کے پیچھے باپ کی پگڑی، ماں کا دوپٹہ بہن کا مسکراتا چہرہ ہے۔ اور اکثر یہ افسانے یہاں ختم ہو جاتے ہیں جب ڈولی اٹھ جائے مگر یہ افسانہ تو شروع ہی اکتیس سال بعد سے ہوا ہے۔ تب سے جب کی زندگی پہ بات کرنا ضروری ہے۔ جب گھر والے سمجھتے ہیں کہ ڈولی چلی گئی اب سب خیر ہے پگڑی بھی بچ گئی ماں کا دوپٹہ بھی اور بہن کی مسکراہٹ بھی۔

”ق“ آپ کو سمجھوتے کا ایک اور زاویہ دکھاتا نظر آئے گا۔ لیکن اس کی تفصیل پہ میں نہیں جاؤں گی یہ افسانہ الگ سے ایک مکمل مضمون کا متقاضی ہے۔

دوسری قسم کے افسانے جو بہت چابک دستی سے لکھے گئے وہ ”رنگین رسی“ ، ”انتہائی گھٹیا آدمی“ ، ”مکروہ“ اور ”صبورہ“ ہیں یہ وہ افسانے ہیں جن کو لکھنے کے لیے یقیناً آپ کا مشاہدہ بہت گہرا ہونا اہم ہے۔ تاکہ ان مسائل کی بدصورتی بھی قائم رہے اور لطف کا عنصر کراہت کے عنصر کی جگہ نہ لے لے۔ جسے ماجد صاحب نے بہت عمدگی سے تحریر کیا ہے۔

ان کے کچھ افسانے ایسے بھی ہیں جن کے لیے میں واضح انداز میں ماننا چاہوں گی کہ انہیں سمجھنے کے لیے مجھے مزید وقت درکار ہے۔ دلچسپ ہونے کے باوجود ان کے مکمل معنی مجھ پہ نہیں کھل سکے۔

ایک اور عمدہ افسانہ جو پہلی دفعہ پڑھنے پہ پیچیدہ لگا تھا لیکن جب آگے کے افسانوں کے ساتھ پڑھا تو اندازہ ہوا کہ ہمہ جہت ہونے کے باوجود یہ افسانہ ماجد صاحب کے نسبتاً سادہ افسانوں میں سے ہے لیکن اس کے باوجود اس کا مرکزی خیال اور اس کی کہانی نہایت عمدہ ہے وہ ہے ”آنکھ کے اندھے“ آنکھ کے اندھوں کا شعور کی پستی کی طرف سفر آپ کو موجودہ حالات کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے۔

اب رائے لکھتی جا رہی ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کس افسانے کو چھوڑوں کس پہ رائے دوں اور کتنی رائے دوں۔

اب ذرا ”تصویریں“ پڑھ کر دیکھیے۔ ایک لڑکی کے پیدائش سے موت تک بدلتے خد و خال کی کہانی اور ان خد و خال میں ہی سارا افسانہ موجود ہے۔

اب میں آپ کو اپنی دلچسپ سستی بتاؤں، میں جب ڈائجسٹ پڑھا کرتی تھی تب سے عادت پڑ گئی کہ کہانی یا افسانے کا عنوان اور رائٹر کا نام نہیں پڑھتی تھی۔ عنوان تو اکثر اس لیے کیوں کہ ان کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہوتا۔ جس کا اصل کہانی سے کوئی لینا دینا نہیں۔

لیکن ماجد شاہ کے افسانے پڑھ کر مجھے اپنی اس غلطی نے کئی بار بریک لگانے پہ مجبور کیا۔ ان کے عنوان بہت گہرے مشاہدے اور سوچ بچار کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ سمجھیے ستر فیصد کہانی اگر صفحات پہ لکھی ہے تو بیس تیس فیصد کہانی عنوان میں چھپی ہے۔ اگر عنوان ہٹا دیا جائے یا بدل دیا جائے تو کہانی ادھوری رہ جائے یا اپنے معنی ہی بدل لے۔ آپ جب افسانہ مکمل کر لیتے ہیں تو صفحات پلٹ کر ایک دفعہ عنوان ضرور دیکھنا پڑتا ہے تاکہ کہانی کا دائرہ مکمل ہو اور سمجھ آ سکے۔

ماجد صاحب کے ہر افسانہ کو پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر افسانہ انہوں نے لکھا نہیں بلکہ اپنے پروں تلے ”انکیوبیٹ“ کیا ہے۔ بہت احتیاط بہت توجہ سے بہت سازگار حرارت، نرمی اور محبت کے ساتھ۔

مجھے اب ان کے نئے ناول ”بلدا دیوا“ کے اردو ترجمے کا شدت انتظار ہے۔ اور کیا پتا کہ ان کی تحریر پڑھنے کا شوق مجھے ہندکو سکھا دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 94 posts and counting.See all posts by absar-fatima