پی ڈی ایم، دس فروری اور لانگ مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک معروف صحافی نے تنقید کرتے ہوئے استدلال پیش کیا ہے کہ ”پی ڈی ایم حکومت کو گرانے کے لیے جو کوششں کر رہی ہے وہ غلط ہیں۔ حکومت کو پانچ سال کے لئے منتخب کیا گیا ہے ، اگر اپوزیشن اسٹریٹ پاور کے ذریعے حکومت گرائے گی تو وہ وہی کچھ کرے گی جس کے خلاف وہ جدوجہد کر رہی ہے اور ماضی میں اس طرز عمل کی نقاد رہی ہے“

کسی وقفے کے بغیر موصوف نے پھر فرمایا:

” پی ڈی ایم سیاست اور انتخابات میں جس مداخلت کے خلاف بر سر پیکار ہے وہ درست نقطۂ نظر ہے“

عجیب نرالی منطق ہے. اگر حکومت کے خلاف پرامن سیاسی جدوجہد کی جائے تو اسے سابقہ حزب اختلاف کے طرز عمل کی تائید سمجھا جائے لیکن جعلی اور غیر شفاف شدہ سلیکشن و مداخلت کے نتیجے میں مسلط ہونے والی حکومت کو مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے تو کیا یوں انتخابات اور سیاست میں غیر آئینی مداخلت جائز تسلیم نہیں ہو جائے گی؟ ناجائز حکومت کو مدت پوری کرنے دو تو درست اور اگر مداخلت سے پاک سیاسی عمل کے لئے جدوجہد کرو تو یہ بھی درست طرز عمل۔

یعنی چٹ بھی اپنی پٹ بھی اپنی۔ درست استدلال کے لیے منطق کا ایک بنیادی اصول مانع اجتماع نقیضین ہے۔ معروف اینکر نے اپنے اظہار خیال میں اس کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ چونکہ وہ معروف صحافی یا اینکر ہیں لہٰذا ان کی فرمودہ ہر بات درست سمجھی جائے۔ بھیا غیر شفاف طریقے اور ووٹ چوری کر کے اقتدار میں لائی گئی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطلب غیر آئینی سیاسی مداخلت کی توثیق و تائید ہوتا ہے۔ چنانچہ شفاف اور آزادانہ طور پر منتخب حکومت کے قیام کے اصولی موقف سے وابستہ رہتے ہوئے اس کے حصول کی جدوجہد کا لازمی تقاضا غیر آئینی ذریعے سے لائی گئی حکومت کو پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے اقتدار سنگھاسن سے نکالنا درست ہی نہیں بلکہ آئینی اور سیاسی مثالیت پسندی کے عین مطابق ہو گا۔

برادرم سے التماس ہے کہ تنقید کرنے سے قبل اپنے موقف کا خود تنقیدی جائزہ لینا بری بات نہیں۔ پہلے تولو پھر بولو۔ یہ معقول محاورہ ذہن نشین فرما لیں۔

ادھر گیٹ نمبر چار کے پروردہ جناب شیخ رشید بھی یہی استدلال پیش کرتے ہیں کہ ”اسمبلیوں کو جعلی قرار دینے والے اب انہی اسمبلیوں کے ذریعے سینیٹ انتخابات میں شریک ہو کر اپنے موقف سے دستبردار ہو رہے ہیں“ جبکہ عملی صورتحال بہت مختلف ہے۔ حالیہ اسمبلیوں کی قانونی ساکھ روز اول سے ہی مشکوک رہی ہے کیونکہ ان کے قیام کے لیے اپنایا گیا طرز عمل، انداز اور نتائج کے وقت آر ٹی ایس کا خراب ہو جانا، پولنگ ایجنٹس کو ووٹوں کی گنتی کے مرحلے میں پولنگ سٹیشن سے باہر نکال دیا جانا، مرتب شدہ نتیجے کی کاپی یعنی فارم 16 پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط کا نہ ہونا وغیرہ وغیرہ ایسے واقعات میں جو اسمبلیوں کو غیر درست اور غیر شفاف طریقے سے ”منتحب“ کیے جانے کی شہادت دیتے ہیں۔

بہ الفاظ دیگر رائے دہندہ گان کی مرضی اور خواہش کے منافی یا اس کے برعکس کسی کو کامیاب قرار دلانا جمہوریت اور آئین کی توہین ہے جو بذات خود اسمبلیوں کی ساکھ کے لئے زہر قاتل ہے۔ تاہم ان اسمبلیوں میں بیٹھ کر اپنے جائز تحفظات کا اظہار کرنا، بالکل دوسرا اور درست سیاسی اقدام تھا جو طاقتور گھمنڈی سوچ کے سابقہ تجربات سے اخذہ کردہ بھی ہے۔

جنرل ضیاء کے مارشل لاء کو بیشتر سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی جائز تسلیم نہیں کیا تھا حالانکہ سپریم کورٹ نے مارشل لاء جیسے آئین شکن اقدام کو قانونی جواز بھی مہیا کیا تھا۔ آج بھی ملک میں کوئی صاحب فہم و ذکا جنرل ضیا اور جنرل پرویز مشرف کو آئینی و قانونی حکمران تسلیم نہیں کرتا۔ تاریخ دونوں جنرلز کو غیر متنازعہ طور پر فوجی آمر ہی لکھ رہی ہے۔ سو پی ڈی ایم کی جانب سے بہ امر مجبوری، سیاسی خلا سے بچنے کے لیے موجودہ اسمبلیوں میں شریک ہونا اور سینیٹ کا انتخاب لڑنا، ان اسمبلیوں کی قانونی ساکھ تسلیم کرانے کا معیار قطعاً نہیں۔ اصلی معیار آئین میں درج عام انتخابات کے انعقاد کی شرائط ہی ہیں جو آزادانہ، مداخلت سے پاک، صاف شفاف، پرامن رائے شماری کرانے اور رائے دہند گان کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے نتائج مرتب کر کے انہیں تسلیم کرنے اور مکمل طور پر تمام اختیارات منتخب حکومت کو منتقل کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ حکومت کے وزرا جب اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے جعلی اسمبلیوں کے ذریعے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر پھبتی کستے ہیں تو عین اسی لمحے وہ خود موجودہ اسمبلیوں کی قانونی اخلاقی و سیاسی ساکھ پر انگلیاں اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

4 فروری کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں جو فیصلے ہوئے ہیں، وہ اس کے پالیسی نکات کی تجدید ہیں۔ عملی اقدامات اور جزیات کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم یہ طے ہو گیا ہے کہ جناب بلاول بھٹو عدم اعتماد سے متعلق اپنی تجویز پر شرکائے مجلس کو مطمئن نہیں کر سکے جو اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ سیاسی نزاکتوں پر مبنی سوالات کے تشفی بخش جواب کی متقاضی تھی۔ اقتدار و اختیار کے اندرونی حلقے میں امکانی تبدیلیاں ملحوظ رکھتے ہوئے جناب بلاول کی تجویز کو یکسر رد نہیں کیا گیا بلکہ اسے زیر غور رکھنے کا معقول فیصلہ ہوا ہے۔ بعید از قیاس نہیں کہ آنے والے چند دنوں میں حکمران جماعت کے اندر سے بہت سے ارکان سینیٹ انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدواروں میں سے چند کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیں تو اس کا بہت عمیق سیاسی اثر قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین کے رویے پر پڑ سکتا ہے۔ بعید نہیں کہ وہ بیرون ملک سے آئے ہوئے  غیر متنخب ارکان کی بالادستی کو اب مزید برداشت کرنے سے انکار کر دیں۔

اس کا امکان سینیٹ الیکشن کے طریق کار کے حتمی تعین پر منحصر ہو گا۔ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئے معاملات تو انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد کھلیں گے جبکہ اوپن رائے شماری کا فیصلہ سینیٹ انتخابات سے قبل عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے راہ ہموار کر دے گا۔ حکومت نے صدارتی ریفرنس اور پارلیمنٹ میں ترامیم سے مایوس ہو کر صدارتی فرمان کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے کی راہ اپنائی ہے۔ اس فیصلے سے حکومت کی قانونی ٹیم کی دانش پر سوال اٹھ گئے ہیں کہ کیا وہ لاعلمی میں مبتلا ہیں یا ارادی طور پر حکومت کو گہری شرمندگی کی جانب دھکیل رہے ہیں؟

آئین کی شق 226 کسی ابہام کے بغیر سینٹ انتخابات خفیہ رایے شماری کے ذریعے کرانے کی پابندی عائد کرتی ہے۔ علاوہ ازیں شق 89 اور ذیلی دفعات صدارتی آرڈیننس کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے مساوی قرار دیتی ہے مگر مشروط طور۔ آئین میں ترمیم کا سپریم کورٹ اور صدر مملکت کو اختیار ہی نہیں۔ مجوزہ صدراتی حکم کا اطلاق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مربوط کیا گیا ہے مگر 12 فروری کے سینٹ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے کا بھی حکم میں عندیہ دیا ہے۔ کیا حکومت سپریم کورٹ پر 12 فروری سے قبل صدارتی ریفرنس پر فیصلہ سنانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے؟

اگر صدارتی حکم سے آئین میں ترمیم ممکن تھی تو حکومت سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں بل کیوں لے کر گئی تھی؟ حکومتی وتیرہ آئین شکنی کے مترادف اور اپنے حلف کی کھلی خلاف ورزی ہے جسے عدلیہ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

پی ڈی ایم نے تو پارلیمان میں نئی آئین سازی یا ترامیم کے مروجہ طریق کار کو بلڈوز کیے جانے پر زیر بحث ترامیم مسترد کر دی ہیں اور صدارتی حکم کی بھرپور مزاحمت کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ سیاسی حالات میں کشیدگی تصادم کی طرف جاتی نظر آ رہی ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو پارلیمان کا رکن بنانے کی اجازت دینے کے ذاتی و شخصی مقاصد ہیں گویا آئین و قانون پر عمل کو ترجیح دینے کے برعکس وزیراعظم اپنے ساتھیوں کو نوازنے کے لئے آئین و قانون کو موم کی ناک بنانے پر تل گئے ہیں۔ دوہری شہریت میں ترمیم سے متعلق ایک قیاس آرائی جناب فیصل ووڈا کو نااہلی سے بچانے کے متعلق سامنے آئی۔ مگر شاید یہ خیال درست نہیں کیونکہ زیر بحث ترامیم میں آئین کی شق 12 شامل نہیں۔

پارلیمان میں زیر غور آئینی ترامیم کی منظوری کے لیے حکومت نے ماضی قریب کی طرح (جیسا کہ فیٹف اور مدت ملازمت میں توسیع کے بلوں پر ہوا تھا) طاقتوروں سے تعاون و کردار ادا کرنے کی گزارش کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس گزارش کو پذیرائی دینے سے معذرت کی گئی ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو پھر حکومتی اتحاد یا پی ٹی آئی کے نالاں افراد کی جانب سے مجوزہ تحریک عدم اعتماد میں تعاون کیے جانے کے امکانات بڑھتے ہیں۔

گزشتہ تیس روز میں چیف ایگزیکٹو، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف پر مشتمل ٹرائیکا کی چوتھی ملاقات متذکرہ صدر اطلاع پر بھروسا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق 26 جولائی کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہو گا تو 28 مارچ تاریخ تک قافلے اسلام آباد یا فیض آباد چوک تک پہنچیں گے۔ قافلے جن راہوں سے گزریں گے وہاں وہاں سیاسی ہلچل پیدا ہوتی جائے گی۔ اگر اس سے قبل ملک گیر ہڑتال بھی کرائی گئی تو لانگ مارچ کے اثرات 26 مارچ سے قبل نمایاں ہونے لگیں گے۔

بہر طور مارچ کی 28 تاریخ اور بعد کے دن سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ اور فیصلہ کن لمحات ہوں گے۔ لانگ مارچ کو ہوشربا مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاجی کا عنوان دینے سے سیاسی تحریک کا عوامی اجتماع میں بدل جانا ممکن ہو گیا ہے اور اس تناظر میں دس فروری کو اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے مجوزہ احتجاج کے ساتھ بطور اظہار یکجہتی پی ڈی ایم کی شمولیت و حمایت بہت معنی خیز ہو گئی ہے۔

ممکن ہے کہ پی ڈی ایم کا یہ فیصلہ حکومت کو سرکاری ملازمین کے مطالبات فوری تسلیم کرنے پر مجبور کر دے۔ بصورت دیگر دس فروری سے ہی لانگ مارچ کی ریہرسل شروع ہو جائے گی اور اگر حکومت نے ملازمین کے مطالبات کے آگے سپر اندازی ہونے کا فیصلہ کیا تو اس کا سیاسی فائدہ بھی پی ڈی ایم کو ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •