حامد ڈار: گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا نیرِ تاباں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر اس آفرینش میں محبت، عشق، جنوں اور وفاداری کا کوئی روپ ہوتا تو وہ آپ ہوتے، اگر وفاداری کا کوئی بحر، جنوں کی کوئی حکایت اور عشق کا کوئی حسن ہوتا تو وہ آپ ہوتے، اگر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کوئی نیر، نیر تاباں ہوتا تو بے شک و شبہ وہ حامد ڈار صاحب ہوتے۔

چھریرا بدن، درمیانہ قد، روشن آنکھیں، ڈھلکی ہوئی پلکیں، بید مجنوں کی مانند لرزاں بدن، جھری دار چہرہ، چوڑی پیشانی، انتہائی پاٹ دار آواز، کسی آہستہ رو ابلق ایسی چال، سفید کاکل، باریک ترشے اور مسکراہٹ میں لتھڑے لب، لمبی اور باریک انگشتوں میں سلیقے سے دبا ہوا سگریٹ، حسن ملیح میں گندھی ہوئی مورت، یازگی میں تر بدن، کرم گستر، بندہ پرور، مستقیم ذہن، مدلل اور مسکت لب و لہجہ، گل حکمت، تہذیب مجسم، جامع الصفات اور جامع الکمالات صرف حامد ڈار صاحب تھے۔

آپ استاذ الاساتذہ تھے۔ اگر میں اس درس گاہ کی تہذیب کو کوئی نام دیتا تو وہ حامد ڈار ہوتا۔ قدرت نے اس افسانوی شخصیت کا خمیر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی خاک سے گوندھا تھا ، اسی لیے دم واپسیں تک، اس درس گاہ سے انگشتری میں نگینے کی مانند جڑے رہے۔ انتہائی پیرانہ سالی کے باوجود، آپ یونیورسٹی میں قدم رنجہ فرما کر، اس کی خاک تک کو منور کرتے ہوئے، شعبہ اردو میں موجود اپنے دفتر میں بغل میں اخبار دابے، سبک رو سبک رو آتے ، وہاں کچھ دیر قیام کے بعد شعبہ معاشیات کی طرف رخ کرتے۔

شعبے کے سب اساتذہ، اس ذی شان و باوقار و بلند اقبال و محترمی و مشفقی استاذ کی راہ میں دیدہ و دل فرش راہ کیے رہتے، آخر کیوں نہ کرتے، ان سب کو اس مقام و اوج تک پہنچانے والے آپ تھے۔ اتنی ضعیفی کے باوجود آپ کی لطیف حس مزاح مانند نہ پڑی، انگریزی اخبار کا بالاستعیاب مطالعہ کرتے اور گاہے گاہے بچوں کو پڑھاتے۔ علم اور تجربے کے ملاپ سے جو شخصیت پھوٹتی ہے وہ حکیم وقت ہوتی ہے جو کہ حامد ڈار صاحب تھے۔

Hamid Yamin Dar

آپ کے اندر علوم کے کئی بحر تھے جو کہ بحر بے کنار تھے۔ اس پھلواری سے کیسے کیسے پھولوں نے سر اٹھایا ہے ، آپ کے شاگردوں کی کھیپ کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ آپ کی شخصیت شل مکھی ہے، جس کو احاطۂ قلم میں لانا ممکن نہیں۔ وہ طاوس جو کبھی یہاں جھنکارتا تھا، سر کھرج میں راگ بھاگیشوری چھیڑتا تھا ، اب خاموش ہو چکا مگر اس کے زمزمے، نغمے، ترانے اب تک درس گاہ کے در و بام اور غلام گردشوں میں گونجتے ہیں۔

بے شک یہ نیر تاباں غروب ہو چکا ہے مگر اس کی تپش اب تک باقی ہے۔ عظیم تر ہوتے ہیں وہ لوگ، کوہ نور و چراغ شب ہوتے ہیں وہ لوگ، جن پہ زمانہ، لوگ اور ادارے رشک کرتے ہیں۔ ہماری درس گاہ فخر و انبساط و رشک سے جھکی جاتی ہے کہ کیسے کیسے یادگار زمانہ لوگوں نے اس کو سینچا ہے، تراشا اور سنوارا ہے۔ اللہ کرے شہر خموشاں کا یہ مکین باغ بہشت میں مکان کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •