تحریک انصاف اور مجلس احرار ایک پیج پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اک زبان سے دوسری زبان میں معنوں کی نقل مکانی کو ترجمہ کہتے ہیں۔ معنوں کے اس سفر میں بہت کچھ راہ میں رہ جاتا ہے۔ چشموں کا شفاف پانی پہاڑوں سے اتر کر سمندر کو چل پڑتا ہے۔ اپنے اس سفر میں راستوں کی مٹی کے اثرات اپنے من میں سموتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سمندر تک پہنچتے پہنچتے اس کا رنگ روپ تاثیر اور سے اور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مذہب، نظریات، اشیائے خوردنی تک اک سرزمین سے دوسری تک پہنچتے پہنچتے اپنا بہت کچھ تبدیل کرلیتی ہیں۔ ان کے مزاج، ذائقے اور لہجوں تک میں فرق آ جاتا ہے۔ جمہوریت اپنی جنم بھومی برطانیہ سے پاکستان اپنی خالص حالت میں نہیں پہنچی۔ جمہوریت کی دیانت، رواداری اور بشاشت کہیں راہ میں کھو گئی۔ یہاں اپوزیشن کے لئے تخریب پسند کا لفظ برتا جاتا ہے۔ حکومت مخالف، ریاست مخالف قرار پاتے ہیں۔ فوج نے فلاح اور خوشحالی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے اور خیر سے کوئی ادارہ بھی جوابدہ نہیں۔ انگریز موجودہ پاکستان پر 1849 ء میں قابض ہوا۔

پھر یہ قبضہ 1947 ء تک برقرار رہا۔ بہت لوٹ مار بھی ہوئی اور یہ مال خزانے انگلستان بھی پہنچائے جاتے رہے۔ پھر بھی ان 98 برسوں کی کار گزاری دیکھیں، نہری نظام، ریلوے، بجلی کی ترسیل، ہائی ویز، پل، ریسٹ ہاؤس، خود اگائے ہوئے جنگل، ملک بھر میں پھیلی عظیم الشان درسگاہیں او ر سرکاری عمارتیں، لیکن تعمیر و ترقی تو درکنار، ہم 73 برسوں میں انہیں پوری طرح تباہ کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ وہی مصری دانشور نجیب محفوظ والی بات، میں اسرائیل سے شرط لگانے کو تیار ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ وہ کر کے دکھائے جو ہم نے خود اپنے ساتھ کیا ہے۔

سیاسی جماعتیں ہماری تہذیب نہیں۔ یہ برطانوی جمہوریت کی دین ہیں۔ انڈین کانگریس خیر انگریزوں نے بنائی۔ مسلم لیگ بنانے والے انگریز تو نہ تھے یہ انگریزوں کے چہیتے نواب، جاگیردار ضرور تھے۔ انہی کے عطیات سے یہ جماعت چلتی رہی۔ قائد اعظمؒ قانون قاعدے والے آدمی تھے۔ وہ جماعتی فنڈ کا پورا حساب رکھتے۔ احراری تھے تو اکل کھرے درویش منش لوگ، لیکن ان کے معاملات کچھ اور طرح کے تھے۔ مسلمانوں کی اس مفلوک الحالی کے زمانے میں جماعتی چندے بھلا کتنے ہوں گے ؟

لیکن پھر بھی ان سے پارٹی فنڈ کی باز پرس ہوئی تو انہوں نے بڑے دھڑلے سے جواب دیا۔ ہم ہندو لالے نہیں کہ پارٹی فنڈ کا حساب رکھتے پھریں۔ جیسے جیسے پیسے آتے ہیں ہم خرچ کرتے رہتے ہیں۔ ادھر کوئی حساب کتاب نہیں۔ کوئی لکھت پڑھت نہیں۔ جسے اعتبار ہو ہمیں چندہ دے۔ جسے اعتبار نہیں، شوق سے اپنے گھر بیٹھ رہے۔ ہمیں کوئی چندہ وندہ دینے نہ آئے۔ اس زمانہ میں شاید سیاسی جماعتوں کے لئے کوئی قانون بھی نہیں تھا۔ آج کے حالات مختلف ہیں۔

ہماری آج کی سیاست کا یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا ”ریاست مدینہ کے والی“ اسی احراری موقف پر کھڑے ہیں کہ جنہیں اعتبار ہے صرف وہی ہمیں چندہ دیں؟ یا پھر یوں سمجھ لیں کہ دینے والوں کو ہم پر اعتبار ہے اور آپ کون ہوتے ہیں ہمیں حساب کتاب پوچھنے والے؟ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے پہلے قدم سے عمران خان کے ساتھی ہیں۔ پہاڑی لوگ سنگلاخ پہاڑوں کی طرح ہی

سخت جان ہوتے ہیں۔ ان کے رنگ ڈھنگ، طور اطوارمیدانی علاقہ کے لوگوں سے بہت مختلف ہیں۔ اپنے مسنگ پرسنز کا احتجاج ان کے ہاں اور طرح سے ہوا۔ ایک ریڑھی تھی۔ اس پر ان کے مسنگ پرسنز کی تصویریں پڑی ہوئی تھیں۔ ایک دو پردہ پوش خواتین اور ان کے ہمراہ ان کا قائد ماما بلوچ، یہ کوئٹہ سے پیدل اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے۔ ہم نے ا نہیں گجرات چناب کے پل سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ اتنے سفر کے باوجود ان کے چہرے پر کوئی تھکان نہیں تھی۔

اکبر ایس بابر بھی بلوچستان سے ہیں۔ یہ 14 نومبر 2014 ء الیکشن کمیشن کے دفتر اس الزام کے ساتھ پہنچے کہ تحریک انصاف نے 2007 سے 2012 تک بیرون ملک سے اکٹھے کیے گئے پارٹی فنڈ کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ 2011 ء میں پارٹی چیئرمین عمران خان کے سامنے اٹھایا گیا تھا کہ اس کے لئے کوئی انکوائری کمیٹی بنائی جائے۔ لیکن ان کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہاں درخواست لے کر آئے ہیں۔

اس چھ برس سے زیادہ عرصہ میں اس مقدمہ کی 80 کے قریب سماعتیں ہوئیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے 30 کے قریب التواء مقدمہ کی درخواستیں مختلف عدالتوں میں دائر کی گئیں۔ بار بار وکیل بدلے گئے۔ تاخیری حربے برتتے ہوئے سب کچھ کیا گیا۔ لیکن مدعی اکبر ایس بابر پہلے روز ہی کی طرح تر و تازہ اور ڈٹے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف نے کئی موقف اختیار کیے ۔ پڑھتے جائیے۔ تحریک انصاف کے مالی معاملات شفاف ہیں۔ اکبر ایس بابر کا یہ فارن فنڈنگ کیس بے بنیاد ہے۔

اکبر ایس بابر پارٹی کے رکن نہیں۔ اس طرح یہ متاثرہ فریق ہی نہیں کہ عدالت رجوع کر سکیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے حسابات چیک کرے اور اس پر پابندی لگا سکے۔ بھئی! صرف ہمارے ہی حسابات کیوں؟ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے حسابات کیوں نہیں؟ اگر غیر قانونی فنڈنگ ہوئی بھی ہے تو اس کے قصور وار ہمارے ایجنٹس ہیں، ہم نہیں۔ ہمارے معاملات صاف شفاف ہیں۔ اور تازہ ترین موقف کہ ہمارے دشمن ہمارے لئے کھودے گئے گڑھے میں خود آن گرے۔

اس روداد پر مشتاق یوسفی یاد آ گئے۔ ان کی بیان کی گئی حکایت انہی کے لفظوں میں پڑھیے : ”ملا نصیرالدین پر ہمسایہ نے نالش کی کہ ملا نے مجھ سے ایک نہایت نادر اور بیش قیمت صراحی عاریتاً لی۔ مگر جب لوٹائی تو تڑخی ہوئی تھی۔ ملا نصیر الدین نے جواب دعویٰ میں لکھا کہ اول میں نے مدعی سے صراحی لی ہی نہیں۔ دوم میں نے جس وقت واپس کی تو وہ بالکل ثابت و سالم تھی۔ سوم جب میں نے صراحی لی تو وہ پہلے سے ہی تڑخی ہوئی تھی“ ۔

تحریک انصاف ہمارے ملک کے پڑھے لکھے، صاف ستھری سیاست کے گرویدہ لوگوں کی جماعت ہے۔ آپ اسے پرانی کرپٹ سیاست کے خلاف ایک احتجاج بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے یہ سارے معاملات پڑھنے سننے میں اک گھن سی آتی ہے۔ انگریز مزاح نگار مارک ٹوئن کے مطابق لوگوں کو بیوقوف بنانے سے کہیں مشکل کام لوگوں کو اس بات کا قائل کرنا ہوتا ہے کہ وہ بیوقوف بنائے جا رہے ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے کالم نگار بھی ایسی ہی مشکل میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •