ادھورے انسان سے پورے انسان تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے تیس برس کے ذاتی ، سماجی اور پیشہ ورانہ تجربے، مشاہدے ، مطالعے اور تجزیے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ انسانی ارتقا کی کہانی انسانی شعور کے ارتقا کی کہانی ہے۔ پچھلے چند ہزار برسوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ شعور حاصل ہو رہا ہے کہ وہ انسان ہیں اور اب وہ ادھورے انسان سے پورے انسان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نہ جانے کتنے لوگ یہ سوچتے ہیں
ہم کن خصوصیات کی وجہ سے انسان ہیں؟
جانوروں اور انسانوں میں بنیادی فرق کیا ہے؟
ہم کس طرح انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو سکتے ہیں؟

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دور اور ہر معاشرے کے ادیبوں اور شاعروں ، فنکاروں اور دانشوروں نے ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی۔

بہت سے لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انسانوں اور حیوانوں میں صرف یہ فرق نہیں ہے کہ جانور چار پیروں پر اور انسان دو پیروں پر چلتے ہیں اور انسان زبان استعمال کرتے ہیں بلکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انسان شعور کے ارتقا میں جانوروں سے بہت آگے ہیں۔

جانور جانتے ہیں ، ANIMALS KNOW
انسان جانتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں،  HUMANS KNOW THAT THEY KNOW
انسانوں کی یہ خود آگہی (SELF AWARENESS AND SELF CONSCIOUSNESS) انہیں جانوروں سے متمیز کرتی ہے۔

انسانوں نے اپنے شعور کے ارتقا اور خود آگہی کی وجہ سے سائنس اور ٹیکنالوجی ، ادب اور فنون لطیفہ، مذہب اور کلچر ، نفسیات اور سماجیات میں بہت ترقی کی ہے اور کرہ ارض پر تہذیب اور ثقافت کو فروغ دیا ہے۔

چارلس ڈارون نے انسانی ارتقا کی کہانی رقم کرتے ہوئے اپنی کتاب THE DESCENT OF MAN میں سائنسی بنیادوں پر یہ ثابت کیا ہے کہ جہاں انسانوں اور جانوروں کے دماغوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں وہاں انسانی دماغوں میں زبان سیکھنے جیسی ایسی خصوصیات موجود ہیں جو جانوروں کے دماغ میں مفقود ہیں۔

انسانی ارتقا پر غور کرتے ہوئے اور ماہرین کے خیالات اور نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے میں ان نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر پورا انسان بننے کے لیے تین مراحل سے گزرنا ضروری ہے۔

پہلا مرحلہ جذباتی مسائل پر قابو پانا ہے یعنی DEALING WITH EMOTIONAL PROBLEMS

ایک نفسیاتی معالج ہونے کے ناتے میں اس حقیقت سے واقف ہوں کہ جب انسان ذہنی بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے تو وہ ایک خوشحال اور پرسکون زندگی نہیں گزار سکتا اور اپنی بہت سی خفیہ صلاحیتوں کی پرورش نہیں کر سکتا۔ انسانوں کو اپنی ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لیے اپنے ذہنی مسائل کا حل تلاش کرنا پڑتا ہے اور ماہرین نفسیات سے علاج کروانا پڑتا ہے تاکہ وہ ذہنی طور پر صحت مند زندگی گزار سکیں۔

میں نے انسانی نفسیات کے راز کی سیریز میں تفصیل سے ذکر کیا کہ کس طرح بیسویں صدی کے ماہرین میں سگمنڈ فرائڈ نے انفرادی نفسیاتی مسائل، ہیری سٹاک سالیوان نے انسانی رشتوں کے مسائل اور مرے بوون نے خاندانی مسائل کے حل تلاش کرنے میں ہماری مدد کی۔

دوسرا مرحلہ۔ ذاتی نشوونما یعنی PERSONAL GROWTH

جہاں فرائڈ ، سالیوان اور بوون نے ہمیں نفسیاتی مسائل پر قابو پانے میں مدد کی وہیں رولو مے اور ابراہم ماسلو  جیسے انسان دوست ماہرین نفسیات نے وہ طریقے بتائے جن سے انسانی شخصیت میں نکھار پیدا ہو سکتا ہے اور انسان اپنی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کر کے بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔

ماسلو کا کہنا تھا کہ جب انسان اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کر لیتا ہے تو وہ اعلیٰ آدرشوں کے لیے کوشش کر سکتا ہے اور دانائی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

تیسرا مرحلہ۔ سماجی ارتقا یعنی SOCIAL EVOLUTION

جہاں ابراہم ماسلو جیسے ماہرین نفسیات نے ہمیں انفرادی نشوونما پانے میں مدد کی وہیں ایرک فرام ، یووال ہراری اور کین ولبر جیسے ماہرین سماجیات نے ہمیں سماجی ارتقا کے راز بتائے۔ انہوں نے بتایا کہ سماجی ارتقا کے لیے ہمیں ایسے معاشرتی نظام بنانے ہوں گے جو انسانوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ انسان اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں ، اپنے معاشرے کی خدمت کر سکیں اور اجتماعی ارتقا میں حصہ لے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لوگ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے تو وہ اپنی خفیہ صلاحیتوں کو بھی پروان نہیں چڑھا سکتے۔

ماہرین نفسیات اور سماجیات کا کہنا ہے کہ انسانی ارتقا میں خاندان ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاندان ایک ان دیکھے دھاگے سے ایک طرف افراد اور دوسری طرف سماج سے جڑا ہوتا ہے اور دونوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بچے جو صحت مند خاندانوں میں پرورش پاتے ہیں،  وہ اپنے معاشرے کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہوتے ہیں اور سماجی ارتقا میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔

جن بچوں کے خاندان خستہ حال اور ذہنی طور پر بیمارہوتے ہیں ، وہ بچے ساری عمر اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی خفیہ صلاحیتوں کی نشوونما نہیں کر پاتے بلکہ اپنے معاشرے کی بھرپور خدمت بھی نہیں کر سکتے۔

جوں جوں انسانوں کے سماجی شعور میں ارتقا پیدا ہو رہا ہے ، وہ ایسے معاشی اور معاشرتی نظام تخلیق کر رہے ہیں جو انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور انسانی بچوں کو زرخیز زمین مہیا کرتے ہین تاکہ ان کی شخصیت کے بیج بار آور ثابت ہوں اور وہ تن آور درخت بن کر میٹھے پھل پیدا کر سکیں۔

اکیسویں صدی مین انسان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ وہ اگلی صدی میں یا تو ایٹم بم اور خانہ جنگیوں سے اجتماعی خود کشی کے مرتکب ہو جائیں گے اور یا دانا فیصلے کر کے ارتقا کی اگلی منزل تک پہنچ جائیں گے ، جہاں انہیں یہ احساس ہو گا کہ ہمیں ایک دوسرے سے رنگ ، نسل، مذہب اور زبان سے بالاتر ہو کر انسانیت کا رشتہ جوڑنا ہے کیونکہ سارے انسان ایک ہی انسانی خاندان کے افراد ہیں۔

یہ ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم انسانی ارتقا میں اہم کردار ادا کریں اور ایسے معاشرے تعمیر کریں جہاں ہر بچہ چاہے وہ کالا ہو یا گورا ، امیر ہو یا غریب، لڑکا ہو یا لڑکی ، امریکی ہو یا افغانی، اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکے، معاشرے میں عزت کی زندگی گزار سکے اور اپنے انسان ہونے پر فخر کر سکے۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو کرہ ارض پر ایک پرامن معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے اور پورا انسان بن کر انسانیت کی اعلیٰ اقدار کا احترام کر سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 400 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail