ٹرمپ، سرقہ بازی اور جمہوریت کی طاقت


آج کل امریکہ میں بہت سے لوگوں کو جن میں زیادہ تر گورے ہیں، یہ شبہ ہو گیا ہے کہ ان کے الیکشن کو چرا لیا گیا ہے۔ ان کو یقین ہے بلکہ ان کو یہ یقین سابق صدر ٹرمپ نے دلایا ہے جنہوں نے الیکشن سے پہلے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ اگر وہ نہ جیتے تو یہ صرف بے ایمانی کی وجہ سے ہو گا۔ جس دن کانگرس کو نائب صدر مائک پینس کی سربراہی میں الیکشن کے نتیجے کو قبول کر کے اگلے صدر کی حلف برداری کا انتظام کرنا تھا، ٹرمپ نے ایک جلسے میں ان لوگوں کو ایسا بھڑکایا کہ وہ بزعم خود اپنا اور اپنے صدر (ٹرمپ) کا حق حاصل کرنے پہنچ گئے۔

ان میں بہت سے لوگ دور دراز سے کاروں، بسوں، جہازوں میں آئے تھے۔ وہ ”پینس کو پھانسی لگاؤ“ ، ”پیلوسی کو جان سے مارو“ کے نعرے لگاتے ہوئے بلڈنگ میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ سیلفیاں بھی لے رہے تھے۔ اور اب ایف بی آئی انہیں کی فیس بک سے یا ڈرائیور لائسنس کی تصویر سے انہیں ملک بھر سے گرفتار کرتی پھر رہی ہے۔

اندازہ ہوا وہ لوگ پہلے سے ای میل پر گروپ بنا کر یہ سب طے کر رہے تھے اور ”کسی“ کی ایما پر واشنگٹن کی پولیس کو ان کی راہ میں حائل ہونے کے لیے تیاری کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ گورے تھے بھائی!

ہم مسلمان لوگ کئی دفعہ مظاہرہ کرنے واشنگٹن اور مین ہیٹن گئے ہیں جہاں کھڑے ہونے کو کہہ دیا گیا، وہاں اپنے سائن اٹھائے کھڑے رہے۔

واشنگٹن ڈی سی اور کیپیٹل کی بلڈنگ میں کالے اگر ایک شیشہ بھی توڑ دیتے تو موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے۔ لیکن اس ہنگامے کے گورے شرکا حیرت سے گورے پولیس والوں سے کہتے ہوئے پائے گئے کہ ہم تو تمہارے ہیں ہم پر کیوں سختی کر رہے ہو۔ وہ کیا سختی کرتے ان کے ایک کے مقابل تو ہزاروں کھڑے تھے۔ ایک پولیس والے کی پستول چھین کر کسی نے کہا کہ اس کو اسی کی پستول سے مار دو۔ اس نے اپنے بچوں کا واسطہ دے کر جان کی امان مانگی تو اس کو چھوڑا گیا۔

الیکشن کی چوری سے اور چوریوں کی طرف آئیں۔ یہ سائبر کرائم کا زمانہ ہے کمپیوٹر یا سمارٹ فون سے، (جو ایک جیبی کمپیوٹر ہی ہے ) سے کریڈٹ کارڈ استعمال کیا، درمیان میں کسی نے اس کا نمبر اڑا لیا۔ گھر پہنچنے تک پتہ چلا کہ کوئی اس پر کھا پی کر جا چکا ہے، آپ ٹاپتے رہ جاتے ہیں۔

جب سے ذاتی ملکیت کا تصور انسان کے ذہن میں آیا تبھی سے چوری کا خیال بھی دل میں پلا ہے۔

یوں تو درندوں میں بھی اپنے شکار کو دوسروں سے بچانے کا تصور ہے، وہ اپنے زوج اور اولاد کو بھی پیٹ بھرنے کے بعد ہی شامل کرتے ہیں۔ کچھ بھیڑیے جو مل جل کر شکار کرتے ہیں، مل جل کر کھاتے ہیں لیکن پھر بھی طاقتور زیادہ حصہ لے لیتا ہے۔

توریت میں Thou shalt not steal ”چوری نہ کرنا“ کا حکم آنے سے بہت پہلے حمورابی نے جو جرائم ان کی سزاؤں کے ساتھ ایک پتھر پر کندہ کرا کر اپنے دارالحکومت میں نصب کی تھیں، ان میں چوری کا جرم بھی تھا۔

اگر لکھی ہوئی تحریر کو چرایا جائے تو اسے سرقہ کہا جاتا ہے، انگریزی میں plagiarism کہا جاتا ہے۔ اس کے معنی چوری ہی ہوتے ہیں لیکن چونکہ چرانے والا پڑھا لکھا ہے، اس لیے اس کے جرم کا ذکر بھی ادب سے کیا جاتا ہے۔

جتنا بھی چوری کو غلط کہا گیا، اتنا ہی لوگوں نے اس کو معاشروں میں رائج کیا، لوگ ایک دوسرے کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر لوٹتے ہیں، اسے اپنی ذہانت سمجھتے ہیں۔ قومیں اپنے سے کمزور قوموں کو لوٹتی ہیں، اس سے پہلے کہ انہیں ان کا اندازہ ہو کوہ نور ہیرا ہی نہیں ان کے معدنی خزانے بے دریغ لوٹ لیتی ہیں۔ اگر کوئی بھی کنجشک فرومایہ کو شاہین سے لڑانے کا ارادہ کرتا ہے تو کیوبا، چلی، ۔ ایران اور اب یمن بنا دیا جاتا ہے۔

ایک عرصہ دراز تک امریکہ اور یورپ نے وہ کیا جو ایک چھوٹے پیمانے پر کبھی عربوں نے کیا تھا یعنی افریقی مرد و زن کو پکڑ کر غلامی کے لیے بیچنا۔ لیکن گوری قوموں کا سرمایہ دارانہ نظام ہر کام کو اس کی انتہا پر لے جانے کا رویہ رکھتا ہے، اس رویے کے منفی نتائج کو پس پشت ڈالتے ہوئے جس طرح آج کل وہ میلوں لمبے جال ڈال کر سمندروں کو مچھلیوں سے خالی کیے ڈال رہے ہیں۔ اتنی زیادہ اور اتنی چھوٹی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں کہ آخر میں انہیں بلی کی غذا اور کھاد میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر اس وقت افسوس کیا جاتا ہے جب یہ کام ناممکن ہو جاتا ہے۔

سو جب امریکہ نے گنے اور اس کے بعد کپاس کی کاشت کے لیے انسانوں کو افریقی ساحلوں سے اغوا کرنا شروع کیا تو اس براعظم کے تمدن کو تباہ کر دیا۔ اور جس طرح آج مچھلیاں پکڑ کر ضائع کی جاتی ہیں، اسی طرح سینکڑوں افریقی بحر اوقیانوس کو پار کرتے ہوئے جہاز میں ہی دم توڑ دیتے اور بہت سے آزاد ہونے کی کوشش میں جہاز سے چھلانگ لگا کر شارک مچھلیوں کا لقمہ بن جاتے۔ کہا جاتا ہے کہ اتنے مردے ان جہازوں سے پھینکے جاتے تھے کہ شارک مچھلیاں ان جہازوں کے پیچھے پیچھے تیرتی تھیں۔

اب وہی اقوام اس براعظم کی معدنیات کو چرانے کے لیے وہاں خانہ جنگیوں کو بھڑکا رہی ہیں۔ ویسے تو انسان تلواروں کلہاڑوں کرپانوں سے ایک دوسرے کا خون بہاتا رہا ہے لیکن مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں جتنی خانہ جنگی ہو رہی ہے، وہ ان مغربی اقوام کے بیچے ہوئے ہتھیاروں، مشین گنوں، ہیلی کاپٹروں، بموں اور جہازوں کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ اور ان اسلحہ جات کی خرید کے لیے مشرق وسطیٰ کا تیل، افریقہ کا تیل، ہیرے، تانبا اور دوسری معدنیات چرا کر نہ بیچا جاتا تو ان جنگوں کے ختم ہونے کا کوئی راستہ نظر آتا۔

کیا امریکہ کا الیکشن گوروں سے چرایا گیا ہے۔ نہیں۔ صرف یہ ہوا کہ اس خوف سے کہ کہیں ٹرمپ دوبارہ نہ جیت جائے کالوں نے اس وبا کے دور میں نکل نکل کر ووٹ دیے (میں نے بھی) اور نسلی افتخار کے مرض میں مبتلا گوروں میں اس شخص کو ہارتا دیکھنے کی تاب نہیں تھی جس سے انہیں امید تھی کہ وہ ان کی بالادستی کو برقرار رکھے گا۔ دولت، طاقت، تعلیم ہر چیز میں اب بھی گوروں کی بالادستی ہے لیکن شاید دس برس میں آبادی کا تناسب بدل جائے اور کالے اور سانولے لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جائے۔

Facebook Comments HS