منفی خیالات اور احساسات کو کیسے روکا جائے؟


دنیا کا ہر انسان اپنی زندگی میں بہت سے مراحل اور تجربات سے گزرتا ہے۔ بہت سے انسان ایسے بھی ہیں جو ماضی میں ایسے تلخ تجربات اور احساسات سے گزرے ہیں جنہیں وہ شیئر تک نہیں کر سکتے۔ ہر لمحے ایسے انسان ماضی کے ان منفی خیالات، احساسات اور تجربات کی وجہ سے پریشان اور دکھی رہتے ہیں۔ ہر وقت ان کے ذہن میں یہی سوال گھومتا رہتا ہے کہ ایسا ان کے ساتھ ہی کیوں ہوا؟ ایسے انسان ان تلخ یادوں اور منفی خیالات سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن جان چھڑا نہیں پاتے؟

ہر وقت یہ تلخ یادیں ان کا پیچھا کرتی رہتی ہیں؟ انسان کی زندگی سے ماضی کے جذباتی دکھ اور درد کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ان منفی خیالات اور احساسات سے باہر کیسے نکلا جائے، وہ آرٹ کیا ہے کہ ہم ماضی کی تلخ یادوں سے ہمیشہ ہمیشہ سے چھٹکارا حاصل کر لیں؟ یاد رکھیں ماضی کے تلخ تجربات کو انسان جتنا بھولنے کی کوشش کرتا ہے وہ یادیں مزید شدت کے ساتھ یاد آتی ہیں اور انسان خوف اور دکھ کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان منفی احساسات کو بھولنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

اب سوال یہ کہ کیا انسان ان منفی خیالات سے جان چھڑانے کے لیے جگہ تبدیل کر  لے، کہیں اور چلا جائے؟ ایسی جگہ جہاں اسے منفی خیالات سے نجات مل جائے۔ ایسا بھی ممکن نہیں۔ انسان جہاں بھی جائے گا، اس کے ساتھ ہی وہ منفی خیالات بھی جائیں گے کیونکہ یادوں کا بوجھ اور کہیں نہیں اس کے دماغ کی میموری میں ہے۔ اس کا مطلب یادیں اس مادی دنیا میں نہیں ، اس کے اندر ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ بھاگنا بھی حل نہیں ہے؟ تلخ یادوں سے بھری میموری کو انسانی ذہن سے نکالا بھی نہیں جا سکتا۔

میموری نکل گئی تو پھر انسان کی کوئی اوقات ہی نہیں رہ جاتی؟ اسی میموری کا نام تو میں ہے، اسی میموری کا نام تو انسان ہے۔ مطلب میموری کو ذہن سے نکالنا بھی حل نہیں ہے؟ انسان کا نام ہی اس کی یاداشتیں ہیں۔ میموری نکل جائے تو انسان اپنی شناخت کھو دیتا ہے اور پھر جب کسی انسان کی یادداشت ختم ہو جائے تو اسے پاگل کہا جاتا ہے۔

اب سوال یہ کہ حل کیا ہے؟ حل صرف یہ ہے کہ انسان گہرائی سے یہ بات سمجھ لے کہ یہ جو میموری ہے یا انسان کی بری یا اچھی یادیں ہیں، یہی اس کی شناخت ہیں اور اسی کے ساتھ ہی زندگی کا سفر جاری رہے گا۔ انسان کی اندر کی دنیا کا انتشار ختم کرنے کے لئے گہری انڈر سٹینڈنگ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ اس دنیا میں ہم اچھے کام بھی کرتے ہیں، برے کام بھی کرتے ہیں، محبت بھی کرتے ہیں، محبت میں ناکام بھی ہوتے ہیں، ہمیں کامیابی بھی ملتی ہے اور ناکامی بھی ملتی ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہوتا رہتا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا، ہمارا دل خوش بھی ہو گا، دل ٹوٹے گا بھی، یہی زندگی ہے اور اس حقیقت کو ہمیں تسلیم کرنا ہے۔ اور یہی مسائل کا حل ہے۔ ہم انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اندر کی دنیا کے مسائل اسی طرح حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح باہر کی دنیا کے مسائل ہم حل کرتے ہیں۔ باہر کی دنیا میں ہمیں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہم اس کو حل کرنے کے لئے عمل کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہے تو یہ حل ہے، یہ کر لیا تو اب یہ کرنا ہے۔

اسی طرح باہر کی دنیا کا نظام چلتا ہے۔ لیکن اندر کی دنیا کا نظام ایسا نہیں ہے، وہاں ایکشن کی ضرورت ہی نہیں، صرف سمجھ کی ضرورت ہے۔ گہری انڈر سٹینڈنگ کی ضرورت ہے۔ انڈر سٹینڈنگ یہ ہے کہ دنیا میں آئے ہیں تو سب کچھ ہو گا، دل بھی ٹوٹے گا، دھوکا بھی ہو گا، منافقت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ کوئی ہمارے جذبات کا فائدہ بھی اٹھائے گا۔ خوشی کے ساتھ ساتھ دکھ کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔

دنیا میں کچھ کرتے رہنا ہی زندگی ہے جب کہ اندر کی دنیا میں گہری سمجھ ہی سب کچھ ہے۔ انسان کا ہر وقت یہ کہتے رہنا کہ میرے تو مسائل ہی ایسے ہی کہ ختم نہیں ہوں گے۔ میری تو زندگی ہی برباد ہو گئی ہے۔ جو کام کرتا ہوں ناکام ہو جاتا ہوں۔ ہر بندہ ہی مجھے برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یہ کروں گا تو یہ ہو جائے گا۔ اس طرح کی حرکتوں کی وجہ سے انسان پریشان ہے۔

انسان کی زندگی میں نوٹنکیاں چلتی رہیں گی۔ کھیل تماشے ہوتے رہیں گے۔ خوشی کے ساتھ دکھ اور تکلیف کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ بری اور اچھی یادیں اور احساسات بھی درپیش ہوں گے۔ اچھا دوست بھی دو نمبری کرے گا۔ محبت کرنے والا نفرت بھی کرے گا۔ اسی کا نام دنیا ہے اور اسی انڈر سٹینڈنگ کی ضرورت ہے۔ ہماری زندگی دکھ اور خوشی کا نام ہے اور یہ دکھ اور سکھ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ہم انسان دکھ کو بھگانے کی کوشش کر کے زندگی کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی وجہ سے ہماری زندگی انتشار کا شکار ہے۔

غربت، امارت، دکھ، سکھ، خوشی غم، محبت اور نفرت اسی کا نام زندگی ہے۔ زندگی میں صرف ہر لمحہ خوشی ملے تو انسان ایسی زندگی سے بھی بور ہو جائے گا۔ آج بزنس ہے کل نہیں ہو گا، آج نوکری ہے کل نہیں ہو گی، آج محبت ہے ہو سکتا ہے کل نہ ہو، آج دکھ ہے کل خوشی کا سماں ہو گا۔ کبھی بھی سب کچھ برباد نہیں ہوتا۔ یہ کہنا کہ میں مکمل طور پر برباد ہو گیا اور اب زندگی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی وجہ سے انسان ہر لمحے پریشان رہتا ہے۔

ہم انسانوں کو جو کرنا ہے دل سے کریں، محبت کرنی ہے دل سے کریں، محبت میں ناکامی کو بھی مکمل تسلیم کریں۔ جہاں سکھ وہاں دکھ، جہاں خوشی وہاں غم، جہاں زندگی وہاں موت۔ اسی کا نام زندگی کی حقیقی سمجھ ہے۔ ایسے انسان جو بھرپور مسکراتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں ، جب وہ روتے ہیں تو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں۔ یہی زندگی ہے۔ انسان جب یہ کہتا ہے کہ میں ہر چیز کے لیے اوپن ہوں،  جو ہو گا سب کچھ کا سامنا کروں گا تو زندگی خوبصورت ہو جاتی ہے۔

ہم انسان یاد ماضی سے خوف زدہ ہیں ، اس لیے ہر کام ڈر ڈر کرتے ہیں۔ ہماری اندر اور باہر کی زندگی میں خوف کا راج ہے۔ اس خوف سے نجات کا حل صرف بہتر اور مثبت سمجھ بوجھ میں ہے۔

دماغ انسانی جسم کا خوبصورت اور دلکش کھلونا ہے اور یہ حیران کن کھلونا ہے جو انسان اس کھلونے سے کھیلنے کے آرٹ سے واقف ہے ، وہی جانتا ہے کہ یہ کھلونا کتنا دلکش اور امیزنگ ہے۔ اس دماغ میں جیسے بھی خیالات، احساسات آ رہے ہیں آنے دو۔ پھر کہو یہ جو برے خیالات ہیں میں نے اگلے ایک گھنٹے تک ان کے ساتھ رہنا ہے تو دیکھنا آپ کا ڈر خوف ختم ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS