آج استاد محترم مرزا محمد منور صاحب کی برسی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گورنمنٹ کالج لاہور میں میرا داخلہ تو 1967 میں ہوا تھا لیکن کالج سے تعارف چار برس پہلے ہو چکا تھا۔ مجھ سے بڑے بھائی جان نے 1963 میں یہاں ایف ایس سی میں داخلہ لیا تھا۔ اس وجہ سے گھر میں مجلہ راوی کے دو برسوں کے شمارے موجود تھے جن کو میں سکول کے زمانے میں پڑھ چکا تھا۔ ایک رسالہ علاؤ الدین کلیم نمبر تھا۔ اس میں چھپنے والے دو مضامین مجھے بہت زیادہ پسند آئے تھے۔ ایک اس وقت کے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کا تھا اور دوسرا مضمون مولا کلیم کے عنوان سے پروفیسر مرزا محمد منور کا تھا۔ اس کے علاوہ نوائے وقت میں بھی مرزا صاحب کے کچھ مضامین نظر سے گزر چکے تھے۔

جب میں اقبال ہوسٹل میں سال دوم میں تھا تو طلبہ نے ہفتہ اردو منانے کا پروگرام بنایا۔ ایک مذاکرہ رکھا گیا جس کی صدارت کے لیے ڈاکٹر سید عبد اللہ صاحب کو مدعو کیا گیا۔ سید عبد اللہ صاحب کا بھتیجا، سید شبیر احمد، ہمارا کلاس فیلو تھا اور وہی سید صاحب کو لانے والا تھا۔ ہوسٹل کے طلبہ نے اردو زبان کے متعلق اپنے مضامین پڑھے تھے۔ محفل میں پروفیسر اصغر سلیم میر اور مرزا منور صاحب بھی موجود تھے۔ محفل کے اختتام پر دونوں اصحاب سے شعر سنانے کی درخواست کی گئی۔ میر صاحب نے تو غزل سنا دی لیکن مرزا صاحب کو تامل تھا۔ خیر پرزور اصرار پر مائیک پر تشریف لے آئے اور غزل سنانے سے پہلے یہ واقعہ سنایا۔

ایک بار جشن مری کا مشاعرہ ہو رہا تھا جس کی صدارت جسٹس ایس اے رحمان صاحب فرما رہے تھے۔ سامعین میں مرزا صاحب بھی موجود تھے۔ لوگوں نے مرزا صاحب سے بھی شعر سنانے کی فرمائش کی۔ مرزا صاحب نے کہا میں نے کبھی کسی مشاعرے میں شعر نہیں سنائے۔ زیادہ اصرار بڑھا تو کہا مجھے اپنے شعر یاد نہیں رہتے۔ اس پر جسٹس ایس اے رحمان نے برجستہ کہا مرزا صاحب کو صرف اچھے شعر یاد رہتے ہیں۔

بی اے میں فلسفے کے ساتھ میرا دوسرا مضمون اردو تھا۔ حصۂ نثر ہمیں مرزا صاحب پڑھاتے تھے۔ کلاس ان کی بعد دوپہر ان کے کمرے میں ہوا کرتی تھی۔ پتا نہیں کیوں اس وقت وہ بہت سخت گیر استاد دکھائی دیتے تھے جن سے کسی قدر خوف محسوس ہوتا تھا۔ دوسرے سال کے اواخر پر پروفیسر ملک بشیر الرحمان صاحب کی، جو ہمیں غالب پڑھاتے تھے، مصروفیات کے پیش نظر دیوان غالب کی ن ردیف کی کچھ غزلیں مرزا صاحب نے پڑھائیں۔ ان کا شعر پڑھانے کا انداز خوب تھا۔ غالب کا شعر پڑھا جاتا تو مختلف زبانوں کی شاعری کے گلستان کا در وا ہو جاتا۔ پہلے عربی کا کوئی شعر سناتے، پھر فارسی کا، اس کے بعد پنجابی کا کوئی ٹپہ۔ پھر غالب کے شعر کی شرح و توضیح کی باری آتی۔ اسی طرح نصاب میں شامل حافظ شیرازی کی پانچ غزلیں بھی مرزا صاحب نے پڑھائیں۔

جب میں ایم اے کا طالب علم تھا تو اس وقت ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس وجہ سے میں مرزا صاحب کی خصوصی نظر کرم کا مستحق بنا۔ کالج میں ایک سوشل ویلفیر سوسائٹی قائم ہوئی، جس کا مجھے نائب صدر بنا دیا گیا۔ صدر اسلامیات کے استاد پروفیسر شیخ اقبال حسین تھے۔ سوسائٹی کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی کے طور اس وقت کے سوشل ویلفیئر کے وزیر جناب حفیظ کاردار صاحب کو مدعو کیا گیا۔ میں پروفیسر اقبال حسین صاحب کے کمرے میں اپنی تقریر لے کر حاضر ہوا۔ انھوں نے خطاب پڑھا: جناب وزیر صاحب۔ کہنے لگے اس کو جناب عزت مآب نہ کر لیں۔ عرض کیا، سر آپ پہلے پوری تقریر پڑھ لیجیے۔ تقریر بہت سخت اور حکومت کے خلاف تھی۔ وہ جیسے جیسے پڑھتے جاتے تھے ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوتا جاتا تھا۔ تقریر پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا اس تقریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ میں نے کہا، سر، اگر اس میں کوئی لفظ غیر مہذب ہے تو آپ بلا دریغ اسے کاٹ دیجیے، لیکن میں مشمول میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، نہ مجھے قصیدہ خوانی کی تربیت دی گئی ہے۔ یہ کہہ کر میں وہاں سے چلا آیا۔

پروفیسر صاحب میری شکایت لے کر صدر شعبہ فلسفہ، پروفیسر سعید شیخ صاحب کے پاس گئے۔ شیخ صاحب نے ان کی بات سن کر انھیں پروفیسر مرزا منور صاحب سے بات کرنے کو کہا۔ پروفیسر اقبال صاحب نے مرزا صاحب کے پاس جا کر کہا آپ اسے سمجھائیں، میں دل کا مریض ہوں، یہ برداشت نہیں کر پاؤں گا۔ مرزا صاحب ان کی بات سن کر اتنا پریشان ہوئے کہ مجھے بلانے کے بجائے خود میری تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ میں بخاری آڈیٹوریم کے سامنے لان میں دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ مرزا صاحب کی آواز آئی، بیٹا بات سنو۔ میں سمجھ گیا اور سر جھکائے ان کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ مرزا صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، بیٹا! تم یہ تقریر مت کرو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم کوئی اور تقریر کرو، بس خاموش رہو۔ میں صرف جی سر کہہ سکا۔ اس واقعہ کے بعد میں مرزا صاحب کی شفقتوں کا حق دار ٹھہرا۔ پھر تو جیسے ہی وقت ملتا میں سٹاف رومز میں مرزا صاحب کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتا۔ ان کا حلقہ احباب بے حد وسیع تھا۔ بہت سے لوگ ان سے ملاقات کی غرض سے تشریف لاتے۔ اس طرح ہمیں بھی ان کی باتوں سے مستفید ہونے کا موقع مل جاتا تھا۔

مرزا صاحب کے ملاقاتیوں میں دو برزگ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ایک حفیظ جالندھری صاحب۔ دوسرے بزرگ شیخ عبد الشکور صاحب تھے جنھیں شیخ لاہور کہا جاتا تھا۔

مرزا صاحب کی حفیظ جالندھری صاحب سے بہت دوستی تھی۔ جب وہ لائل پور سے گورنمنٹ کالج لاہور میں ٹرانسفر ہو کر آئے تو کچھ عرصہ ماڈل ٹاؤن میں حفیظ صاحب کے کرایہ دار بھی رہے تھے۔ حفیظ صاحب اکثر کالج بھی تشریف لاتے تھے۔ مرزا صاحب اپنے عربی، فارسی شاعری کے وسیع مطالعے کی بنیاد پر حفیظ صاحب کو تنگ بھی کرتے رہتے تھے۔ حفیظ صاحب جب کوئی شعر سناتے تو مرزا صاحب جواب میں فارسی یا عربی کا کوئی شعر سنا دیتے۔ ایک دن حفیظ صاحب نے کہا مرزا آج میں تمھیں اپنا شعر سناتا ہوں، اگر تم اس کے مقابلے میں کوئی شعر سنا سکو تو مان جاؤں گا۔ اس کے بعد اپنا یہ شعر سنایا

جس نے اس دور کے انسان کیے ہیں پیدا

وہی میرا بھی خدا ہو، مجھے منظور نہیں

شعر سن کر مرزا صاحب نے بہت داد دی اور دل میں سوچا کہ آج مات ہو گئی۔ خیر دو تین بار شعر سنا اور اتنی دیر میں مرزا صاحب نے شعر کا فارسی میں ترجمہ کر لیا۔ افسوس ہے کہ مجھے وہ فارسی شعر یاد نہیں رہا۔ تھوڑی دیر بعد مرزا صاحب نے کہا حفیظ صاحب شعر یاد آ گیا ہے اور آپ کا شعر اس کا بالکل لفظی ترجمہ ہے۔ جب شعر سنایا تو حفیظ صاحب قسمیں کھانے لگے کہ میں نے یہ شعر کبھی نہیں پڑھا۔ خیر کچھ دیر تنگ کرنے کے بعد جب مرزا صاحب نے دیکھا کہ وہ بالکل روہانسے ہو گئے ہیں تو اصل بات بتا دی۔ یہ واقعہ ایک بار حفیظ صاحب نے خود بھی سنایا تھا ۔ اس پر ملک بشیر الرحمان صاحب نے کہا: حفیظ! ایہ مرزا بڑی شے اے، ایہ ساڈے جیاں نوں چکر دے جاندا اے، توں تے فیر ان پڑھ ایں۔ اسی زمانے میں حفیظ صاحب کا مجموعہ کلام “چراغ سحر” بھی شائع ہوا تھا۔ اس کی کتابت و طباعت حفیظ صاحب کو پسند نہ آئی تھی۔ چنانچہ انھوں نے وہ کتاب زیادہ تر مفت میں ہی تقسیم کر ڈالی ۔ مرزا صاحب کے شاگردوں پر بھی نظر عنایت ہوئی اور حفیظ صاحب کے دستخطوں کے ساتھ ایک نسخہ مجھے بھی عنایت ہو گیا جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔

شیخ عبد الشکور ایک بہت خوش لباس اور طرح دار بزرگ تھے۔ انھیں شیخ لاہور بھی کہا جاتا تھا۔ وہ 1947 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کی مرزا صاحب سے بہت دوستی تھی۔ اکثر گورنمنٹ کالج تشریف لاتے تھے۔ گفتگو بڑے مزے کی کرتے تھے۔ گوہرجان کی ٹھمریاں بھی لہک لہک کر سنایا کرتے تھے۔ ان کے مضامین کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ مرزا صاحب نے لکھا تھا۔ ایک دن استاد محترم کے کمرے میں حسب دستور بہت سے لوگ جمع تھے۔ شیخ لاہور نے مرزا صاحب کو دیباچہ پڑھ کر سنانے کو کہا۔ مرزا صاحب نے دیباچے کے ابھی ڈیڑھ دو ہی صفحے پڑھے ہوں گے کہ قیوم نظر صاحب نے بہت بے ساختہ انداز میں کہا، مرزا صاحب، ایہ اردو لکھنی کتھوں سکھی جے۔

مرزا صاحب کی حس مزاح بھی بہت لطیف تھی۔ لطائف و ظرائف کا ایک وسیع ذخیرہ ان کے ذہن میں موجود تھا۔ برمحل جملہ کہنے میں بھی بہت مہارت رکھتے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں جب پڑھانا شروع کیا تو اس زمانے میں مرزا صاحب بھی اقبال چیئر پر تعینات ہو کر اوریئنٹل کالج میں تشریف لا چکے تھے۔ مین لائبریری اولڈ کیمپس میں ہوا کرتی تھی۔ جب لائبریری جانا ہوتا تو مرزا صاحب کے دفتر میں ، جسے ہم دربار کہا کرتے تھے، حاضری بھی لازم ہوتی تھی۔ ایک دن لائبریری سے ایک کتاب نکلوا کر استاد محترم کے پاس حاضر ہوا تو انھوں نے پوچھا کون سی کتاب ہے؟ میں نے کتاب ان کے سامنے رکھ دی۔ مرزا صاحب نے کتاب کھول کر عنوان پڑھا: العقل عند العرب۔ ایک تبسم کے ساتھ فرمایا عجیب سا موضوع ہے۔ عقل اور عرب؟

مرزا صاحب کا حافظہ بھی بے پناہ تھا۔ بلامبالغہ ہزاروں کی تعداد میں عربی، فارسی، اردو، پنجابی کے اشعار انھیں یاد ہوں گے۔ ڈاکٹرخواجہ محمد ذکریا صاحب کا کہنا ہے کہ سبک ہندی کے جتنے شعر مرزا صاحب کو یاد تھے شاید ہی کسی اور کو یاد ہوں۔ ایک بار مرزا صاحب کے گھر پر عمرو بن کلثوم کے معلقے کا ایک مصرع میری زبان سے نکل گا۔ مرزا صاحب نے اس معلقے کے کتنے ہی شعر سنا دیے۔ یوسف عرفان نے حیران ہو کر کہا، سر میں نے پچھلے دس برسوں میں کبھی آپ کو عربی شاعری پڑھتے نہیں دیکھا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد قوم کا ایک حصہ بنگلہ دیش نامنظور کے نعرے لگا رہا تھا۔ فروری 1974 کو لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی تو اس موقع پر بھٹو صاحب نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسلامی جمیعت طلبہ کے ساتھ میں بھی احتجاج کرنے والوں میں شامل تھا اور کوئی ایک ہفتہ تھانہ سول لائنز کی حوالات میں گزارا تھا۔ اتوار کا دن تھا اور شاید مارچ کی تین تاریخ تھی جب ٹاون ہال میں یوم حمید نظامی کا جلسہ منعقد ہوا۔ مقررین کی فہرست میں مرزا صاحب کا نام بھی شامل تھا۔

اس جلسے میں اگرچہ زیادہ تر مقررین کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے تھا لیکن سبھی بنگلہ دیش کے موضوع پر گفتگو کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ مرزا صاحب کا نام بہت دیر سے پکارا گیا۔ وہ تقریر نہیں کرنا چاہتے تھے اور کہا کہ بہت سی تقریریں ہو چکی ہیں، لیکن حاضرین کے اصرار پر مرزا صاحب مائیک پر آ گئے اور انھوں نے جو تقریر کی وہ بڑی خوفناک تھی۔ اتنے برسوں بعد بس ایک بات یاد رہ گئی ہے۔

انھوں نے بھیرہ کے علاقے کا ایک پرانا واقعہ بیان کیا کہ وہاں ایک قتل ہو گیا تھا۔ فریقین نے پیر فضل شاہ صاحب کو ثالث مان لیا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد پیر صاحب نے فیصلہ سنایا کہ میں اتنے خوں بہا کے عوض فلاں کا خون معاف کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ سن کر مقتول کے ورثا نے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے کہا تم نے خود ہی ثالث تسلیم کیا تھا اب کیوں رو رہے ہو۔ ورثا نے کہا ہمیں یوں لگتا ہے کہ قتل آج ہوا ہے، اب ہمیں رو تو لینے دو۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد مرزا صاحب نے کہا اے پیر! ہمیں پتا تھا کہ تم نے یہی فیصلہ کرنا ہے، لیکن ہمیں تو رو لینے دو۔ یہ بات سن کر مجمع کی جو حالت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ تقریر سن کر مجھے بہت تشویش لاحق ہوئی۔

اجلاس ختم ہونے پر جب مرزا صاحب ہال سے نکل کر نیچے لان میں آئے تو میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور کہا سر! کچھ خدا کا خوف کریں، یہ آپ نے کیا تقریر کی ہے؟ مرزا صاحب نے جواب دیا بیٹا! میں نے سوچا تم یہ نہ کہو کہ ہم نوجوان تو جیلیں بھگتتے پھر رہے ہیں اور یہ بزرگ چپ سادھے ہوئے ہیں۔ مرزا صاحب کے قوی حافظے اور حاضر دماغی کا یہ کمال تھا کہ مجمع میں کہی گئی یہ بات انھیں یاد رہی تھی اور برسوں بعد بھی وہ بتایا کرتے تھے کہ ساجد نے اس وقت مجھے یہ کہا تھا۔ اسی وقت کسی مفصل کالج کے ایک پرنسپل صاحب نے مرزا صاحب سے مل کر کہا، جناب مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ اس قسم کی تقریریں کرنے کے باوجود آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں موجود ہیں۔ انھوں نے اپنا بتایا کہ ایک دن ان کے منہ سے کوئی بات نکل گئی تھی جو حکومت کے خلاف جاتی تھی۔ اس کے نتیجے میں پچھلے چھ ماہ میں چار دفعہ ان کا تبادلہ ہو چکا ہے۔

ستر کی دہائی میں مرزا صاحب کا بطور مقرر ظہور ہوا۔ اس سے پہلے وہ سٹیج پر آنے کے شائق نہیں تھے بلکہ کسی قدر شرماتے تھے لیکن اب وہ ایک مقبول مقرر بن چکے تھے۔ تقریروں کا سلسلہ بڑھنے کا میری دانست میں نقصان یہ ہوا کہ ان کی تحریر بھی تقریر کی صورت اختیار کرتی چلی گئی۔

مرزا صاحب کو اردو کے علاوہ فارسی، عربی اور انگریزی پر بہت عمدہ عبور حاصل تھا۔ فارسی، عربی اور انگریزی سے انھوں نے اردو زبان میں بہت عمدہ ترجمے کیے ہیں۔ عربی سے ابوحنیفہ الدینوری کی کتاب الاخبار الطوال کا، طہٰ حسین کی کتاب الفتنۃ الکبریٰ کا اور فارسی سے نظام الملک طوسی کی کتاب سیاست نامہ کا ترجمہ کیا۔ سید حسین نظر کی انگریزی میں کتاب کا تین مسلمان فیلسوف کے نام سے ترجمہ کیا۔

مرزا صاحب کا تعلق اس نسل کے ساتھ تھا جسے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بہت زیادہ مشقت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انھوں نے ریلوے میں بھی ملازمت کی اور نہر کے محکمے میں بھی۔ وہ اپنے بارے میں بہت کم گفتگو کرتے تھے لیکن ایک دن انھوں نے ایک عجیب جملہ کہا۔ اس زمانے میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بھی کرشن نگر میں مرزا صاحب سے ایک گلی چھوڑ کر رہتے تھے اور مطب بھی کرتے تھے۔ ایک روز مرزا صاحب طبیعت کی کسی خرابی کے سبب ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے۔ انھوں نے معائنہ کرنے کے بعد کہا، اس کی دوا بہت کڑوی ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کوئی بات نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مکسچر گلاس میں مرزا صاحب کے سامنے رکھ دیا جو انھوں نے گھونٹ گھونٹ کرکے پینا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر حیرانی کے آثار دیکھ کر مرزا صاحب نے کہا: ڈاکٹر صاحب! آپ کو کیا پتا ہم نے زندگی کا زہر کس طرح جرعہ جرعہ پیا ہے۔

کم درجے کی ملازمتوں سے آغاز کر کے اعلی گزیٹد نوکریوں تک پہنچنا پہاڑی راستے کا صبر طلب سفر ہے۔ مرزا صاحب کی طبیعت میں سادگی اور درویشی کا عنصر بہت نمایاں تھا۔ بڑے لوگوں سے ان کے تعلقات تھے لیکن کسی کی امارت اور منصب سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ میں نے اپنا معیار زندگی ایک ہیڈ کلرک کے معیار سے کبھی بڑھنے نہیں دیا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ غریب اور ضرورت مند طلبہ کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔ جب وہ دوسری مرتبہ اقبال اکیڈمی کے ڈائرکٹر مقرر ہوئے تو اس زمانے میں اکیڈمی بے پناہ مالی مشکلات کا شکار تھی۔ گرانٹ بہت کم ہو چکی تھی۔ ان برسوں میں مرزا صاحب صرف کرایہ مکان کا الاونس وصول کیا کرتے تھے۔ ان کی تنخواہ سے دوسرے ملازمین کی تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔

وہ اپنی سوچ اور فکر میں بہت یکسو اور کسی حد تک شدت پسند تھے۔ ذہناً اور قلباً پکے مسلم لیگی تھے۔ ایک بات اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستانی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ آخر میں و اقبالہٖ اور وجناحہٖ نہ کہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی طبعیت میں شدت پسندی بڑھتی گئی۔ ایک دفعہ مجھے شدید صدمہ پہنچا جب میں نے ان کی زبان سے صدام حسین کی تعریف سنی۔ سازشی نظریات سے بھی خاص رغبت رکھتے تھے، اس لیے بعض اوقات سازش کی کڑیاں ملاتے ہوئے بہت دور نکل جاتے تھے۔

پروفیسر وقار عظیم صاحب کا بیٹا، اظہر، ہمارا کلاس فیلو تھا، ایک دن مرزا صاحب بتانے لگے کہ وقار عظیم صاحب نے مجھے کہا ہے، میں نے ایم اے میں آپ کو پڑھایا تھا۔ آپ نے اس کا بدلہ اس طرح لیا ہے کہ میرے چار بیٹوں کو پڑھایا ہے۔ برسوں بعد مرزا صاحب کی نواسی، عنبرین صلاح الدین، شعبہ فلسفہ میں داخل ہوئی۔ ایک روز میں مرزا صاحب کے ہاں گیا تو انھوں نے کہا اب عنبرین آپ کی سٹوڈنٹ بن گئی ہے۔ میں نے مسکرا کر کہا جی سر، اب بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے۔ اس پر مرزا صاحب نے زور دار قہقہہ لگایا۔

مجھے اس بات کا آج تک رنج ہے کہ آخری چند برسوں میں ان سے ملاقات بہت کم رہی۔ گلشن راوی والی رہائش پر بس ایک بار ہی چھوٹے بھائی زاہد کے ساتھ حاضری دے سکا۔ آخری برس انھوں نے بہت سخت بیماری کی حالت میں بسر کیے۔ 7 فروری 2000ء کو استاد محترم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میں چھوٹے بھائی کے ساتھ جنازے میں شریک ہوا۔ وہاں عبد الروف اور میں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر گریہ کیا۔ ان کی وفات کو بیس برس گزر چکے ہیں لیکن یہ دل کبھی ان کی یاد سے غافل نہیں رہا۔ ان کی محبت اور شفقت کے چراغوں کی لو دل کو منور کیے رکھتی ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •