جذام کا عالمی دن: علامات، تشخیص اور علاج


جب سے حضرت انسان نے اس دنیا میں اپنا قدم رکھا۔ یعنی زمین پر انسان نے اپنا ڈیرہ لگایا۔ تب سے ہی مشکلات، بیماریاں، مصائب، خوشیاں، کامیابیاں، بھلائیاں انسانی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔ اللہ پاک اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔ اللہ پاک جن بندوں کا امتحان لیتا ہے ، اگر وہ اس میں کامیاب ہوں تو بہترین اجر عطا فرماتا ہے، اور جو اس آزمائش پر پورا اتریں۔ اللہ کی جانب سے انہیں نوازا جاتا ہے۔ کئی دفعہ مصائب کے ذریعے بندوں کو آزمایا جاتا ہے۔

صبر کرنے والوں اور بے صبروں کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے، اللہ پاک نے کلام پاک میں فرمایا کہ ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی، بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے، مشکلات جتنی بڑی ہوں ہمیشہ رہنے والی نہیں اللہ کی رحمت زیادہ وسیع ہے اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ یقیناً اللہ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کی دوا نازل نہ کی ہو، ہر بیماری کی دوا اور علاج اللہ نے نازل کیا ہے۔

اللہ پاک نے یہ علاج علم کے ذریعے حضرت انسان کو عطا کیا اور جس انسان کو اللہ پاک نے علم دیا ، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس علم سے دوسروں کے لیے مشکلات کا حل تلاش کرے۔ انسان کو لگنے والی بیماریوں میں سے ایک بیماری جذام کی ہے معاشرے کو اس بیماری سے آگاہی کے لیے اقوام متحدہ نے جنوری کے آخری اتوار کو جذام کا عالمی دن رکھا ہے ، یہ دن دنیا بھر میں جذام کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ جذام کے موذی مرض کی طرف مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ ان میں یہ احساس بیدار کرنا کہ جذام کی بیماری قابل علاج ہے۔

مزید یہ کہ اس سلسلے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر 1952ء میں جذام کا عالمی دن منانے کی ابتدا ہوئی۔ اس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ احساس بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ یہ قابل علاج بیماری ہے جذام کی بیماری زیادہ تر ان لوگوں کو ہوتی ہے، جن میں قوت مدافعت کی کمی واقع ہو۔ قوت مدافعت کی کمی، آلودگی، مناسب غذا کا نہ ہونا، ورزش نہ کرنا، ملاوٹ والی اور کیمیکل والی خوراک کھانے اور آلودہ پانی پینے سے ہوتی ہے۔

اس جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کا ذریعہ عام طور پر سانس ہوتا ہے ، ایک مریض سے دوسرے مریض کو بیماری لگ جاتی ہے۔ جذام جس کو عام زبان میں کوڑھ بھی؎ کہا جاتا ہے۔ کوڑھ ایک اچھوت کا مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ عوام الناس کو چاہیے کہ زندگی میں جسم پر کوئی بھی ہلکا سفید یا سرخی مائل دھبہ کبھی نمودار ہو جس میں خارش اور چھونے کا احساس نہ ہو پھر  کئی ہفتوں تک دھبہ ختم نہ ہو اور دوائی یا مرہم بھی اس پر اثر انداز نہ ہو۔بازوؤں اور ٹانگوں کی نسوں میں درد کا احساس ہو تو فوری طور پر اس بیماری کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کر کے اس بیماری کی معلومات حاصل کریں۔

اگر خدا نخواستہ یہی مرض ہو تو اس پر فوری قابو پایا جا سکے۔ اس مرض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جذام قابل علاج مرض تو ہے لیکن بر وقت تشخیص نہ ہونے کے باعث مریض کئی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔ فضائی آلودگی اور گھروں میں صفائی ستھرائی کے فقدان اور غیر معیاری ملاوٹ شدہ خوراک ( چونکہ اس میں قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے ) کے باعث ہر سال تقریباً 300 سے زائد افراد اس جذام کا شکار ہو رہے ہیں۔

وطن عزیز پاکستان میں اس بیماری کا ذکر کیا جائے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والوں کے لیے مسیحا ثابت ہونے والی ڈاکٹر رُتھ فاو کا ذکر نہ کیا جائے۔ یہ وہ مسیحا تھیں جنہوں نے 30 سال کی عمر میں اپنے ملک جرمنی میں بیٹھ کر پاکستان میں اس وقت تیزی سے پھیلنے والی اس موذی بیماری کی ایک ڈاکیومنٹری دیکھی تو وہ ہل کر رہ گئیں،  اس مسیحا ڈاکٹر نے اپنا خاندان، اپنا ملک، اپنا گھر باہر چھوڑ دیا اور جذام کی بیماری میں مبتلا ہونے والے لوگوں کے علاج کے لیے اپنی زندگی پاکستان میں آ کر وقف کر دی۔

پاکستان میں کراچی آ کر انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے قریب چھوٹا سا سینٹر بنایا اور اس بیماری میں مبتلا ہونے والوں کا علاج شروع کر دیا ، وہ بیمار لوگ جن کو اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ کر چلے جاتے ، ڈاکٹر صاحبہ اپنے ہاتھ سے ان کی مرہم پٹی کرتیں۔ ان کو دوائی پلاتیں۔ یہ سینٹر ایک ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا،  پھر 150 سے زائد ایسے سینٹرز قائم کیے گئے ۔ ڈاکٹر صاحبہ ریاست پاکستان کے باسیوں کے لیے مسیحا بن گئیں۔ حکومت پاکستان نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔

انہیں ہلال پاکستان ، ستارہ قائد اعظم، ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ وہ پروسی کنڑول پروگرام پاکستان کی بانی سربراہ تھیں۔ جرمن نژاد ڈاکٹر رُتھ فاو نے 58 سال تک پاکستان میں جذام کے مریضوں کا علاج کیا،  ان کے بارے میں مثبت تشخص اجاگر کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا اور اپنی ساری زندگی پاکستان میں ایسے مریضوں کے علاج معالجے اور اس مرض سے جڑے منفی تاثر کو زائل کرنے کے لیے وقف کر دی۔ اس مسیحا ڈاکٹر کی محنت کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے 1998ء میں پاکستان کو ”پروسی کنٹرولڈ“ ملک قرار دے دیا۔

آنجہانی ڈاکٹر رُتھ فاو  2017ء میں 88 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ ہمیں ڈاکٹر صاحبہ کی انسانیت محبت سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ مریض کتنی ہی خطرناک بیماری میں مبتلا کیوں نہ ہو اس کے ساتھ انسانیت والا رشتہ ختم نہ کیا جائے۔ ڈاکٹر صاحبان جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت سے نوازا ہے ، وہ مریض کی زندگی کو بچانے کے لیے ڈاکٹر صاحبہ کے کردار سے سبق حاصل کریں۔ خونی رشتے دار احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ اپنے مریضوں کو اکیلا نہ چھوڑیں بلکہ اس مصیبت اور مشکل کے وقت مریض کے ساتھ بیٹھ کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور ان کے علاج معالجے کا خصوصی خیال رکھیں۔

Facebook Comments HS