بلوچستان: قلات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار ’پنجابی مزدور‘ ہلاک

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاسم شادی سے پہلے بلوچستان میں مزدوری کرتا تھا۔ مگر جب شادی ہوئی تو اس نے صادق آباد ہی میں محنت مزدوری شروع کردی تھی۔ مگر جب اخراجات پورے نہ ہوئے تو اس نے مجبوری میں دوبارہ مزدوری کے لیے بلوچستان کا رخ کرلیا تھا۔

یہ کہنا تھا قاسم علی کے بھائی علی رضا کا۔ قاسم علی کو بلوچستان کے ضلع قلات قتل کر دیا گیا ہے اور حکام کے مطابق قاسم نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

لیویز حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع قلات کی تحصیل منگچر کے نواحی علاقے میں پیش آیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مزدور زرعی زمین پر ٹیوب ویل کی کھدائی کا کام کر رہے تھے کہ نامعلوم نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی تھی۔

فائرنگ کے وقت جائے وقوع پر چار مزدور کام کر رہے تھے جن میں سے تین مزدور موقعے پر ہی ہلاک جبکہ ایک مزدور نے بھاگ کر جان بچائی۔ انہیں ٹانگ میں گولی لگی ہے۔

حکام نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا ہے جبکہ دوسری جانب واقعے کی ذمہ داری یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان: پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی لاشیں برآمد

’بی ایل اے کی احتجاجی مہم کی کوئی اہمیت نہیں‘

مستونگ میں فوجی کارروائی، ’12 شدت پسند ہلاک‘

’اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو صرف ایک کالونی سمجھا ہے‘

یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے نامعلوم مقام سے جاری بیان میں کہا ہے کہ قلات میں یو بی اے کے سرمچاروں نے پاکستانی خفیہ اداروں کے آلہ کاروں کو ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

’حملے میں تین ایجنٹ موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ ایک بھاگنے کی کوشش میں زخمی ہوا۔ حملے کی ذمہ داری ہماری تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی قبول کرتی ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ مذکورہ افراد کا تعلق پنجاب سے تھا جو گذشتہ کئی دنوں سے منگچر سمیت دیگر علاقوں میں موجود تھے اور اطلاع ملنے پر انہیں واچ لسٹ میں رکھا گیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ افراد بھیس بدل کر پاکستانی خفیہ اداروں کی سہولت کاری کررہے تھے جس پر انھیں گذشتہ رات نشانہ بنایا گیا۔

مزار بلوچ کا موقف ہے کہ ’قابض پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے بلوچستان میں مقامی اور غیر مقامی افراد کو متحرک کر کے بلوچ تحریک کے خلاف کام لے رہے ہیں۔ باپ پارٹی تشکیل دے کر بلوچستان بھر سے چوروں اور لٹیروں کو بلوچ عوام پر مسلط کرنے سمیت جرائم پیشہ افراد کو ان پارٹیوں کے ذریعے متحرک کیا گیا لیکن بلوچ قومی تحریک کو ان حربوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘

مزار بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ یو بی اے واضح کرتی ہے کہ منگچر سمیت قلات کے دیگر علاقوں میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی ایما پر بلوچ سرمچاروں اور تحریک کے سامنے رکاوٹ بننے والوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا اور ان کی کارروائیاں آزاد بلوچستان کے حصول تک جاری رہیں گی۔

’مزدوری کریں تو چولہا چلتا ہے‘

قاسم علی کے بھائی رضا علی کا کہنا تھا کہ ہم تو بے ضرر لوگ ہیں۔ ’ہمارے گھروں میں رات کو اس وقت چولہا جلتا ہے جب دن کے وقت ہم لوگ محنت مزدوری کرئیں۔ اگر کسی دن مزدوری نہ ملے تو ہمارے گھروں میں چولہا نہیں جلتا ہے۔‘

’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم لوگوں سے کسی کو کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔ قاسم نے تو ساری زندگی کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مجبوری میں مزدوری کے لیے گھروں کو خیر آباد کہا تھا۔ قاسم علی کے سوگواروں میں بیوہ اور دو کم عمر بچیاں چھوڑی ہیں۔

ہلاک ہونے والے اور واقعے میں بچ جانے والے تمام مزدور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹیوب ویل کی کھدائی کے حوالے سے مزدوری کا کام کرتے تھے۔ اس کام کا ٹھیکہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے شاہ نواز کے بھائی محمد نواز حاصل کرتے تھے اور پھر وہ پنجاب سے بلائے گئے مزدوروں کے ذریعے سے اس کام کی تکمیل کرتے تھے۔

محمد نواز کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ بیس سال سے یہ کام کررہے ہیں۔ ’تقریباً پورے بلوچستان میں کام کیا ہے۔ اس کام کے لیے ہم اپنے علاقے سے مزدور لے کر جاتے تھے۔ ہمارے علاقے میں جہاں بے انتہا بے روزگاری ہے، وہاں پر لوگ انتہائی محنتی ہے۔ اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے 24، 24 گھنٹے بھی کام کرتے ہیں۔‘

’ہم لوگ جب بلوچستان کے مقامی زمینداروں کے پاس کام کر رہے ہوتے ہیں تو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ عموماً 24 گھنٹے شفٹوں میں کام کرتے ہیں کہ جلد از جلد کام ختم ہو۔ زمیندار ہمیں جہاں رکھتے ہیں، جو کھانے کو دیتے ہیں، چپ کر کے لے لیتے ہیں۔ عموماً ہمارے ساتھ مقامی زمیندار اچھے سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘

محمد نواز کا کہنا تھا کہ میرا بھائی شاہ نواز کئی سال سے وہاں پر ہی کام کرتا تھا جبکہ میں اب زیادہ تر وقت گھر میں رہتا تھا۔ ’اس کو ضرورت پڑے تو مزدوروں کا انتظام کرتا اور بھیج دیا کرتا تھا۔‘

’اس المناک واقعے سے قبل ہمارے علاقے ہی کے دو مزدور صرف چند گھنٹے قبل چھٹی پر چلے گئے تھے جس وجہ سے اب شاہ نواز سمیت چار مزدور کام کر رہے تھے۔ ان سب نے مجبوری میں مزدوری کے لیے گھروں کو چھوڑا تھا۔‘

محمد نواز کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والا ایک مزدور توتا رام مینگروال برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ ’اس نے بیوہ، دو کم عمر بیٹے اور ایک بیٹی سوگواروں میں چھوڑی ہے۔ ہم لوگوں کے پاس بھی کوئی زمین نہیں ہے مگر اپنے گھر ہیں۔ مگر توتا رام کے پاس تو اپنا گھر بھی نہیں تھا۔ یہ لوگوں کے گھروں میں رہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو مزدور ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں وہ اپنی مزدوری کا کچھ حصہ اپنے پاس اپنے اخراجات یا چھوٹی موٹی تفریح کے لیے رکھتے تھے اور باقی اپنے گھر والوں کو بھجوا دیا کرتے تھے۔ ’مگر توتا رام تو اپنے پاس صرف بس کے کرایہ کے پیسے رکھتا تھا کہ پتا نہیں کس وقت گھر جانا پڑ جائے تو پیسے پاس ہوں۔ باقی سب اپنے گھر بھجوا دیا کرتا تھا۔‘

’کبھی کھبار مزدوروں کو موقع ملے تو مل کر چھوٹی موٹی تفریح کرتے تھے۔ مرغی پکاتے، کسی ہوٹل پر کھانا کھانے چلے گے یا کسی پارک وغیرہ میں چلے جاتے تھے۔ ایسا مہینہ میں ایک یا دو دفعہ ہی ہوتا تھا۔ اس دوران توتا رام کوشش کرتا کہ وہ منظر ہی سے غائب ہوجائے کیونکہ وہ خود پر پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘

محمد نواز کا کہنا تھا کہ ’توتا رام کے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ بوڑھے ماں باپ ہیں۔ میں ان کے گھر والوں پاس جانا چاہتا ہوں مگر مجھ میں اس کی ماں اور اہلیہ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ جب تین ماہ قبل اس کو اس کی ماں اور اہلیہ نے میرے ہمراہ رخصت کیا تو انھوں نے کہا تھا کہ بے شک اس سے دگنا کام کروانا مگر اس کا خیال بہت رکھنا کہ یہ ہی ہمارا واحد سہارا ہے۔‘

علی رضا کا کہنا ہے کہ قاسم دو ماہ پہلے ہی بلوچستان گیا تھا۔ ’وہ جانا نہیں چاہتا تھا۔ اس کی اہلیہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کو چھوڑ کر جائے۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ان کے تعلق کے پورے خاندان میں چرچے تھے۔ یہاں تک کہ اگر اس کی اہلیہ ایک رات کے لیے بھی اپنے میکے جاتی تو قاسم بھی پہنچ جاتا تھا۔ مگر بچیوں کے ہمراہ اس کے اخراجات پورے نہیں ہورہے تھے۔ قاسم چاہتا تھا کہ اس کی بیٹیاں تعلیم حاصل کریں جس کے لیے اس کو جانا پڑا تھا۔‘

توتا رام کے بھائی پپو رام کا کہنا ہے کہ توتا رام اپنے بچوں کے ساتھ بہت زیادہ پیار کرتا تھا۔ ’وہ فون تو کبھی کھبار ہی کرتا تھا، کہتا تھا کہ فون پر پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مگر جب فون کرتا تو بچوں کے بارے میں پوچھتا تھا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18907 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp