’کفنگ سیزن‘: کیا وجہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں رومانس کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے؟

ریا ولسٹنہولم - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

رومانس

Getty Images

لمبی راتیں اور بہت سرد اور تاریک موسم، کرہ ارض کے خط استویٰ سے اوپری حصے (Northern Hemisphere) میں موسم سرما عروج پر ہے۔ چھٹیوں کے موسم کی گہما گہمی کے بعد گو کہ اس سال ہماری تقریبات پہلے سے کافی زیادہ مختلف طریقے سے منائی گئی تھیں۔ سماجی رابطوں کے متعلق سوچنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے اور بس دل چاہتا ہے کہ گھر پر سکڑ کر بیٹھیں اور موسم بہار کا انتظار کریں جو ہمارے موڈ کچھ بہتر کرے گا۔

اس سال، شاید جس کا ہم نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا، گھروں میں رہنے کے ساتھ ساتھ کووڈ۔19 کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، مطلب یہ کہ پورے یورپ اور امریکہ کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ فیصلہ ’آپشنل‘ نہیں ہے یعنی اس پر ان کا اختیار نہیں ہے۔

لیکن کیا انسانوں کو آرام اور ’ری چارج‘ کرنے کے لیے غیر متوقع موسمی وقفے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ایسا ہے تو، یہ ضرورت کہاں سے آئی ہے؟ یا کیا جدید زندگی نے ہمیں ایسا بنایا ہے کہ موسم سرما میں ہم کم سوشل ہوں؟

انگریزی کا ایک جدید محاورہ موسم سرما میں گھر کے اندر رہنے کی اس خواہش پر پورا اترتا ہے اور وہ ہے ’کفنگ سیزن‘۔

اس اصطلاح کو سنہ 2017 میں ایک لغت میں سال کے لفظ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، جو اسے کچھ اس طرح بیان کرتی ہے کہ اگر آپ اکیلے ہیں تو شاید آپ کو موسم سرما کے آغاز میں کسی نئے شخص کے ساتھ رہنے کی تلاش ہو اور پھر اس تعلق کو موسم بہار تک رہنا چاہیے۔

شمالی نصف کرہ کی گوگل سرچز میں ’کفنگ سیزن‘ میں دلچسپی اکتوبر اور فروری کے درمیان بڑھ جاتی ہے اور پھر موسم گرما میں بالکل ختم ہو جاتی ہے۔

آپ صرف سال کے ان مہینوں میں رومانوی جوڑوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی کامیڈی فلموں کے ورچوئل سلیکشن باکس کو ہی دیکھ لیں۔

اس کی اچھی وجہ ہے: پتہ یہ چلتا ہے کہ جب جسمانی طور پر سردی زیادہ محسوس ہو رہی ہو تو ان دنوں سامعین رومانوی فلموں کو کتنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور انھیں دیکھنے کے لیے کتنا خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم وہ ناظرین پہلے ہی رومانوی فلموں کو گرما گرم جذبات سے جوڑتے ہیں، لہذا شاید وہ یہ فلمیں دیکھ کر ہی خود کو گرم محسوس کرتے ہوں. سرد راتوں اور مختصر دنوں کے بارے میں کچھ تو ایسا ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو رومانوی کہانیوں کی خواہش ہوتی ہے۔

موسموں کا ہماری نفسیات پر گہرا اثر ہوتا ہے، اور یہ رسک لینے کے کم رجحان سے لے کر کم ملنسار ہونے اور آرام کی غرض سے بیٹھنے تک ہوتا ہے، جیسا کہ ہائبرنیشن کے لیے تیار ہیں۔

قدرتی روشنی کی مقدار اور رات کے وقت ہمارا مصنوعی روشنی کا استعمال موسمی موڈ سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے سیروٹونن کے لیول سورج کی چمک دار روشنی میں کمی کے ساتھ کم ہو جاتے ہیں۔

سیریٹونن ایک ہارمون ہے جو ہمارے مزاج کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

اگرچہ یونیورسٹی آف بیسل کی کرسٹین بلوم اور ان کے سینٹر آف کرونو بائیولوجی کے شریک مصنفین نشاندہی کرتے ہیں کہ صبح کے وقت روشنی کی ٹھنڈی ’ویو لینگتھس‘ (طول موج) والی مصنوئی روشنی اور شام کو گرم ویو لینگتھس والی روشنی کا استعمال ہماری نیند کے نمونوں اور موڈ پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

لیکن سردی میں کچھ اور بھی چیز ہے جو ایک دوسرے کی طرف کھنچے جانے میں ایک انوکھا اثر ڈالتی ہے۔

کچھ تحقیقوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مثال کے طور پر ہیٹروسیکژوئل مرد یعنی جنس مخالات کی طرف راغب ہونے والے مرد موسم گرما کی نسبت موسم سرما میں خواتین کے جسموں کو زیادہ پرکشش پاتے ہیں۔

محققین کہتے ہیں کہ یہ متضاد اثر کی وجہ سے ہے۔ یہ اثر بیان کرتا ہے کہ معمول سے ہٹ کر یا مختلف چیزیں کیوں زیادہ دلکش لگ سکتی ہیں۔ جیسا کہ موسم سرما میں لوگ تیراکی کے لباس میں زیادہ نظر نہیں آتے، لہذا یہی انفرادیت انھیں زیادہ پرکشش بناتی ہے۔

There is an abundance of nostalgic films to choose from in winter (Credit: Getty Images)

Getty Images

اگرچہ موسم ہمارے نقطہ نظر میں شاید قدرتی طور پر اثر ڈالتا ہے، لیکن اس کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ انسان سردیوں میں کیوں جوڑے بناتے، یا تعلقات میں رہتے ہیں اور یہ ہماری اپنی تخلیق ہے۔

شمالی نصف کرہ میں موسم سرما مذہبی تقریبات، گریگوریئن اور چینی کیلنڈر میں نیا سال اور ویلنٹائن ڈے جیسے دوسرے تہواروں کے ساتھ آتا ہے۔

نیواڈا یونیورسٹی میں جوڑوں اور فیملی تھراپی کی پروفیسر کیتھرین ایم ہیرلین کا کہنا ہے کہ ’کفنگ سیزن‘ ان تہواروں کے ساتھ آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کا کوئی پارٹنر ہے تو یہ آسان ہے کہ اس کے ساتھ رہیں نا کہ اس سے پہلے الگ ہو جائیں۔

ہم پر ہمارے گھر والوں، دوستوں اور ماحول کا دباؤ ہوتا ہے کہ ہم جوڑے بنائیں، لیکن میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ یہ دباؤ لاشعوری طور پر ہوتا ہے۔

میں نے دیکھا ہے،کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو سال کے اس وقت تعلقات نہیں توڑنا چاہتے۔ میں دیکھتی ہوں کہ لوگ اس لیے رشتے میں بندھے رہتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس وقت وہ پریشان ہوں یا اکیلے رہیں۔

لیکن رومانوی تعلقات سے باہر بھی اس طرح کا ملنا ملانا ہمارے طرز عمل کو بدل سکتا ہے۔

لندن میں جوڑوں کی تھراپی کرنے والی کلانیٹ بین۔ایری کہتی ہیں کہ ’لوگ نئے سال میں اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ یہ موازنہ کرتے ہیں کہ وہ کیا حاصل کریں گے، انھوں نے کیا سوچا تھا کہ جسے وہ اب تک حاصل کر چکے ہوں۔ اس سے انھیں مایوسی بھی ہو سکتی ہے۔‘

قلیل مدتی ناکامی، خواہ وہ اپنے اہداف کو پورا نہ کرنے یا اپنی توقعات میں ناکام رہنے کے متعلق ہو، ہمیں زیادہ ردعمل کا اظہار کرنے اور بالکل ہمت ہارنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اگر نیا سال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم نے پچھلے 12 مہینوں میں پہلے سے طے شدہ اہداف حاصل نہیں کیے تو شاید ہم انھیں مکمل طور پر چھوڑ ہی دیں۔

اس کو آپ ’واہٹ دا ہیل‘ یا ’یہ کیا مصیبت ہے‘ کہہ سکتے ہیں، جہاں ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹیں یا جنھیں ہم ناکامیاں سمجھتے ہیں، ہمیں پسپائی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔

اگرچہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ڈائریوں میں تاریخیں کافی حد تک عارضی ہیں جنھیں ہم نے ہی چنا ہے، لیکن پھر بھی ان کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر ہر کوئی سال نو کے وعدے کر رہا ہے یا ویلنٹائن ڈے کے لیے تیاری کر رہا ہے تو پھر ایسا کرنا مشکل ہے کہ آپ اپنی ترقی کے بارے میں نہ سوچیں۔

The time between New Year and Valentine's Day can be tricky to end a relationship (Credit: Getty Images)

Getty Images

اگرچہ ’کفنگ سیزن‘ کے معاشرتی رجحان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رومانس کا وقت ہے، اس کو ایسے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ہماری زندگی کے دوسرے رشتوں کو ’رفو‘ کرنے کا بھی وقت ہے۔

لندن میں تعلقات کی تھراپسٹ سیلی بیکر کا کہنا ہے کہ کووڈ۔19 نے کچھ لوگوں کو نئے رابطوں کی تلاش میں جانے کی بجائے اپنے ماضی کے لوگوں سے دوبارہ جوڑ دیا ہے۔ لیکن بہت سارے پرانے رابطوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا اپنا ایک دباؤ ہوتا ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے جن کے پاس کوئی اور چوائس یا انتخاب نہیں تھا اس سال کرسمس اور نئے سال کی تقریبات آن لائن ہوئیں۔ حقیقی زندگی میں سوشل نہ ہونے کی وجہ سے کیا ہماری ڈیجیٹل دنیا کی طرف رغبت ہماری فلاح و بہبود کو متاثر کر رہی ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہارٹلین اور دوسروں نے کھوجنے کی کوشش کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، وہ صرف ایک یا دو افراد پر توجہ مرکوز نہیں کر رہے، بلکہ وہ بہت سے مختلف لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔ ’اس سے حقیقت میں آپ کی تنہائی ختم نہیں ہوتی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایک تحقیق ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر ہر 10 ویں شخص کو جسے آپ فالو کر رہے ہیں یا جس کے آپ دوست ہیں، آپ حقیقت میں جانتے ہی نہیں، یہ ڈپریشن اور اضطراب کا ایک اور اضافی نقطہ ہے۔‘

آرکنساس یونیورسٹی میں صحت عامہ کے پروفیسر برائن پریمیک کی تحقیق کے مطابق ’کووڈ۔19 کے دوران سوشل میڈیا کی دو دھاری تلوار زیادہ تیز تر ہو گئی ہے۔ ایک طرف تو ہمیں رابطوں کے لیے سوشل میڈیا جیسی چیزوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جہاں ہم جسمانی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں۔ لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گذارنے کی وجہ سے ہم بہت زیادہ خطرے میں بھی ہو سکتے ہیں۔‘

ہرٹلین کہتی ہیں کہ آن لائن رابطوں سے دور رہنا بھی اس کا حل نہیں ہے۔ اس کے بجائے ہمیں اس طریقے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس طریقے سے ہم ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

’جن لوگوں کے ساتھ ہم رابطہ کر رہے ہیں وہ جسمانی طور پر ہمیں نہیں دیکھ سکتے، لہذا ہم انھیں اپنے احساسات تفصیل کے ساتھ بتانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ تعلقات جتنا ہم حقیقت میں سوچتے ہیں اس سے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ اپنے خیالات اور احساسات کی وضاحت اور تفصیل دیتے رہنا بھی ایک زیادہ خطرناک حالت ہے۔‘

موسم سرما ہماری زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں لانے کا وقت نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ احساسات کہاں سے آتے ہیں۔

ہرٹلین کہتی ہیں کہ ’ہم بنیادی طور پر اس ارتقائی نمونے پر عمل اس لیے کر رہے ہیں کہ ہم اکٹھے رہیں، ایک گروہ کی شکل میں رہیں اور زندہ رہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ خیال بھی ستاتا ہے کہ سردیوں کے موسم میں آپ کو اکیلے نہیں رہنا چاہیے۔‘

قطعۂ نظر اس کے کہ رومانوی فلمیں آپ کے جذبات کو بھڑکاتی ہیں یا نہیں، اس بات پر بالکل حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ موسم سرما کا زیادہ وقت آرام دہ اور پرسکون رہنے کی تیاری میں گذر جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp