عورت کے جسم کو فتح کرنے کے لیے ٹائمنگ بڑھانے کی فکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے سماج کی عورت بیچاری بہت بے بس اور لا چار ہوتی ہے اسے اپنی ذات کو ایک فیصلہ کن مقام تک لے جانے کے لیے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں کیونکہ اسے اپنا کریکٹر سرٹیفیکیٹ معاشرے سے لینا ہوتا ہے اور اس کا سب سے فیصلہ کن امتحان شادی کی پہلی رات کو پہلے اپنے شوہر اور پھر سماج کے آگے سرخرو ہونے کا ہوتا ہے۔ پلنگ کے اوپر بچھی ہوئی سفید چادر پر پڑنے والے خون کے چھینٹے مرد کی مردانگی اور عورت کی پاک دامنی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مرد کی مردانگی کا راز صرف عورت جانتی ہے جبکہ عورت کے راز کو پبلک کر دیا جاتا ہے اور باقاعدہ طور پر دلہن کی سہیلیاں اور رشتہ دار خواتین اس عمل کی کامیابی پر ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دیتی ہیں۔ اگر چادر سرخ رنگ سے رنگین نہ ہو تو پھر انگلیاں عورت کی طرف اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں اور مختلف طرح کی بے ہودہ چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ عورت کے ناتواں کندھوں پر بہت بوجھ ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنی عصمت کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی مردانگی کو بھی صیغہ راز میں رکھنا ہوتا ہے کیونکہ بہرحال وہ اس کے سر کا سائیں ہوتا ہے چاہے جیسا بھی ہو سب چلتا ہے۔

کیونکہ ہماری روایتی تعلیمات کے مطابق ”جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں“ اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہر صورت میں بھگتنا عورت کو ہی پڑتا ہے اور مرد کو تو ویسے بھی چار عورتیں رکھنے کا اسپیشل ڈسکاؤنٹ بھی حاصل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عورت کی پاک دامنی کا فیصلہ کرنے کے لیے دو انگلیاں کافی ہوتی ہیں جبکہ مرد کی پاک دامنی کو ٹیسٹ کرنے کا کیا پیمانہ ہے؟ عورت بیچاری اس بات کا بھی اظہار نہیں کر سکتی کہ ”میرا شوہر حق زوجیت کو پورا کرنے کا اہل نہیں اور وہ نامرد ہے“ اتنی بات کا اظہار کرنے کے لیے اسے معاشرتی دباؤ کے پل صراط پر چلنا پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا، شوہر سے طلاق کے علاوہ اپنے آبائی گھر کو کھونا پڑتا ہے اور ساری زندگی کے سماجی طعنے اس کے علاوہ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مرد عورت کے جسم کو فتح کرنے کے لیے ہزاروں جتن کرتا ہے مگر اس کی روح میں اترنے اور دل کو فتح کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کرتا۔ بنیادی وجہ ہماری سوشل کنڈیشنگ ہے ہمیں اپنے بڑوں سے یہ باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔

عورت پاؤں کی جوتی ہوتی ہے اسے پاؤں کی جگہ پر رکھو سر پر مت بٹھاؤ۔
عورت ناقص العقل ہوتی ہے اس سے مشورہ مت کرو۔
اپنی جیب کا راز اپنے جیون ساتھی کو مت دو۔
اس سے سخت زبان میں بات کرو کیونکہ نرم مزاجی سے یہ تمہارے دماغ کو ماؤف کر دے گی۔
عورت کو مرد کے پیچھے چلنا چاہیے آگے نہیں کیونکہ مرد حاکم ہوتا ہے۔

جب اس سوشل کنڈیشنگ کے زیراثر عورت مرد کے رشتے کو پروان چڑھایا جائے گا تو پھر برابری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، عورت ہمیشہ محکوم اور مرد ہمیشہ حاکم رہے گا اور اسی حاکمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اور عورت کو زیر رکھنے کے لیے اوٹ پٹانگ قسم کے کشتے، ہربل میڈیسن اور عضو تناسل کے تناؤ کے لیے طلاء وغیرہ استعمال کرتا ہے، ٹائمنگ بڑھانے کے لیے ہزاروں جتن کرتا ہے تاکہ عورت کے جسم کو فتح کر کے اپنی مردانگی ثابت کر سکے مشرقی مرد کے ذہن پر عورت کیسے سوار ہے اس کا ثبوت بڑے بڑے سائن بورڈ اور وال چاکنگ کی صورت میں جنسی ادویات کی تشہیر اور جنسی عطائیوں کے بلند و بانگ دعوے ہیں اس تصویر مزید واضح کرنے کے لیے میں سعید ابراہیم کی کتاب ”سیکس اور سماج“ کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ

”مردوں کی اکثریت سرعت انزال کا خوف لیے حجلہ عروسی میں داخل ہوتی ہے۔ اور اکثر وہی ہوتا ہے جس کا انہیں خوف ہوتا ہے۔ عورت کے بدن کی تپش انہیں گھی کی طرح پگھلا دیتی ہے اور عورت کا بدن بھڑکنے بھی نہیں پاتا کہ مرد کی مردانگی کا چراغ آناً فاناً بھڑک کے بجھ بھی جاتا ہے۔ عورت اذیت کے ساتھ سوچتی ہے کہ یہی وہ لمحہ تھا جس کے لیے اس نے طویل عرصہ تک اپنی خواہشات کو سوسائٹی اور اپنے ضمیر کی طرف سے نافذ کردہ اخلاقی جبر کی بھاری سل تلے دبائے رکھا۔

ارے۔ یہ مرد تو نرا نامرد نکلا۔ مگر وہ کوئی بات بھی زبان پر نہیں لا سکتی کیونکہ وہ عورت ہے۔ وہ تو نکاح کے نام پر خود پر مسلط ہونے والے مرد سے یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ اگر تم میری بنیادی ترین بھوک بھی نہیں مٹا سکتے جو صرف اور صرف تمہاری ذمہ داری تھی، تو میرے پاس کیا لینے آئے تھے؟ وہ واقعی ہی کچھ نہیں بول سکتی کیونکہ وہ ایک مشرقی عورت ہے، ایک ڈری سہمی بزدل عورت ہے۔ بولے گی تو بے حیا کہلائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے ہاتھ میں ولیمے سے پہلے ہی طلاق کا کاغذ تھما دیا جائے ”

یہ لائنیں ایک کڑوی حقیقت کو ہمارے سامنے لاتی ہیں، چاہے ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں یا جھوٹا پارسائی کا نقاب پہن لیں کیونکہ ہماری تربیت میں عورت کا احترام شامل ہی نہیں ہے، اس کی اہمیت ایک سیکشوئل ٹوائے سے زیادہ نہیں ہے۔ ہمارے سماجی بندوبست میں پیار، محبت اور پارٹنر کے درمیان برابری جیسے عناصر شامل نہیں ہیں۔ میں اس صورتحال کو یوں واضح کرنا چاہوں گا کہ میرے ایک دوست نے اپنی شادی کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی میں بیاہ کر اپنے گھر لوٹا، دلہن کو گھر کی اندرونی سیج پر بیٹھا کر گھر کے صحن میں آیا تو میری دادی اماں میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک کمرے میں لے گئی اور مجھ سے یوں مخاطب ہوئی

”پیارے پوتے، بیوی جوتی کی طرح پہننے کی چیز ہوتی ہے سر پر بیٹھانے کی نہیں، اس لیے میری تم کو نصیحت ہے کہ اسے ہمیشہ کھینچ کے رکھنا، ڈھیلا مت چھوڑنا ورنہ وہ تمہیں بالکل خالی کر دے گی“

میرا دوست پریشان ہو کر سوچنے لگا کہ ابھی تو اس کی ازدواجی زندگی کا سفر بھی شروع نہیں ہوا اور ”سماجی چوچک“ پہلے ہی آن ٹپکے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جس رشتے کی ابتداء ہی نفرت اور مردانہ برتری کی بنیاد پر ہو تو اس رشتے سے کیا برآمد ہوگا؟ ایسے رشتے میں بھلا پیار محبت اور آشنائی کیسے پنپ سکتی ہے؟ پیار کے لیے تو آزادانہ ماحول درکار ہوتا ہے جہاں پر دو پارٹنر برابری کی بنیاد پر آنے والی زندگی کا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں بچوں کی لائن لگ جاتی ہے لیکن دونوں پارٹنر پیار کس چیز کا نام ہے اس سے بے خبر رہتے ہیں اور ایک اناڑی مرد کی طرح اپنی سیکشوئل ڈول کے ساتھ اپنا جنسی تعلق استوار رکھتا ہے کیونکہ عورت اس کی نظر میں ایک بے جان جنسی ڈول کی مانند ہوتی ہے جس سے وہ صرف اپنی جنسی بھوک مٹاتا ہے اور عورت کو بے جان ڈول کی طرح چھوڑ کر فرار ہو جاتا ہے اور عورت اس بے رخی اور لا پرواہی کو اپنا مقدر جانتے ہوئے سسکتی رہتی ہے کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ مرد اس کا آقا ہے اور وہ اس کی جنسی باندی۔

باندیوں کے ساتھ تو پھر ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔ بنیادی وجہ کمیونیکیشن گیپ ہے اور والدین کا اپنے بچوں کو نارمل انداز سے گائیڈ نہ کرنا ہے۔ ہمارے والدین اپنی مرضی سے شادی مسلط کرتے ہیں اور پھر بچے کے دل و دماغ میں گھسی پیٹ روایتی باتیں انڈیلتے رہتے ہیں جس سے شادی دو دلوں کے ملن کی بجائے درجنوں لوگوں کی خواہشات کا محور بن جاتی ہے۔ اسی روایتی اناڑی پن کی وجہ سے مرد کی سوچ ٹائمنگ بڑھانے اور سستی تفریح کو حاصل کرنے کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتی۔

وہ اس رشتے کے خوبصورت احساس کو محسوس ہی نہیں کر پاتا، وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ پریگنینسی کے دنوں کو دل سے سیلیبریٹ نہیں کر پاتا، وہ بچہ پیدا کرنے سے پہلے اپنے پارٹنر سے مشاورت کے عمل سے بے خبر ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس رشتے میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو سیلیبریٹ کرنے کا ہنر نہیں جانتا، اسے پتا ہی نہیں ہوتا کہ اس رشتے کو خوبصورتی سے نبھانے کے لیے ”جنسی ٹائمنگ“ کی بجائے ”ذہنی ٹائمنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا اوٹ پٹانگ قسم کی ادویات لینے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ ذہنی ہم آہنگی اور قلبی تعلق اور میاں بیوی کے ساتھ دوستی کا تعلق ”ویاگرا ٹیبلیٹ“ سے ہزار گنا طاقت ور ہے۔ جب رشتوں میں مٹھاس ہوتی ہے تو ٹائمنگ خود بخود بڑھ جاتی ہے کیونکہ جنسی تسکین کا تعلق طاقت ور جسم سے نہیں بلکہ پرسکون ذہن سے ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •