پاکستان بمقابلہ جنوی افریقہ دوسرا ٹیسٹ: چوتھے روز پاکستان 200 رنز کی سبقت بڑھانے کے درپے، جنوبی افریقہ کو وکٹوں کی تلاش
اس وقت پاکستان کو جنوبی افریقہ پر 200 رنز کی سبقت حاصل ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس وقت کریز پر وکٹ کیپر اور نائب کپتان محمد رضوان اور حسن علی موجود ہیں۔ محمد رضوان نے تین چوکوں کی مدد سے 28 رنز بنا رکھے ہیں جبکہ حسن علی نے ابھی تک کوئی سکور نہیں بنایا۔
گذشتہ روز کے کھیل کے دوران 12 وکٹیں گریں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پچ اب بیٹنگ کے لیے بتدریج مشکل ہوتی جا رہی اور جہاں پہلی دو اننگز کے دوران فاسٹ بولرز اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے، اب سپنرز بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں اور آخری اننگز میں بیٹنگ ہرگز آسان نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
حسن علی سبھی سوالوں کے جواب دے گئے
حسن علی: ’مینجمنٹ سے کہا تھا جس بھی فارمیٹ میں موقع دیں گے، اپنا سو فیصد دوں گا‘
پاکستان، جنوبی افریقہ کا ٹیسٹ میچ شروع ہو چکا تھا مگر پاکستانی بولر ابھی جہاز میں تھے
یاسر شاہ مہمان ٹیم کو چوتھے دن جلد از جلد واپس پویلین بھیجنے کے لیے پُرامید
آج راولپنڈی میں مطلع صاف رہنے کی پیشگوئی ہے اور یہ کرکٹ کھیلنے کے لیے ایک خوبصورت دن ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔
تیسرے دن کا کھیل
تیسرے دن کے کھیل کا آغاز جنوبی افریقی کپتان کوئنٹن ڈی کاک اور ٹیمبا باووما نے کیا، اس وقت جنوبی افریقہ نے 106 رنز بنا رکھے تھے اور اس کی کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ تاہم سکور میں چھ رنز کا اضافہ کرنے کے بعد ڈی کاک شاہین آفریدی کا شکار بن گئے۔
وہاں حسن علی، جو پہلے ہی دو آؤٹ کر چکے تھے، نے پرانی گیند کا خوب فائدہ اٹھایا اور تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر اپنے کریئر میں دوسری مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ادھر پاکستانی فیلڈرز نے بھی عمدہ فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو رن آؤٹ کیے، جس سے پاکستان کی اس سیریز میں رن آؤٹس کی مجموعی تعداد چار ہو گئی۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے ٹیمبا باووما نے 44 رنز بنائے اور وہ ناٹ آؤٹ رہے۔ یوں پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف 71 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔
پاکستان کی ٹیم:
عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی
جنوبی افریقہ کی ٹیم:
ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو مہاراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور ویان ملڈر


