یوم یکجہتی کشمیر اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جانے کیوں دبائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز
میں پوچھتا ہوں کہاں اٹھائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز
طارق، ایوبی اور قاسم کو یاد کرو
ہم سے کیوں بھلائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز
آگے بڑھو ساتھ دو سرفروشوں کا
جاؤ وہاں جہاں لگائی جا رہی ہے کشمیر کی آواز

سید یوسف نسیم کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 1990 ء میں شروع ہونے والی عسکری تاریخ سے ہے۔

اس دن کشمیریوں نے قابض فوج کے خلاف بندوق اٹھائی تھی۔ اسی جدوجہد کی مناسبت سے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخی حوالہ دینے کا فقط مقصد یوم پکجہتی کشمیر کے پس منظر سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ہم ہر سال اس دن کے مقصد کو پس پردہ ڈال کر نعرے، دعوے اور پھر وعدے دہراتے ہیں، ریلیاں نکالتے ہیں اور پھر میٹھی نیند سو جاتے ہیں۔ کشمیری جن

پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، ماؤں کی آبرو کو تار تار کیا جاتا ہے، بہنوں کی عصمتوں کو سرع بازار نیلام کیا جاتا ہے، نوجوانوں کے سینے چھلنی کر دیے جاتے ہیں، بزرگوں کے سامنے ان کے شیر جیسے بچے کاٹ دیے جاتے ہیں، نیز یہ کہ دنیا کے ہر ظلم کا آغاز بھی کشمیریوں سے ہوتا ہے اور اختتام بھی اسی جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی کھیل کر۔ کشمیری ہر روز پاکستانی صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم کی راہیں تکتے ہیں۔

ان کی دعاؤں کا سفر اللہ کی رحمت کی سواری پر بیٹھ کر امیدو یقیں کی پل کراس کرتے ہوئے ”پاکستان ہی ہماری منزل“ پر تکمیل کو پہنچتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس آس پر جیتے ہیں کہ پاکستانی حکمراں ان کی آزادی کے لیے کچھ اقدامات کرے گی لیکن افسوس سے بڑھ کر ندامت ہوتی ہے جب ہمارے حکمرانوں کے رویوں پر نگاہ پڑتی ہے۔ اگر ہم موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر نظر دوڑائیں تو دل سے ایک ہی صدا آتی ہے کہ کشمیری بہنوں! ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔

ہم نے کشمیر کو ترانوں، گانوں اور ہیش ٹیگز تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے حکمراں بھی ٹویٹر اور میڈیا پر ارطغرل بنے ہوئے ہیں۔ اگر کشمیر بیانات، ترانوں، ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ، فیس بک پر کمپینز، واٹس ایپ پر میسجز سے آزاد ہونا ہوتا تو پاکستان نہ صرف کشمیر بلکہ انڈیا، اسرائیل بلکہ امریکہ تک کو فتح کر چکا ہوتا۔ ہمارے دعوے یہ کہ کشمیر ہمیں شہ رگ سے بھی زیادہ عزیز لیکن یہ شہ رگ میں بھارت کب کا سوراخ کر چکا جس پر ہم چار دن پھڑپھڑائے اور پھر چپ سادھ لی۔

ہمارے وعدے یہ کہ کشمیر پر اپنی جانیں بھی قربان لیکن عمل یہ کہ ہر جمعہ آدھا گھنٹہ کشمیر کے نام سے ہوتے ہوئے کون سا کشمیر تک پہنچے۔ ہمارے نعرے یہ کہ ”جا جا نکل جا کشمیر سے“ لیکن حقیقت یہ کہ بھارت نے پاکستان کو کشمیر سے دھکا دے کر نکال دیا ہے۔ اس دفعہ بھی ایسا ہی یکجہتی کشمیر کا ڈرامہ لگے گا، تالیاں بجیں گی، قطاریں بنے گی، کشمیریوں کے حق میں ریلیاں نکلیں گی لیکن نتیجہ بدستور وہی کشمیری آنکھوں میں آنسو لیے ہمارے انتظار میں رہیں گے۔

حکومت اس دفعہ یکجہتی کشمیر منانے کی بجائے ان کی ازادی کے لیے عملی اقدام اٹھائے۔ اب میڈیا پر ارطغرل اور عثمان غازی بننے کی بجائے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹا کر یا علم جہاد بلند کر کے کشمیر کو آزادی کی منزل کی طرف لے کر چلیں۔ آئیں عزم کریں کہ آج سے ہماری سب دعائیں، جذبے اور عوامل کشمیریوں کے نام۔

کشمیری مسلمانوں کو ہم دے کر دعائیں
امیدی آزادی کی ایک شمع جلائیں
یارب ہو کرم ایسا کہ ہم سارے مسلماں
آزادی کشمیر کا دن جلد منائیں
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •