برما میں جمہوریت کا خاتمہ، ترقی کا دور شروع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی وجہ سے پانچ سال بعد انتخابات ہو جاتے ہیں، یوں طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوتی اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ وطن عزیز میں تو خیر جوہر قابل کو کسی قابل نہیں سمجھا جاتا، مگر عمران خان کی بات کو دنیا غور سے سنتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہو گی کہ فوراً ہی برما نے ترقی کرنے کا گر اپنی گرہ سے باندھ لیا اور جمہوریت کی خامی کو دور کر دیا۔ ادھر اب پانچ برس بعد عوام کے ووٹ سے جمہوری حکومت نہیں آئے گی بلکہ ایک طویل مدتی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

ویسے بھی یہ کم بخت سیاست دان ہوتے بھی تو بہت کرپٹ ہیں۔ نہ انہیں ترقی کا پتہ ہے نہ قومی امنگوں کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔ حتی کہ دھاندلی بھی کر جاتے ہیں۔ ادھر برما میں بھی یہی ہو رہا تھا۔ سیاست دان کام دھندا تو کوئی جانتے نہیں لفظوں کے طوطا مینا اچھے بنا لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے انتخابات میں 80 فیصد سے زیادہ ووٹ لے لیے۔ پبلک بھی تو بہت بھولی ہے، اپنا برا بھلا جانتی ہی نہیں، وسیع تر قومی مفاد کی اسے خاک خبر نہیں۔ پھر ان ہی کرپٹ سیاست دانوں کو ووٹ دے دیتی ہے جنہوں نے ملک تباہ کر دیا ہے۔

برما کی فوج نے ان کی حرکتوں سے دق ہو کر ملٹری ٹیلی ویژن پر کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے سیاسی قیادت کو نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک بھر میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

برما میں بہت اچھا دستور نافذ ہے جس کی رو سے پارلیمان کی پچیس فیصد نشستیں فوج کے پاس ہیں، اور اسے داخلہ، دفاع اور سرحدی امور کی وزارت بھی دی جاتی ہے۔ دستور میں تبدیلی کے لیے پچھتر فیصد اراکین کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ یعنی کرپٹ سیاست دان اس اچھے دستور کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ لیکن سازشیں کرنے سے وہ باز نہیں آتے۔ یعنی 80 فیصد ووٹ ہی لے لیے اور وہ بھی برما کی سطح مرتفع پوٹھوہار سے۔

ایک برمی صحافی اور پروفیسر ایئی من تھینٹ بتاتی ہیں کہ فوج کو توقع نہیں تھی کہ اسے شکست ہو گی، فوج سے خاندانی تعلقات رکھنے والوں نے بھی اس کے خلاف ووٹ ڈالے۔

یعنی عوام اس حد تک کوڑھ مغز ہیں کہ اپنا برا بھلا ہی نہیں پہچانتے۔ نہ انہیں سمجھ ہے کہ ملک کیسے ترقی کرے گا۔ ان پروفیسر صاحبہ کے بقول میڈیا تو آنگ سان سوچی کو ماں کا درجہ دیتا ہے لیکن فوج خود کو بابائے قوم سمجھتی ہے۔

اب پیر کی صبح ان دھاندلی زدہ کرپٹ سیاست دانوں نے، جنہوں نے بابائے قوم کے ووٹ چرا لیے، پارلیمان کے اجلاس میں انتخابی نتائج کی توثیق کرنا تھی۔ عین وقت پر آرمی چیف جنرل منگ آنگ ہلینگ نے قوم کے وسیع تر مفاد میں ان سیاست دانوں سے جان چھڑا کر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا۔

برما کی فوج نے ملک پر پچاس برس حکومت کرنے کے بعد سنہ 2011 میں یہ سوچ کر جمہوریت کا تجربہ کیا تھا کہ ممکن ہے کہ اب عوام باشعور ہو گئے ہوں لیکن دس برس بعد ہی اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

بعض ففتھیے لوگ شک کا اظہار کریں گے کہ اگر ایک مستحکم غیر جمہوری حکومت پچاس برس میں بھِی طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کر سکتی تو اب کیا کر لے گی۔ ان سے عرض ہے کہ بچکانا دلائل مت دیں۔ سنہ 2012 میں برما کرپشن انڈیکس میں 165 کے سکور پر تھا، اب 137 پر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاست دانوں نے فوجی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے اس کے دور میں کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا تھا اور جب ان کی اپنی حکومت آئی تو جھٹ پٹ کرپشن کم کر دی تاکہ برمی فوج بدنام ہو جائے۔ بعض دیگر ممالک میں بھی سیاست دانوں کی یہ بدچلنی دیکھنے میں آئی ہے۔ نقص امن کے اندیشے کے باعث ہم ایسے کسی دوسرے مثالی ملک کا نام نہیں لیں گے۔

بہرحال یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کو کسی بھی وقت ترقی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ ترقی موجودہ وزیراعظم کے ہاتھوں ہی ہو۔ ادھر سنہ 1958 میں بھی صدر اسکندر مرزا نے قوم کو طویل مدتی ترقی کی راہ پر ڈالنے کی خاطر جمہوری دستور سے جان چھڑائی تھی لیکن عشرہ ترقی جنرل ایوب کے نصیب میں لکھا گیا اور برطانیہ میں جلاوطنی اسکندر مرزا کو ملی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1381 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar