جہیز خوری: کیا صرف مرد قصور وار ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب اپنے زعم میں خود کو ماڈرن ترین انسان سمجھتے ہیں۔ ایسے انسان جنہیں دقیانوسی خیالات اور رویے الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو معاشرے میں قابل قبول کہلوانے کے لئے ان موضوعات کو زیادہ زور و شور سے ڈسکس کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم ماڈرن کہلائیں۔ عورت کے حقوق شاید ایسا ہی ایک موضوع ہے۔ ہم اس موضوع کے چھڑتے ہی مرد کو مورود الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں۔

عورت پہ آئی ہر مصیبت اور تکلیف کا ذمہ دار مرد نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ کوئی ایک مرد ہو گا۔ سب مردوں سے صرف اس بناء پر نفرت نہیں کی جا سکتی۔ ٹھیک اسی طرح کہ اگر آپ کا کسی گاڑی کی ٹکر سے ایکسیڈنٹ ہو جائے تو کیا آپ ساری زندگی گاڑی میں نہیں بیٹھیں گی؟ یہ تو بے وقوفی ہی کہلائے گی۔

مرد بھی اسی عزت کا مستحق ہے جس کی ایک عورت ہے۔ جو بے عزتی، الزام تراشی یا گالم گلوچ ایک عورت کے لیے غلط ہے وہی کردار کشی، بہتان تراشی اور دروغ گوئی ایک مرد کے لیے بھی غلط ہونی چاہیے۔ اگر عورت کی عزت کو ایسا نازک آبگینہ بنا لیا گیا ہے کہ اس کے کردار پر انگلی اٹھنے سے ہی بات جینے مرنے پر آ جائے گی تو ایک آدمی کی عزت بھی اتنی ہی حساسیت کا تقاضا کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں جہیز کے خلاف سماجی روابط کے مختلف فورمز پر ایک مہم جاری ہے جس میں جہیز کو ایک لعنت گردانا گیا ہے۔ جہیز لینا اور دینا دونوں فریقین کے لیے باعث شرم عمل ہونا چاہیے۔ اس بحث کا آغاز ہوا ”برائڈل کوٹییور ویک“ میں جاری شادی کے ملبوسات کی نمائش میں ایک ڈیزائنر کی جانب سے اپنی کلیکشن کے لیے منتخب موضوع سے۔ علی ذیشان نامی معروف ڈیزائنر نے اقوام متحدہ کے خواتین کے لیے مختص ذیلی ادارے (UN WOMEN) پاکستان کے اشتراک سے اپنی کلیکشن کا موضوع ”نمائش“ اور جہیز خوری بند کرو ”جیسے موضوعات پر رکھا۔

تصویر میں ایک کم عمر دلہن اپنے سے کہیں زیادہ وزن لاد کر دولہا کے لیے لا رہی ہے۔ اس تصویر کا آنا تھا کہ سوشل میڈیا پر دھواں دار بحث شروع ہو گئی۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی دکھائی دیا کہ لڑکے کو لالچی دکھانے والے ڈیزائنر کے اپنے ملبوسات کی قیمت کئی لاکھ روپے سے متجاوز ہے۔ تو کیا یہ سب صرف ایک پیڈ کیمپین یا پیسے دے کر چلائی گئی ایک مارکیٹنگ اسٹریٹیجی ہے کیونکہ اگر مقصد نمود و نمائش روکنا ہے تو بے جا مہنگے اور قیمتی ملبوسات بھی تو معاشرے میں غلط رسم ہی ہیں اور یہ سب مرد کی جیب پر بوجھ ہی بنتے ہیں خواہ وہ مرد کسی بھی طرف کا ہو۔

کسی بھی معاملے میں یک طرفہ طور پر ایک فریق کو قابل مذمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سچ ہے کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو منہ سے کہہ کر جہیز کا مطالبہ کرتے ہوں گے مگر تعلیم یافتہ امراء اور متوسط طبقے میں ایسا کم ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ کہہ دیا جاتا ہے آپ اپنی بیٹی کو جو دیں وہ آپ کی مرضی ہے، ہم آپ سے مطالبہ نہیں کر رہے۔ کئی بار یہ الفاظ واقعی نیک نیتی سے ادا کیے جاتے ہیں۔

اب تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ لڑکی والے سماج میں اپنی شان بڑھانے اور سسرال پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ضرورت سے زیادہ نمود و نمائش کا سہارا لیتے ہیں۔ کیا ایک تعلیم یافتہ لڑکی میں اتنا اعتماد نہیں ہونا چاہیے کہ وہ تھوڑے میں گزارا کرے یا کسی بھی فضول مطالبے کو مسترد کر سکے۔ بہت سے گھرانوں میں جہیز کی ڈیمانڈ لڑکے نہیں بلکہ لڑکی کی جانب سے کی جاتی ہے۔ محض کسی کزن، دوست، کلاس فیلو یا اکثر کیسز میں سابقہ منگیتر کو دکھانے کے لیے یا ان سب پر سبقت لے جانے کے لیے والدین سے ہر چیز مہنگی طلب کی جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں پارلر میں ایک ایسی لڑکی سے ملنے کا اتفاق ہوا جس کے اپنے الفاظ کچھ یوں تھے کہ میں نے تو اپنے پاپا کو کہہ دیا ہے کہ بھلے بینک سے قرضہ لینا پڑے مگر مجھے بالکل شاہانہ شادی چاہیے، اپنی سب دوستوں سے بڑی۔ کچھ اسی طرح کی خواہشات اور خواب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے باپ اور بھائی پر اتنا بوجھ آ جاتا ہے کہ وہ محض چند دن کے جشن کے بعد مہینوں سالوں تک قرضہ اتارتے رہتے ہیں۔

علی ذیشان کے شادی کے مہنگے ملبوسات

مطالبات صرف باپ اور بھائی سے نہیں کیے جاتے۔ جس طرح لڑکی والوں کے لیے جہیز ایک بوجھ ہے، ٹھیک اسی طرح لڑکے سے لگائی جانے والی قبل از وقت امیدیں اور مطالبات اس کے سر پر لٹکتی تلوار ہیں۔ سب سے پہلا اور محبوب سوال ”اپنا گھر“ کا کیا جاتا ہے۔ کس منطق کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اپنے اپنے گھروں کے مالک ہوں؟ دوسرا سوال مشترکہ خاندان یا علیحدہ رہنے سے متعلق ہوتا ہے۔ گاڑی یا موٹر بائیک کی موجودگی، ماہانہ آمدنی اور مستقبل میں کسی کاروبار کا ارادہ اور سب سے بڑا اعتراض گھر میں موجود کنواری بہنیں۔

کسی آدمی سے اپ 28 سال کی عمر میں پرفیکشن کا مطالبہ یا امیدیں کیسے لگا سکتے ہیں؟ خاص طور پر وہی مطالبات جو آپ کو 60 سال کے باپ پر بوجھ دکھائی دیتے ہیں؟ بات اگر برابری کی ہو تو فریقین اپنا بوجھ بانٹیں اور شادی پر بے انتہا نمود و نمائش کے بجائے اسی رقم سے اپنے گھر کی انتہائی ضروری اشیاء خرید لیں اور جس حد تک ممکن ہو مستقبل کی منصوبہ بندی کے ساتھ چلیں۔ جن لوگوں کو دکھانے یا جلانے کے لیے آپ اپنا بجٹ خراب کر کے میلہ سجائیں گے، انہوں نے کسی بھی طرح آپ کی زندگی میں مثبت کردار ادا نہیں کرنا۔

کیوں آپ کو ڈھیر سارا گھر کا وہ سامان بھی چاہیے جسے آپ نے فی الفور استعمال میں نہیں لانا؟ کون سے بھاری ملبوسات آپ 3 سے 4 بار سے زیادہ پہن سکتی ہیں؟ کیوں آپ کو برتنوں کا انبار چاہیے؟ سونے کے زیورات سے کوئی مرعوب ہو یا نہیں، آپ انہیں ہر روز پہن کر نہیں بیٹھ سکتیں۔ شادی کا جوڑا ہیرے موتی جڑا ہو پھر بھی آپ نے اسے روز زیب تن نہیں کرنا۔ اگر ہر لڑکا 28 سال کی عمر میں اپنا گھر، گاڑی اور بیرون ملک ہنی مون کا انتظام کرے گا تو دنیا باغ و بہار تب بھی نہیں ہو گی۔ انسان کی خواہشات ایسا سانپ ہیں جسے آپ بل سے باہر گھسیٹ کر نکالتے جائیں مگر اس کی دوسرا سرا کبھی باہر نہیں آئے گا۔

جہیز لینا بالکل غلط ہے مگر پورے گھر کا برانڈ نیو سامان لڑکا خریدے یہ بھی غلط ہے۔ آپ مل جل کر صرف ضروری اشیاء خریدیں۔ جو جو جس حد تک ممکن ہے بچت کی مد میں لیں۔ اچھی حالت میں کچھ سیکنڈ ہینڈ چیزیں بھی قابل استعمال ہوتی ہیں۔ ہم نے کیوں خود کو اتنا مغرور بنا لیا کہ ہر چیز چاہیے اور ہر چیز نئی چاہیے۔

اپنے جیون ساتھی کے لیے ہی نہیں، اپنے نئے گھر اور اس میں پہلے سے رہنے والے افراد کے لیے بھی آسانیاں پیدا کریں۔ تحفوں کا تبادلہ، منہ دکھائی، رستہ رکائی، دودھ پلائی، دولہا والوں کی جانب سے بری، کھیر بنانے پر پیسے ملنا، گود بھرائی، بچے کی پیدائش پر گھر والوں کی جانب سے تحائف، اپنے شوہر سے فضول رسومات کے لیے مطالبات کرنا۔ ان سب احمقانہ رسومات کا خاتمہ کریں۔ یہ سب تب ہو گا جب آگہی اور اتفاق دونوں جانب سے ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply