مجسمہ بنانے پر عوامی رویہ: حوصلہ شکن لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا رومی کی ایک حکایت ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل جا رہے تھے کہ انھوں نے ایک چرواہے کی آواز سنی۔ وہ اونچی اونچی آواز میں کہہ رہا تھا ”اے میرے جان سے پیارے خدا! تو کہاں ہے۔ ؟ میرے پاس آ میں تیرے سر میں کنگھی کروں، جوئیں چنوں، تیرا لباس میلا ہو گیا ہے تو دھوؤں، تیرے موزے پھٹ گئے ہوں تو وہ بھی سیؤں، تجھے تازہ تازہ دودھ پلاؤں، تو بیمار ہو جائے تو تیری تیمارداری کروں۔ اگر مجھے معلوم ہو کہ تیرا گھر کہاں ہے تو تمھارے لیے روز گھی اور دودھ لایا کروں، میری سب بکریاں تم پر قربان، اب تو آ جا“ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے قریب گئے اور کہنے لگے ”ارے احمق! تو یہ باتیں کس سے کر رہا ہے؟ چرواہے نے جواب دیا:

” اس سے کر رہا ہوں جس نے تجھے اور مجھے پیدا کیا اور یہ زمین آسمان بنائے“ یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غضب ناک ہو کر کہا ”ارے بدبخت! تو اس بیہودہ بکواس سے کہیں کا نہ رہا، بجائے مومن کے تو تو کافر ہو گیا، خبردار ایسی بے معنی اور فضول بکواس بند کر۔ تیرے اس کفر کی بدبو ساری دنیا میں پھیل گئی۔ ارے بے وقوف! یہ دودھ لسی ہم مخلوق کے لیے ہے، کپڑوں کے محتاج ہم ہیں۔ حق تعالیٰ ان حاجتوں سے بے نیاز ہے، نہ وہ بیمار پڑتا ہے، نہ اسے تیمارداری کی ضرورت ہے نہ اس کا کوئی رشتہ دار ہے، توبہ کر اور اس سے ڈر۔“

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غیظ و غضب میں بھرے ہوئے یہ الفاظ سن کر چرواہے کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا، چہرہ زرد پڑ گیا اور بولا ”اے خدا کے جلیل القدر نبی! تو نے ایسی بات کہی کہ میرا منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور مارے ندامت کے میری جان ہلاکت میں پڑ گئی“ یہ کہتے ہی چرواہے نے سرد آہ کھینچی اپنا گریبان تار تار کیا اور دیوانوں کی طرح اپنے سر پر خاک اڑاتا ہوا غائب ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حق تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہ طور پر گئے تو خدا نے فرمایا!

”اے موسیٰ! تو نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کیوں کیا؟ تو دنیا میں جدائی کے لیے آیا ہے یا ملاپ کے لیے؟ خبردار!

اس کام میں احتیاط رکھ، ہم نے اپنی مخلوق میں ہر شخص کی فطرت الگ بنائی ہے اور ہر فرد کو دوسروں سے جدا عقل بخشی ہے۔ جو بات ایک کے حق میں اچھی ہے وہ دوسرے کے لیے بری ہے۔ جوایک کے حق میں تریاق کا اثر رکھتی ہے وہی دوسرے کے لیے زہر ہے۔ ہم کسی کے قول اور ظاہر پر نگاہ نہیں رکھتے ہم تو باطن دیکھتے ہیں ”

اللہ تعالیٰ صرف اور اخلاص کو، نیت کو، دلوں میں چھپی محبت کو دیکھتا ہے۔ ہمارے ظاہری اعمال کیا ہیں ان سے اسے غرض نہیں۔

اور ہم انسان؟

ہماری گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ ہم صرف ظاہر دیکھتے ہیں۔ باطن نہیں۔ منافقت کا چلن عام ہے۔ کیونکہ ہم یہ جاننے کے خواہش مند ہی نہیں کہ دلوں میں کیا ہے۔ ظاہری چکا چوند نے ہماری آنکھیں چندھیا دی ہیں۔ ہم کچھ بھی دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ ہمارے دل نور سے خالی ہیں۔ اب تو دل کا کام صرف دھڑکنا ہی رہ گیا ہے۔

حال ہی کا واقعہ لے لیجیے۔

گلشن اقبال پارک کے مالیوں نے ایک سال کی انتھک محنت سے، کسی کی بھی مدد کے بغیر، ایک ایک پائی جمع کر کے علامہ صاحب کا مجسمہ بنا لیا۔ اب وہ بیچارے نہیں جانتے تھے کہ ان سے کتنا بڑا جرم سرزد ہو رہا ہے کہ ان کا سر قلم کرنے، ہاتھ کاٹنے کے مطالبے کیے جائیں گے۔ وہ تو عقیدت مند تھے، علامہ صاحب کی محبت سے سر شار تھے۔ وہ گستاخی کے مرتکب کیسے ہوسکتے۔ وہ تو اپنی محبت کا عملی نمونہ لوگوں کے سامنے لانا چاہتے تھے۔ اور شاید ان کے دل کے کسی گوشے میں فن کو سراہے جانے کی خواہش بھی ہو۔ (انسانی فطرت ہے ناں! ) جو وہ ایک سال تک بغیر کسی معاوضے کے یہ کام کرتے رہے۔ پورا ایک سال۔

لیکن یہ بھول گئے تھے کہ وہ کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ وہ معاشرہ جو گدھوں کا معاشرہ ہے، جہاں غریب کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے کم نہیں۔ وہاں غریب سر اٹھائیں بھی تو کیوں؟ ان کی مجال بھی کیوں کر ہو۔

اور آج انہی مالیوں کو یہ مجسمہ توڑنے کا کہا گیا جنہوں نے دن رات ایک کر کے یہ مجسمہ بنایا۔ جس کو بناتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے۔ اپنی محنت کی کمائی کا ایک حصہ خرچ کیا۔ اور ایک مزدور بیچارے کی آمدنی ہوتی ہی کتنی ہے۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ طنز، تضحیک، ذلت۔

ان کی آرزووں اور امنگوں کا خون کر دیا گیا۔ وہ ایک ایک لمحہ جواس کی تکمیل کے انتظار میں گزرا ہو گا اس سب کا حساب کون دے گا؟

کیا اس کو ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا؟
کیاکسی ماہر کاریگر کی مدد سے اس کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا تھا؟
کچھ تو کیا جاتا۔
کوئی تو حل نکالا جاتا۔
ہم حوصلہ افزا نہیں حوصلہ شکن لوگ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •