کینولی ریسٹورنٹ کا واقعہ اور زبان سے متعلق غلط رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے کینولی ریسٹورنٹ کا معاملہ سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کی زینت بنا جس سے ملک بھر میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ بحث مباحثے ہوئے، ہر کسی نے اپنے وقت، ظرف اور حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا۔ کچھ نے پنجابی زبان میں گالی دیتے ہوئے اردو کا دفاع کیا تو کچھ انگریزی ہی کا سہارا لیتے ہوئے ہم سب کو یہ یاد دلانے پہ بضد تھے کہ انگریزی بھی نوآبادیاتی نظام کے دوسرے ورثوں کی طرح ہمارے گلے پڑ گئی ہے۔ چونکہ ہم من حیث القوم جہالت اور غیر سنجیدگی کا شکار ہیں ۔ اس واقعے کے چند دن بعد اردو اور انگریزی دونوں ہی اپنے اپنے منصب پہ واپس لوٹ آئی ہیں لہٰذا مناسب رہے گا کہ اس مسئلے کے اہم نکات پر روشنی ڈالی جائے۔

اولاً تو زبانوں کے مابین اس ’جھگڑے‘ میں لوگوں کے دھڑے بننا ایک فطری عمل ہے۔ کینولی معاملے میں ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو انگریزی زبان سے ناآشنائی کے سبب قومی دھارے میں شامل ہونے سے قاصر ہیں اور زینو فوبیا کا شکار ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ جو انگریزی زبان سے واقفیت تو رکھتے ہیں مگر اردو سے ان کا رویہ مخلصانہ نہیں ہے اور شعوری طور پر اردو سے دور بھاگتے ہیں مگر کبھی کبھی بائیں بازو کے سیاسی اور سماجی کارکنان ہونے کے ناتے اپنے کلچر اور تہذیب سے دوری کا راگ بھی بڑی تن دہی سے آلاپتے ہیں اور سند کے طور پہ فیض کی چند نظمیں بھی زبانی سنانے کی اہلیت رکھتے ہیں، مگر ان کے بچے ماں کی آغوش سے ہی انگریزی کے بڑے بھاری لفظوں کا شور جاگتے سوتے اور کھاتے پیتے سنتے ہیں۔ ان دونوں گروہوں کی روش انتہائی منافقانہ ہے، جس کو چھپانے کے لئے ایک جہالت اور دوسرا اپنی پرولیج کا سہارا لیے ہوئے ہے۔

زبانوں کا عروج و زوال تاریخی اعتبار سے ایک حقیقت ہے۔ اول تو زوال اور بچاؤ کے معانی کی تعیین ضروری ہے، دوسرا اس بات کی تعیین کہ کسی زبان کو بچانا ضروری ہے بھی یا نہیں اور تیسرا یہ کہ کسی بھی زوال پذیر زبان کو بچایا کیسے جائے۔

زبان کو بچانے کی ایک وجہ انسانوں کا اپنی زبان سے جڑا جذباتی احساس ہے۔ یہ نوسٹیلجیا انہیں اپنے ماضی سے جوڑتا ہے اور ہمیشہ ماضی کی عظمت کا احساس دلاتا رہتا ہے اور ان کی شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ زندہ اور مردہ قوموں میں ایک بڑا فرق ان کی اپنی ثقافت، زبان و ادب، تاریخ و فلسفہ، معیشت اور معاشرت یعنی اپنے ورثے کو محفوظ بنایا جانا ہے جس کو زبان نہ صرف اپنے اندر سموتی ہے بلکہ تہذیب کی بنیادی علامت بن کر ابھرتی ہے اور یہی میرے نزدیک کسی بھی زبان کو بچانے کی بڑی وجہ ہے۔

زبان کو بچانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ زبان کو ساکت تصور کر لیا جائے۔ ایک پہلو جس سے صرف نظر ممکن نہیں وہ زبان کا مسلسل ارتقا ہے۔ انسانی زندگی میں زبان کی ضرورت، کسی بھی زبان کی پیدائش اور اس کا مسلسل ارتقاء سمجھے بغیر زوال اور بچاؤ کی بحث بے معنی ہے۔ زبان کا بنیادی مقصد آپسی گفتکو کو ممکن بنانا ہے اور انسانوں کے ایک گروہ سے جڑی سیاسی، معاشی، مذہبی اور تہذیبی اقدار کو دوسرے انسانوں سے متعارف کرانا ہے لہٰذا زبانوں کا تقابلی موازنہ کر کے اس بحث میں پڑنا ہی بے سود ہے کہ اردو بڑی زبان ہے یا انگریزی۔

زبانوں کے ارتقاء کی یہ کہانی اس نظریے کی تنگ دستی کا پردہ فاش کرتی دکھائی دیتی ہے جو یہ کہتا ہے کہ فلاں زبان پرائی ہے اور فلاں اپنی۔ ان باتوں کا فیصلہ لوگوں کے بدلتے رہن سہن اور معاملات زندگی میں زبان کے معاون ہونے سے ہی ہو سکتا ہے، بالکل ویسے ہی جس طرح انگریزی اب زیادہ تر ملکوں میں سمجھی جاتی ہے کیونکہ آج کے دور میں ترقی کے مواقع اسی زبان کے سیکھنے پر منحصر ہیں۔

دوسرا پہلو اس بحث میں یہ بھی ہے کہ تاریخ میں جتنی بھی زبانیں آئی ہیں یا آئیں گی، وہ مختلف اقوام اور ان سے منسلک تہذیبوں کے میل ملاپ سے ایک دوسرے کے رنگ میں ڈھلتی چلی جاتی ہیں۔ خود اردو زبان ہی اس کی صریح مثال ہے جو ایک خاص وقت میں موجود لوگوں کی انفرادی زبانوں کے شعوری اور لاشعوری امتزاج سے پروان چڑھی۔ لیکن اس امر میں ایک احتیاط لازم ہے کہ اس زبان بچاؤ تحریک میں کسی ایک زبان کو دوسری کے سامنے کھڑا کر کے تناؤ کی صورتحال پیدا نہ ہو جیسا کہ ہماری اپنی تاریخ میں قومی یکجہتی کے نام پہ اردو کی ترویج سے ہوا، جس کے منفی نتائج کا ہمیں ابھی تک سامنا ہے۔

آج بھی جب کسی مہنگے نجی انگریزی میڈیم سکول میں طالب علموں کو اردو یا پنجابی بولنے پر سرزنش کیا جاتا ہے تو یقیناً زوال کی قبر میں پڑی دوسری زبانیں غیر مہذب معاشرے کے ہم جیسے ابلیس نما فرشتوں سے یہ سوال پوچھتی ہیں کہ ہمارا اور ہمارے سے جڑی ماضی کی شاندار تہذیبوں کا کیا بنے گا، جن کے حساب پہ ہم ناخلفوں کو مامور کیا گیا ہے۔

میری نظر میں زبان کے معاملے میں صحیح رویہ یہی ہے کہ انسانوں کو قریب لانے اور ادب اور تہذیب کی پرورش کے لیے تمام زبانوں کو مساویانہ بنیادوں پر پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور مذہبی، معاشی یا سیاسی تقاضوں کے پیش نظر کسی ایک زبان کو باقی زبانوں پہ مسلط کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ارسلان حیدر کی دیگر تحریریں