سیاسی مزاحمت، بیانیہ اور وراثت
پی ڈی ایم تحریک مختلف مراحل طے کرتے ہوئے جب فیصلہ کن موڑ مڑنے والی ہے تو اس میں اختلافات کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ مختلف جماعتوں کے اکابرین کے نقطہ نظر میں متنوع معروضی صورتحال کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی خاطر عملی اقدامات میں تبدیلیوں کی ضرورت نے باہمی اختلاف رائے کا تاثر ابھارا ہے جبکہ حکومتی حلقے کے بیانات اور پروپیگنڈا نے بھی اس تاثر کو مضبوط کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کا سنسنی خیزی پیدا کر نے کا کردار اپنی جگہ، تاہم تحریک کے اثرات سے انکار کی کوشش ممکن نہیں۔ بلکہ طاقتور حلقے کی جانب سے ان کی مختلف کاوشوں نے قومی جمہوری تحریک کے دباؤ کی عملی تائید کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نابغوں سے میرا مسلسل سوال یہی ہے کہ آخر وہ پی ڈی ایم سے کس نوعیت کے عملی اقدامات کے آرزو مند ہیں؟ جارحانہ احتجاجی عوامی قوت کے ذریعے دباؤ میں مسلسل اضافہ یا متوازن طور پر دباؤ کے علی الرغم مکالمہ؟ یا معروضی منظر نامے کی ہٹ دھرمی کے جواب میں ویسی ہی ہٹ دھرمی؟ یا اس کے برعکس پرامن جمہوری جدوجہد کی عملی اثرات مرتب کرتی تبدیلیوں کے متمنی ہیں؟ اس سوال کے جواب سے دراصل ملکی سطح پر ذرائع ابلاغ میں جاری مباحثے کی جہت اور افادیت کا تعین ہو سکتا ہے۔
تحریک کے اہم مرحلے پر جبکہ پی ڈی ایم آئینی ذرائع کے ساتھ اپنی جدوجہد کو مربوط کرنے جا رہی ہے۔ اس میں باہمی اختلافات کی قیاس آرائیوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ درپردہ معاملہ بندی کا تاثر کیوں ابھارا جا رہا ہے۔ کیا اس منفی عمل کے مضمرات سے صرف نظر مناسب رویہ ہے؟ معاملہ بندی کے متعلق مثال کے طور پر لکھا جا رہا ہے۔ تجویز کیا گیا ہے کہ
”اگر چچا بھتیجی ایک صفحے پر آ جائیں بڑے میاں صاحب سیاست سے باقاعدہ دستبردار ہوجائیں شریف خاندان کی سیاسی وراثت کی پگ چھوٹے میاں صاحب کے سر پر رکھ دیں اور یہ بھی طے کر لیں اب مریم نواز اپنے والد کے سخت گیر سیاسی بیانیے پر انتہا پسندانہ رویہ اختیار نہیں کریں گی اور یہ اختیار بھی چھوٹے میاں کو دے دیں کہ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں میں اتحاد واتفاق کی نئی کوششیں شروع کی جائیں تو ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو بھی چند شرائط کے ساتھ قبول کیا جاسکتا ہے اور شریفوں، چوہدری برادران پیر پگارا کی فنکشنل لیگ کا اتحاد نئی راہیں کھول کر ملک کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکال سکتا ہے جس سے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“ ”
یہ تھیسز کوٹ لکھپت جیل میں جناب میاں شہباز شریف کے ساتھ جناب محمد علی درانی کی ملاقات سے اخذ شدہ ہے جو محض پی ڈی ایم کی تحریک میں رخنہ اندازی تک محدود نہیں بلکہ میاں نواز شریف کی سیاسی وراثت کے متعلق بھی ابہام اور تفرقہ پیدا کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
میاں نواز شریف کا سیاسی سفر ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سرکاری صنعت سیاست کاری کے ذریعے ہوا تھا۔ ضیاء کے دور میں جب تک وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے ملک بھر میں سیاسی ساکھ سے محروم تھے آئی جے آئی کی تشکیل اور بعد ازاں جونیجو حکومت کے خاتمے تک میاں صاحب محکمہ زراعت کے ترا شیدہ پودے سمجھے جاتے تھے لیکن پہلی بار وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے کچھ ایسے فیصلے کیے جو ”کارخانہ سازوں“ کو پسند نہ تھے چنانچہ ایوان صدر کے ذریعے میاں نواز شریف کی حکومت گرانے کی کوششیں شروع ہوئیں جن میں درپردہ کردار تو خلائی مخلوق کا تھا تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھی طاقتوروں کی ہمقدم تھیں۔
جبکہ میاں نواز شریف نے ایوان اقتدار کی راہ داریوں اور بند کمروں میں ہونے والی گھناؤنی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی ٹھانی۔ ٹی وی پر قوم سے خطاب کیا تو وہ گویا میاں نواز شریف کی اپنے کار سازوں کے خلاف پہلی بغاوت تھی جس نے ملک کے چاروں کونوں میں انہیں ایک آلہ کار کے برعکس سیاسی رہنما بنا دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ تقریر اور اس کے اثرات نواز شریف کی سیاسی زندگی کا نکتہ آغاز بنے بعد ازاں وحید کاکڑ فارمولہ اور جو تگڑم ہوئی وہ سب کچھ ملکی سیاسی تاریخ کے اوراق پر انمٹ ہے۔
دوسری بار انہوں نے کارگل آپریشن پر ناراضی کا اظہار کیا مگر دوران آپریشن فوجی ضروریات کی بہم رسائی میں خلل نہیں ڈالا۔ کارگل آپریشن آرمی چیف کا ذاتی یا چند دیگر جرنیلوں کا فیصلہ بلکہ خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب وزیراعظم کی کوششوں کے خلاف ایک رد عمل تھا۔ آپریشن کارگل چیف ایگزیکٹو کی پیشگی منظوری کے بغیر غیر آئینی و غیر قانونی عمل تھا جس نے سفارتی محاذ پر بھارت کے ساتھ بہتر ہمسائیگی پر استوار تعلقات کے عمل کو آغاز میں ہی سبوتاژ کر دیا جو کشمیر کے سلگتے سوال کا پرامن اور آبرو مندانہ حل ممکن بنا سکتا تھا۔
ثانوی طور پر کارگل آپریشن شروع کرتے ہوئے اس کا پیشہ وارانہ تکنیکی عسکری انداز میں تنقیدی جائزہ نہیں لیا گیا تھا متبادل پلان موجود مرتب نہیں تھا اور دشمن کے جوابی اقدام کے متعلق معروضی طور پرغور کرنے اور افواج کی بحفاظت واپسی سے متعلقہ امور نظر انداز کیے گئے تھے بلکہ یہ اہم نقطہ جسے بالکل منصوبہ بندی سے خارج رکھا گیا تھا کہ اگر بھارت نے جوابی اقدام میں پاکستان کی بین الاقوامی سرحد عبور کی تو خطے میں ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی تھی۔ کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف نے اسی امکانی خدشے کو محور بنایا اور سوچا تھا کہ اس صورت میں دنیا پاک بھارت ایٹمی جنگ روکنے کے لئے آگے آئے گی تو مسئلہ کشمیر عالمی ایجنڈے کا اہم ایشو اور فوری توجہ کاحامل ہو جائے گا مگر ہوا اس کے برعکس۔ کارگل پر ہمارے سینکڑوں فوجی شہید ہوئے۔ افواج کی بحفاظت واپسی بہت مشکل ہو گئی۔ بھارت نے سنگین نتائج کی دھمکی دی تو پھر وزیراعظم نواز شریف کو آگے بڑھ کر معاملات سنبھالنا پڑے۔ واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا جہاں بالواسطہ طور پر نئی دہلی کے ساتھ جنگ بندی طے پائی۔ وزیراعظم آرمی چیف کے اس غیر قانونی اقدام اور دیدہ دلیری پر تادیبی کارروائی کرنے کا عزم رکھتے تھے کارگل آپریشن کے لئے تحقیقاتی کمیشن بنا لیکن اس پر عمل سے قبل 11 اکتوبر 1999 کی تاریک شب نے ملک کو ڈھانپ لیا۔ میاں نواز شریف کی تادیبی کارروائی کی سوچ تاریخی طور پر انہیں سیاسی قائد بنانے میں معاون بنی۔
2013 کے انتخابات کے فوری بعد جناب جنرل کیانی (آرمی چیف) کی ماڈل ٹاؤن لاہور میں میاں برادران سے ہونے والی غیر رسمی مگر طویل نشست میں بھی ہر قسم کے دباؤ و تعاون کی مشروط پیشکش ہوئی مگر میاں نواز شریف نے وزیراعظم نہ بننے کی تجویز ماننے سے انکار کر دیا تو ان کی سیاسی مزاحمت ایک قدم مزید آگے بڑھی۔ حلف برداری کے بعد میاں نواز شریف نے قومی سلامتی وخارجہ اموار کی فیصلہ سازی کا مرکز ثقل پنڈی سے اسلام آباد منتقل کیا تو تعلقات میں سرد مہری بڑھی۔
سابق آمر پرویز مشرف کے خلاف تین اکتوبر 2007 کے ایمرجنسی نفاذ کے فیصلے پر سپریم کورٹ کے دوٹوک احکام کی روشنی میں غداری کا مقدمہ قائم ہونا۔ مزاحمتی سیاسی قیادت کے قد میں مزید نمو کاری کا حوالہ تھا۔ عدالتی فیصلے کے ذریعے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور جانے پر اصرار۔ مزاحمت میں توانائی و عزم کا اشارہ تھا جسے ووٹ کو عزت دو کے نعرے نے ایک مربوط ملک گیر مقبول سیاسی ایجنڈا اور مزاحمتی جمہوری سیاست کا استعارہ بنا دیا۔ محترمہ مریم نواز اسی استعارے کی تعبیر بنیں۔
میاں نواز شریف اپنی جائیداد کی وراثتی تقسیم بہت پہلے کرچکے تھے ان کے پاس صرف سیاسی وراثت موجود ہے جسے وہ اپنی بیٹی کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ سیاسی وراثت قائم رہے گی تو آئندہ نسل کو منتقل ہو پائے گی نیز وراثتی انتقال کا استقلال بھی اس کے پیراے اور انداز کو برقرار رکھنے کا متقاضی ہوگا چنانچہ یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ مریم نواز مزاحمتی جمہوری سیاسی کردار سے دستبردار نہیں ہوں گی۔
اس صورتحال کے تناظر میں اگر اس مشورے کو پرکھا جائے جس کا حوالہ ابتدائی سطور میں ذرائع ابلاغ کے حوالے سے دیا گیا ہے تو مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کی تجویز اورچچا کی قیادت کو تسلیم کرنے کا مشورہ دراصل پرنالے کو پرانی جگہ پر برقرار رکھنے کے سوا کچھ نہیں جہاں وہ 1956 کے بعد سے بہہ رہا ہے۔ یہ تجویز مذکورہ سیاست میں غیر آئینی مداخلت یعنی آذریت اور ہائی برڈ سیاسی کشیدہ کاری کو دوام دینے کے علاوہ کوئی مفہوم نہیں رکھتی۔ مریم نواز شریف کے متعلق یہ بہت واضح ہو چکا ہے کہ ان کی جماعت کے نام کا لاحقہ مسلم لیگ کے سابقے یعنی ”نون“ میں مدغم ہو چکا ہے اس جماعت کو اب نواز لیگ کہا جانا چاہیے جس کے مزاحمتی بیانیے و سیاست کی پارٹی میں گہرائی میں سرایت کا اندازہ گزشتہ ہفتے نواز لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اس اجلاس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس پر محترمہ مریم نواز کی شرکت حکمران اتحاد کے ترجمانوں کو بہت بھیانک و ناگوار گزری تھی اس اجلاس میں نواز لیگ کے اراکین اسمبلی کی بڑی اکثریت نے تحریک عدم اعتماد کی تجویز کو ناپسند کیا اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی۔ یہ بات بذات خود اس معروضی سیاسی منظر نامے کو واشگاف کرتی ہے جس میں مسلم لیگ کی روایتی سیاست نواز لیگ میں ضم ہوتی نظر آتی ہے۔ صورتحال نواز شریف اور مریم نواز شریف کو پس منظر میں دھکیلنے سے بہت آگے جا چکا ہے جسے پی ڈی ایم اور نواز لیگ کے باہمی اشتراک نے استحکام دیا ہے۔
جناب محمد علی درانی کی مذکورہ ملاقات اور ان کے مقاصد ظاہر کرتے بیانات ستر کے عشرہ میں شائع ہونے نوایے وقت کے اداریوں کی نقالی ہیں جو پیش پا صورتحال سے کسی قسم کا لگا نہیں کھاتے
پس نوشت:
جناب بلاول زردای کی عدم اعتماد تجویز پر پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں 4 فروری کو فیصلہ ہو گا۔ اگر عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے لیے مطلوب ووٹ ملنے کا یقین شرکائے اجلاس کو دلا دیا گیا تو یہ تجویز عمل کے مرحلے میں داخل ہوجایے گی بصورت دیگر تجویز مسترد ہو جائے گی۔ دریں حالات حکومت کو یہ دلیل دینے کا موقع نہ ملے گا کہ اسے قومی اسمبلی میں تاحال اکثریتی ارکان کا اعتماد میسر ہے؟ حکومت سے استعفیٰ طلب کرنے والے پی ڈی ایم کے مطالبے کی سیاسی جمہوری ساکھ پر منفی اثر نہیں پڑے گا؟


