اریجیت سنگھ کی کہانی
آج کی تحریر بالی وڈ کے ایک ایسے با صلاحیت سنگر کے بارے میں ہے جس نے بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں ایک منفرد شناخت بنالی ہے۔ اس وقت وہ بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں ہر موسیقار کی نمبر ون چوائس ہیں۔ بالی ووڈ کی ہر فلم میں ان کے گانے ہوتے ہیں۔ جس شخصیت کی ہم کہانی سنانے جا رہے ہیں اس نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے انتھک محنت کی۔ جی ہاں آج ہم بات کر رہے ہیں بالی ووڈ کے سریلے گلوکار اریجیت سنگھ کے بارے میں ہے۔ اریجیت سنگھ ابھی بہت چھوٹے تھے جب انہوں نے فلموں میں گانا گانا شروع کر دیا تھا۔
بالی وڈ فلم انڈسٹری میں آتے ہی اریجیت سنگھ نے ایسے گانے گائے جو آج بھی زبان زد عام ہیں۔ اریجیت سنگھ کے فلم انڈسٹری میں آتے ہی گائیکی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا ہوا۔ اریجیت سنگھ کو بالی وڈ فلم انڈسٹری میں مہیش بھٹ نے اپنی فلم مرڈر ٹو میں متعارف کرایا تھا۔ اریجیت سنگھ کا پہلا گانا تھا، پھر محبت کرنے چلا ہے تو، یہ گانا فلم مرڈر ٹو کی پہچان بن گیا تھا۔ گانا تو شائقین کو بہت پسند آیا لیکن بدقسمتی سے لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس گانے کو کس نے گایا تھا۔ اریجیت سنگھ بھی بھول گئے کہ کبھی انہوں نے یہ گانا گایا تھا اور شائقین بھی گانا گانے والے سنگر کے نام سے ناواقف تھے۔
اس کے بعد اریجیت سنگھ کے کیرئیر کا دوسرا نغمہ رابطہ بھی بہت پاپولر ہوا۔ ہندوستان کے مشہور سنگر اریجیت سنگھ ویسٹ بنگال کے شہر مر شد آباد میں 25 اپریل 1987 کو پیدا ہوئے۔ اریجیت سنگھ کے والد پنجابی اور والدہ بنگالی ہیں۔ والدہ ہندو اور والد سکھ ہیں جبکہ اریجیت سنگھ اپنے آپ کو نہ ہندو مانتے ہیں اور نہ ہی سکھ بلکہ وہ اپنے آپ کو ایک ہندوستانی مانتے ہیں جن کا مذہب ہندوستان ہے۔ اریجیت سنگھ نے جب گائیکی کی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت ان کے ننھیال کے تمام افراد کسی نہ کسی طرح موسیقی کی دنیا سے وابستہ تھے۔
اریجیت سنگھ کی نانی کلاسیکل موسیقی کی تربیت یافتہ سنگر تھی۔ ان کی ایک خالہ بہت اچھی سنگر رہی جبکہ ماموں بھارت کے مشہور طبلہ نواز ہیں۔ اریجیت سنگھ کی والدہ بھی ایک اچھی سنگر رہی ہیں۔ اریجیت سنگھ نے مرشد آباد کے ایک اسکول سے تعلیم مکمل کی اور اس کے بعد کالج کی تعلیم بھی اسی شہر کے ایک کالج میں مکمل کی۔ اریجیت پڑھائی لکھائی میں اچھے تھے لیکن انہیں موسیقی سے عشق تھا اس لئے تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی موسیقی ہی ان کا پیشن تھا۔
والدین نے جب دیکھا کہ اریجیت سنگھ کو موسیقی سے دلچسپی ہے تو انہوں نے اس بچے کو موسیقی کی پروفیشنل تعلیم دلانا شروع کردی۔ پنڈت راجندر پرشاد ہزاری جی سے اریجیت سنگھ نے کلاسیکل موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ کلاسیکل موسیقی کے ساتھ انہوں نے طبلہ بجانا بھی سیکھا اس کے علاوہ ایک اور میوزک ٹیچر سے اریجیت سنگھ نے پاپ میوزک کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ موسیقی کی تربیت حاصل کرنے کے بعد اب ایک ہی مقصد تھا کہ کیسے دنیا کو اپنا ٹیلنٹ دکھایا جائے۔ سال دو ہزار پانچ میں ممبئی میں ایک سنگنگ رئیلیٹی شو میں اریجیت سنگھ کو آڈیشن کے لئے کال آ گئی۔ اب آڈیشن دینے کے لئے اریجیت سنگھ ممبئی آ گئے۔ کئی مرتبہ انہوں نے اس سنگنگ رئیلیٹی شو میں آڈیشن دیا۔ اس کے بعد وہ شو کے لئے سلیکٹ ہو گئے۔ اس ریلیئٹی شو میں اریجیت سنگھ ججز اور شائقین کے فیورٹ سنگر بن گئے۔
بدقسمتی سے اس شو سے انہیں اس وقت وقت نکلنا پڑا جب وہ ٹاپ فائیو میں جگہ نہیں بنا سکے۔ اس شو کے ایک جج شنکر مہادیون اریجیت سنگھ سے بہت متاثر ہوئے۔ اریجیت سنگھ شنکر مہادیون کے فیورٹ سنگر تھے۔ شکر مہا دیون نے وعدہ کیا کہ اریجیت سنگھ کو وہ گانے کا موقع فراہم کریں گے۔ کچھ عرصہ بعد ہی شنکر مہادیون اور اریجیت سنگھ نے مل کر ایک گانا گایا جو بہت پاپولر ہوا۔ اس کے بعد اریجیت سنگھ نے ایک اور رئیلٹی شو میں حصہ لیا اور وہ اس شو کے فاتح رہے۔
2008 میں ممبئی شہر کے لوکھنڈ والا علاقے میں کرائے کے کمرے میں رہنا شروع کیا۔ یہاں اریجیت نے اپنا ریکارڈنگ اسٹوڈیو بنایا۔ اب وہ ایک میوزک پروڈیوسر بن گئے اور اشتہارات، نیوز چینلز اور ریڈیو اسٹیشنوں کے لیے میوزک کمپوز کرنا شروع کیا۔ اریجیت سنگھ نے اپنے ابتدائی میوزک کیریئر میں شنکر مہادیون اور پریتم دا جیسے میوزک ڈائریکٹرز کے ساتھ میوزک پروڈیوسر کے طور پر کام کیا۔ پریتم دا کے ساتھ کام کرتے ہوئے اریجیت سنگھ نے خود ہی میوزک کمپوز کرنا شروع کر دیا۔
اب سال تھا 2010 اور موسیقار پریتم دا بالی ووڈ کی تقریباً بیس فلموں کی موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ پریتم نے اریجیت سنگھ کی سریلی گائیکی کو دیکھتے ہوئے اپنی کچھ فلموں میں کئی گانے گانے کا موقع فراہم کیا۔ ان گانوں کے ریلیز ہوتے ہی اریجیت سنگھ کو بے تحاشا آفرز ہوئی۔ بالی ووڈ کی فلموں میں اریجیت سنگھ کی گائیکی اب سر چڑھ کر بول رہی ہے اور اریجیت سنگھ نے اپنی ایک منفرد شناخت پیدا کر لی ہے۔
اریجیت سنگھ کو پلے بیک سنگنگ سے زیادہ میوزک کمپوز کرنے کا بہت شوق ہے۔ وہ کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں گائیکی سے زیادہ میوزک پروڈیوس کرنے کا شوق ہے اور جلد ہی وہ گائیکی کو چھوڑ کر میوزک کمپوز کریں گے۔ کشور کمار، غلام علی، جگجیت سنگھ، اور مہندی حسن اریجیت سنگھ کے پسندیدہ ترین گلوکار ہیں اور وہ ان سب کو موسیقی کا شہنشاہ مانتے ہیں۔ اریجیت سنگھ کا سب سے بڑا کواب ایک میوزک اسکول کھولنا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ میوزک اسکول ایسا ہونا چاہیے جہاں دنیا بھر سے بچے موسیقی کی تعلیم حاصل کر سکیں۔
بالی وڈ فلم انڈسٹری میں ان کے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ساتھ دو ہزار گیارہ تھا جب انہوں نے بالی ووڈ فلم مرڈر ٹو میں محبت نامی گانا گایا تھا۔ دو ہزار چودہ میں اریجیت سنگھ نے اپنی بچپن کی دوست کوئیل رائے کے ساتھ شادی کر لی۔ اریجیت سنگھ اب درجنوں سپر ہٹ گانے گا چکے ہیں۔ گائیکی کے ساتھ ساتھ ان کی ایک این جی او بھی ہے جس کا نام ہے LET THERE BE LIGHT۔ اس این جی او کے فورم سے وہ غریب لوگوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔
بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ اریجیت سنگھ نے میراٹھی اور گجراتی فلم انڈسٹری کی کئی فلموں کے لئے گانے گائے ہیں۔ اس وقت اریجیت سنگھ کی عمر سنتیس سال ہے۔ اریجیت سنگھ ایک سادہ مزاج شخص ہیں۔ انہیں محفلوں میں جانا پسند نہیں۔ زیادہ وقت وہ اپنے گھر کے میوزک روم میں اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ اریجیت سنگھ بالی ووڈ کے وہ واحد سنگر ہیں جنہیں شہرت زیادہ پسند نہیں اور نہ ہی بے تحاشا دولت اکٹھا کرنا انہیں پسند ہے۔ اریجیت سنگھ اب تک 300 سے زائد گانے گا چکے ہیں۔
سلمان خان کے بارے میں ایک شو کے دوران اریجیت سنگھ نے عجیب و غریب باتیں کہہ دی۔ اس کے بعد سلمان خان نے انہیں اپنی کسی فلم میں گانا گانے کا موقع فراہم نہ کیا۔ اریجیت سنگھ نے سلمان خان کی ایک فلم سلطان کے لئے گانا رکارڈ کرایا تھا سلمان نے وہ گانا بھی اپنی فلم سے نکلوادیا۔ اریجیت سنگھ نے سلمان کے بارے میں جو باتیں کہی تھی اس بارے میں وہ کئی بار معافی مانگ چکے ہیں لیکن سلمان خان نے انہیں معاف نہیں کیا۔
اریجیت سنگھ سلمان خان سے آج بھی شرمندہ ہیں۔ آج کے دور میں اریجیت سنگھ ایک ایسا سنگر ہے جو انڈیا کے ہر دل کی دھڑکن بن چکے ہیں۔ ان کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں چاہنے والے ہیں۔ ہر سال وہ کروڑوں روپے کماتے ہیں اور اپنی کمائی کی آدھی سے زائد رقم وہ غریبوں کی مدد کرنے پر خرچ کردیتے ہیں۔ اریجیت سنگھ کہتے ہیں کہ وہ نہ ہندو ہیں اور نہ ہی مسلمان، وہ صرف ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اریجیت سنگھ کا ایک خواب ہے اور وہ خواب یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں بھارت ایک ایسا سچا سیکولر ملک بنے جہاں تمام مذاہب کے لوگوں کا احترام ہو۔


