صادقین کا جنرل ضیا کو لکھا گیا غیر مطبوعہ نایاب خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید عباس زیدی پاکستان کے قابل فخر سینئر سفارت کار رہ چکے ہیں۔ 1982 کے دنوں میں وہ ہندوستان میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات تھے۔ اسی عرصے کے دوران انہوں نے ممتاز پاکستانی آرٹسٹ صادقین کا ایک خط اس وقت کے پاکستان کے سربراہ حکومت جنرل محمد ضیا الحق کو بھیجا۔ یہ خط نایاب ہے اور اب تک منظر عام پر نہیں آیا۔ اس کے کچھ حصے پیش خدمت ہیں جن سے تین باتیں ضرور اخذ کی جا سکتی ہیں۔

1 اس دور میں صادقین جیسے انٹرنیشنل پاکستانی آرٹسٹ بھی اپنی سروسز ہندوستان جا کر نہیں بیچتے تھے حالانکہ یہ پیشہ ورانہ طور پر جائز ہو سکتا تھا لیکن وہ عزتوں والے لوگ پاکستان کی شان اور آن کے لیے اپنا جائز حق بھی چھوڑ دیتے تھے۔

2  صادقین لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی حکومت کے وزرا اور دیگر بڑے بڑے لوگ بھی ان سے ملنے آتے ہیں تو انہی چٹائیوں پر بیٹھتے ہیں جہاں وہ بیٹھ کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستان میں فن اور فنکار کی کتنی قدر ہے۔

3 صادقین خطاطی کے ساتھ ساتھ نفسیات کے بھی ماہر تھے کیونکہ انہوں نے جنرل محمد ضیا الحق کے ذہن کی اسلامی نفسیات کو خوب جان کر ہی قرآنی آیات، مذہبی تحریروں، اسلامی جذبات اور ملکی خودداری کو سامنےکر کے ہی اس خط کی تحریر کو اثر انگیز بنایا لیکن جنرل محمد ضیا الحق کی ذاتی خوشامد نہیں کی۔

صادقین کا نایاب خط ملاحظہ ہو۔ ”یہ رقعہ اقتصادی کمک کی خاطر تحریر کیا جا رہا ہے جس کے بغیر یہاں ہندوستان میں اپنے فنی مقاصد کی تکمیل نہایت دشوار ہے۔ میں فقیر صادقین گزشتہ نومبر کی دوسری تاریخ لاہور سے نئی دلی کی طیران گاہ میں آیا تھا اور وہیں ہندوستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ اطلاع ملی کہ اگلے دن بارہ بجے ہندوستان کی وزیراعظم شریمتی اندرا گاندھی سے ملاقات ہونی ہے۔ چنانچہ 3 نومبر کو ان سے ملاقات ہوئی اور میں ان کے اخلاق سے متاثر ہوا۔

انتہائی اختصار سے میں یہاں اپنی بودوباش اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالتا ہوں۔ شہروں شہروں گیا اور جگہ جگہ تصویروں اور خطاطیوں کی نمائش کی۔ ہرجگہ ہزاروں کی تعداد میں طفل و جوان و پیر کو بسم اللہ اور دیگر آیات لکھ لکھ کر بانٹیں۔ جس کسی نے بھی کہا اس کو لکھ کر یا بنا کر کچھ دیا۔ خطاطی سورہ یٰسین اور نقاشی سورہ رحمن اور اسمائے حسنیٰ حیدرآباد (دکن) کے اردو گھر میں، لکھنو کی سرکاری للت کلا اکیڈمی میں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کینڈی ہال میں اور دلی کے متعدد مقامات پر جن میں جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی شامل ہیں، منظر شہود پر آ چکی ہیں جن کو مخلوق خدا کا ایک انبوہ بیکراں دیکھنے آ چکا ہے اور آ رہا ہے۔

آج کل بھی غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدینؒ میں یہی نمائش، نمائش آیات قرآنی لگی ہوئی ہے۔ خطاطی آیات کی یہ نمائش ماہ رمضان المبارک سے جاری ہے اور اس کو دیکھنے وزیر بھی آتے ہیں اور بڑے حکام بالا بھی۔ ابھی حال ہی میں حضرت امیر خسروؒ کے عرس کے موقع پر ٹونک سے ایک وفد آیا تھا۔ ادھر مسلمانان بمبئی بھی شدت سے انتظار میں ہیں۔ اس مہینےکی 02 تاریخ سے جے پور میں بھی اپنی نمائش ہونےوالی ہے۔ بالخصوص اسلامیان ہندوستان فقیر کی خطاطیوں کے ساتھ یہاں آنے پر بہت خوش ہیں۔

یہ لوگ بے حد محبت کر رہے ہیں اور تہ دل سے دعائیں بھی دے رہے ہیں۔ عارضی نمائشوں کے علاوہ میں نے یہاں کے اہم ترین اداروں میں مستقل طور کا دیواری تصویروں کی صورت میں کام کیا ہے اور اپنی طرف سے تحفہ درویش کے طور پر متعلقہ اداروں کو پیش کر دیا ہے۔ ان اداروں میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، اردو گھر حیدرآباد دکن، نیشنل جیوفزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ حیدرآباد دکن، غالب اکیڈمی نئی دلی اور بنارس ہندو یونیورسٹی شامل ہیں۔

بیشتر ادارے مجھے مادی طور پر نوازنا چاہتے تھے مگر میں نے یہ سوچ کر کہ ایک خیرسگالی اور دوستی کے جذبے سے کیے ہوئے کام کو میں ایک تجارتی سازباز میں بدل کر اپنی قدروقیمت کیوں گھٹاؤں۔ میں نے ان سے یہی کہا کہ تحفے کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔ الحمدللہ اب ان اداروں میں ہزاروں بیشمار افراد، طلبا اور سیاح ان کاموں کو دیکھ رہے ہیں اور اس طرح پاکستانی آرٹ یہاں ہمیشہ ہی دیکھتے رہیں گے۔ ان کاموں کی نقاب کشائی ایک پرشکوہ تقریب ہوتی ہے۔

نقاب کشائی یہاں کے بڑے بڑے لوگ کرتے ہیں اور ان کاموں کو ہند و پاک دوستی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں جس کی اطلاعات یہاں کے ذرائع ابلاغ سے ملک بھر میں ہو جاتی ہیں۔ انتہائی سادہ زندگی گزارتا ہوں۔ ایک ہی جوتا ہے وہی پہن کر غسل خانے میں بھی جاتا ہوں اور وہی جوتا پہن کر پرشکوہ تقریبات میں شرکت کی جاتی ہے۔ جہاں رہتا ہوں وہاں چند چٹائیوں کے سوا اور چند تصویر بتاں، چند حسینوں کے خطوط کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

ان ہی چٹائیوں پر رئیسان دلی اور افسران حکومت بھی خنداں پیشانی کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں۔ مجھے انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت ہند کچھ مادی طور سے نوازنا چاہتی ہے جس کے لیے میرا مصمم ارادہ ہے کہ اس طرح اپنے آپ کو نوازنے کا حکومت ہند کو موقع نہیں دوں گا۔ اس سلسلے میں چند امور ضروری آپ کی توجہ چاہتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے لکھ بھی چکا ہوں کہ اول تو یہ کہ میں یہاں تصویریں فروخت کرنے کا قائل نہیں ہوں کیونکہ ایک ثقافتی صورتحال ایک تجارتی شکل اختیار کر جائے گی جس سے کہ آبرو کو زک پہنچے گی۔

دوسرے یہ کہ اگرچہ بھارت کی سرکار مادی حساب سے مجھ کو نوازنا چاہتی ہے تو اس کو قبول کرنے میں میری آبرو اور آن کو زک پہنچتی ہے۔ تیسرے یہ کہ میں قانون کا پوری طرح احترام کرتا ہوں یعنی جائز ترین راستوں سے آئی ہوئی اقتصادی کمک قابل قبول ہوتی ہے۔ وہ جو زیرزمین راستے ہیں ان پر عمل ہرگز نہیں کر سکتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے صاحب ضمیر بھی ہوں ورنہ رقوم کے تبادلے کے ماہرین طرح طرح کے راستے بتاتے ہیں اور میں ان کی کسی بات پر کان نہیں دھرتا۔

اغیار کی پیشکشوں کو قبول کرنا تو درکنار میں تو اپنوں کے آگے بھی ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ یہ زرمبادلہ تو میں پاکستانی روپے کے بدلے میں مانگنے کی درخواست کر رہا ہوں جو وہاں پر آتے ہی ادا کر دی جائیں گے۔ کئی ماہ کی بات ہے کہ جناب عبدالستار صاحب نے، وہ جب یہاں پاکستان کے سفیر تھے اس سلسلے میں ایک مکتوب مدلل متعلقہ وزارتوں کو پاکستان لکھا تھا۔ جس کا بعد از انتظار بسیار نتیجہ نفی میں نکلا۔ ملحوظ خاطر رہے کہ کوئی ڈیڑھ یا پونے دو برس پہلے میں نے بینک دولت پاکستان کو گیارہ لاکھ اٹھان ہزار روپے کا زرمبادلہ دیا تھا۔

یہاں میں صرف پچاس ہزار روپے کے لیے آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے چنگے بھلے افراد کو جنھوں نے پاکستان کو کبھی ایک دھیلا بھی زرمبادلہ کا نہیں دیا، ان کو صحت کی بنیاد پر ممالک غیر میں علاج معالجے کے سلسلے میں لاکھوں ڈالر دیے جا سکتے ہیں تو اس فقیر کو اسلامک انسٹی ٹیوٹ دہلی میں کام کرنے کے لیے اور رشتہ جسم و جان قائم رکھنے کے لیے اور دیگر اخراجات پوری کرنے کے لیے پانچ ہزار ڈالر کیوں نہیں دیے جا سکتے۔

جبکہ یہ کام میری ہی طرف سے نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے اس گراں قدر ادارے کو ایک تحفہ پاکستان ہوگا اور ہمیشہ ایک یادگار کے طور پر قائم رہے گا اور خطاطی کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ بے اندوہ فقیر صادقین اس عرضداشت کو ارباب بست و کشاد اور اصحاب حل و عقد تک پہنچانے کے بعد امید کر رہا ہے کہ اس درخواست پر ہمدردانہ طور سے غور کیا جائے گا اور اس کو خوانخواستہ یہ مصرعہ نہیں پڑھنا پڑے گا کہ“ بات بھی کھوئی التجا کر کے“۔

فقیر صادقین عفی عنہ، 16 اگست 1982ء، جی 19۔ جنگ پورہ ایکس ٹیشن، نئی دلی۔

(ادیب شہیر ڈاکٹر شیر شاہ سید کی فہمائش اور برادر عزیز فیصل مسعود کی تصعید تسلیم کر کے مدیر “ہم سب” نے اپنا حق رائے محفوظ رکھا۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •