ہماری عدلیہ اور ریاست مدینہ (جدید) کا بندوبست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند سال قبل ہماری ایک عدالت میں ایک خاتون نے ایک شہری کے خلاف کیس کر دیا کہ اس نے ایک رات گھر میں گھس کر اس کی عصمت دری کی ہے اور چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ لہٰذا اوباش ملزم کو قرار واقعی سزا دے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں دنوں ایک دوسری عدالت میں اسی شخص کے خلاف اس کی اہلیہ نے یہ مقدمہ درج کرایا تھا کہ اس کا شوہر نامرد ہے۔ وہ حقوق زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہے ،اس لیے اسے خلع دلوایا جائے۔

اس سے بھی دلچسپ اور حیران کن امر یہ ہے کہ اس شخص کو دونوں کیسوں میں سزا سنا دی گئی۔ یہ واقعہ ہمیں گزشتہ دنوں اس وقت یاد آیا جب معزز جج صاحبان نے فواد چودھری کے نااہلی کیس میں دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر عدالتیں عوامی نمائندوں کو نااہل قرار دینا شروع کر دیں گی تو یہ ان حلقوں کے عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ عوام کے ووٹوں کے ذریعے پارلیمنٹ تک پہنچنے والا سیاستدان اگر کئی حوالوں سے کمزور اور نالائق بھی ہو تو اس سے صرف نظر کیا جانا چاہیے نیز سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لانے کے بجائے پارلیمنٹ کے فورم پر حل کیا جانا چاہیے۔

ہم معزز جج صاحبان کے یہ ریمارکس سن کر مبہوت ہو کر رہ گئے اور سر پکڑ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ وہی عدلیہ اور اس کے وہی معزز جج صاحبان ہیں جنہوں نے تین چار سال قبل یہ نعرۂ مستانہ لگایا تھا کہ وزیراعظم سمیت تمام منتخب سیاسی نمائندوں کا سب سے پہلے اور کڑا احتساب ہو گا۔

پھر سب نے دیکھا کہ کروڑوں ووٹ لے کر منتخب ہونے والے وزیراعظم کے خلاف دھڑا دھڑ مقدمے بننے لگے۔ وٹس ایپ کے ذریعے ہیروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنی۔ پاناما دریافت ہوا۔ جے آئی ٹی کی ہزاروں صفحات کی رپورٹس کی بنیاد پر نیب عدالت میں کیسز چلنے لگے۔ عدالتی نظیر اور آئین کے خلاف نیب عدالت پر اعلیٰ عدلیہ کے جج بطور نگران مقرر کیے گئے اور اسے پابند کیا گیا کہ چھ ماہ میں فیصلہ سنا دیا جائے۔ لوئر کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملزم کو اپیل کے حق سے بھی محروم کیا گیا۔ دوران سماعت منتخب وزیراعظم اور اس کی پارٹی کے منتخب نمائندوں کو گارڈ فادر، سیسلین مافیا جیسے القابات سے نوازا گیا۔

سر توڑ کوششوں کے باوجود پاناما سے کچھ برآمد نہ ہوا تو اقامہ نکال لیا گیا۔ اس سے بھی کچھ نہ نکلا تو وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نااہل کر کے بائیس کروڑ عوام اور ترقی کرتے ملک کے ساتھ ظلم کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ حکمران پارٹی کے مرکزی قائدین کے خلاف کیسوں کی بھرمار کی گئی اور الیکٹیبلز کو الیکشن سے ایک دن قبل رات بارہ بجے پانچ سال کے لیے نا اہل کر کے الیکشن کی دوڑ سے باہر کیا گیا۔

بعد میں رانا ثنا اللہ جیسے دبنگ سیاستدانوں پر ہیروئن سمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنا کر انہیں چھ ماہ سے زائد عرصے تک پابند سلاسل رکھا گیا۔ شہباز شریف، حمزہ شہباز، خواجہ برادران، خواجہ آصف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال جیسے لاکھوں ووٹ لینے والے سیاستدانوں کو نہ صرف جیلوں میں ڈالا گیا بلکہ ہر روز ان کی تضیحک اور تذلیل بھی کی جا رہی ہے۔

ابھی دو روز قبل ہی جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے ہائبرڈ حکومت اور اس کے کرتا دھرتاوٴں کو آئینہ دکھایا۔ جب انہوں نے وہاں پر موجود صحافیوں سے پوچھا کہ جو صحافی سمجھتا ہے کہ میڈیا آزاد ہے، وہ ہاتھ کھڑا کرے تو بد قسمی سے کسی ایک صحافی نے بھی ہاتھ بلند نہیں کیے۔ سیاست پا بہ جولاں، عدلیہ جکڑ بندیوں کا شکار، جمہوریت جادو کی چھڑی کی زد میں اور میڈیا پر قہر آلود پابندیاں۔ یہ ہے نئے پاکستان اور ریاست مدینہ جدید کا بندوبست۔

حال ہی میں عدلیہ کی کارکردگی کے حوالے سے ایک عالمی تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی ہے جو ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس تحقیق کے مطابق پاکستان 128 ملکوں کی فہرست میں ایک سو بیسویں نمبر پر ہے۔ نیپال کا 61 واں جبکہ سری لنکا کا 66 واں نمبر ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اس فہرست کے مطابق ہمارا ”ازلی“ دشمن بھارت 69 ویں نمبر پر ہماری ہائبرڈ جمہوریت کا منہ چڑا رہا ہے۔ اس حوالے سے خطے کے ممالک میں ہم صرف افغانستان سے بہتر ہیں جس کا نمبر 122 واں ہے۔ وطن عزیز میں یہی منتقم مزاج ہائبرڈ حکومت رہی اور اداروں کے تنزل کا یہی حال رہا تو اگلے سال افغانستان بھی ہم سے بہتر پوزیشن میں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •