ریاست مدینہ: عقیدت کی بجائے حقیقت پسند بننے کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقیقت اور عقیدت میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا خالص دھات سے بنے ظروف اور ملمع کاری سے چمکائے گئے برتنوں میں ہوتا ہے۔ عقیدت کے دلفریب سپنوں میں رہنے والے لوگ شعوری طور پر ایک سہل انگیز زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایسے افراد اور اقوام ماضی کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کو ”حال“ مایوس کن اور مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ ایسی قوم کے لیڈر اپنی تہذیب کے گزشتہ کارنامے اور قصے فخر سے سناتے ہیں۔

اس کے برعکس حقیقت پسند لوگ چیزوں کو میرٹ پر لیتے ہیں اور حقائق کو پرکھ کر حقیقی دنیا میں زندگی گزارنے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت پسند لوگ اپنے ماضی سے سبق ضرور سیکھتے ہیں مگر ماضی کی یادوں کے سہارے زندگی نہیں گزارتے۔ حقیقت پسند اقوام ’حال‘ اور لمحہ موجود میں زندہ رہنا پسند کرتی ہیں، ان کے افراد اپنا ’حال‘ بہتر سے بہتر کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ تاکہ مستقبل درخشاں و تابناک ہو جائے۔ حقیقت پسند قوموں کے لیڈر مستقبل کے ٹھوس منصوبے بناتے ہیں اور عملی اقدامات میں تمام قوم کو ساتھ لے کرچلتے ہیں۔ مہاتیر محمد، طیب اردگان اور ماوزے تنگ اس کی صرف چند مثالیں ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر دیس کو بھی حقیقت پسند اکابرین کی ضرورت ہے مگر ہمارے وزیراعظم، پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ اور اکثر تقریروں میں اس خواب کا ذکر بھی نہایت عقیدت سے کرتے ہیں۔ ہمیں ان کی ریاست مدینہ سے عقیدت سے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ عمران خان صاحب محض ایک عام سیاستدان ہوتے تو کوئی بات نہ تھی۔ مگر ان کو پاکستانی قوم نے اپنا ووٹ دے کر، اعتماد کر کے بہت اہتمام کے ساتھ وزارت عظمیٰ جیسے اہم ترین منصب پر فائز کیا ہے۔ اب پاکستان کی عوام جائز توقع اور سنجیدہ امید رکھتی ہے کہ حکومت وقت ان کی زندگیوں کو آسان بنائے گی اور ان کے گونا گوں مسائل کا مداوا ہوگا۔

مسلمانوں کے ”شاندار“ ماضی سے عقیدت اپنی جگہ، مگر آپ یقین کریں کہ عوام کا یہ مسئلہ ہر گز نہیں ہے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے شہر مدینہ میں کیا ہوا تھا۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے شب و روز امن، آشتی، حفاظت اور عزت کے ساتھ گزریں۔ مہنگائی سے نجات ملے، گیس میسر ہو اور بجلی سستے داموں ملے۔ سر پر چھت ہو، تیل، کھانے پینے کی روز مرہ اشیا اورزندگی بچانے والی ادویات عام آدمی کی قوت خرید میں ہوں۔ نوجوانوں کو تعلیمی قابلیت کے مطابق روز گار ملے۔ اور عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔ قدیم ادوار میں کیا ہوا تھا یا کیا نہیں ہوا تھا عام پاکستانی کا مسئلہ نہیں ہے۔

حقیقت کی عینک پہن کر دیکھیں تو آج کے معروضی حالات اور ڈیڑھ ہزار سال قبل کے معروضی حالات میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ انسانی سوچ عمرانیات اور سماجیات میں انقلابی ارتقا ہوا ہے۔ ارتقاء کی یہ رفتار دو سو سال قبل تک قدرے سست تھی۔ مگر گزشتہ چند صدیوں کے دوران اس میں ہوشربا تبدیلی و ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ زنگی کرنے کے انداز یکسر بدل چکے۔ گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال میں معاشی، معاشرتی، اورسماجی تقاضے بدل چکے ہیں۔

روز مرہ کے عمومی امور، کھانے، پینے، سفر کرنے اور سونے سے لے کر ملکی امور، بین الاقوامی تعلقات، رسل و رسائل، معاشی اور دفاعی نظام تک اپنی ہیئت تبدیل کر چکے ہیں۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ وقت کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ کیا آج کے حکمران و اشرافیہ کھجور کھا کر چٹائی پر سوتے ہیں؟ اونٹوں پر سفر کرتے ہیں؟ کیا آج کے فوجی گھوڑوں پر سوار ہو کر اور تلوار ہاتھ میں لے کر دشمن کے ٹینکوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

مستند اور غیر متنازع تاریخ شاہد ہے کہ 622ء میں مدینہ میں قائم ہونے والی پہلی مسلم ریاست قبائلی معاشرت و ثقافت کی گود میں پل کر جوان ہوئی تھی۔ جو اسلامی مملکت کے طور پر متشکل تو ہوئی مگر بد قسمتی سے پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد مدینہ میں اقتدار کی کشمکش اور سیاسی چپقلش کا شکار ہو کر 661ء میں اختتام پذیر ہو گئی تھی۔ اس کی تفصیل میں جانا اس مضمون کا مطمح نظر نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ کی کتب اس دور کی منظر کشی سے بھری پڑی ہیں۔

اسلامی تاریخ کے اس تاریک دور نے بے پناہ اندرونی اور بیرونی خلفشار دیکھا تھا۔ سازشوں کے نتیجے میں تین خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعٰین شہید بھی ہو گئے تھے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس فلاحی ریاست میں انصاف کا مضبوط نظام قائم ہو، وہاں پر کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کوئی اس معاشرے کا امن یوں برباد نہیں کر سکتا۔

جہاد بالشمشیرکے ذریعے دنیا کے زرخیز ترین علاقوں پر قبضہ کرنا اس دور کا تقاضا رہا ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک کی حد تک یہ ذہنیت آج بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے۔ مگر اس کے بر عکس ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس کا چلن نہ ہونے کے برابر ہے۔ آج وقت کا تقاضا عوام کو جنگ کی تباکاریوں میں جھونکنے کی بجائے ان کی حفاظت کرنا، ان کو با عزت روزگار کے مواقع دینا اور ضروریات زندگی کی ارزاں فراہمی ہونا چاہیے۔

آج ہم ساتویں نہیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں زندہ ہیں۔ ہمیں جدید فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنی ہے۔ حقیقت پسند بن کر سوچنا اور چلنا ہے۔ ماضی کے رومانس سے نکل کر ”حال“ سے نبھا کرنے کا بندوبست کرنا ہے۔ عقیدت پسند بننے کی بجائے حقیقت پسند بننا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •