عالمی ادارۂ صحت کی ووہان میں تحقیقات مکمل، کرونا وائرس کی ابتدا کا سراغ نہیں ملا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی ادارۂ صحت کے ایک رکن پیٹر بن ایبارک، کرونا وائرس سے متعلق تحقیقات کے بعد ووہان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک چارٹ دکھا رہے ہیں۔8 فروری 2021
ویب ڈیسک — عالمی ادارۂ صحت کے سائنس دانوں کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیقات مکمل کر لی ہے۔ جس کے بعد چین نے بدھ کو امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کو اپنے ملک میں بھی کرونا وائرس کی ابتدا پر تحقیق کرنے کی دعوت دے۔

دوسری جانب امریکہ نے عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کی تحقیقات کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیم کی جانب سے استعمال کیے گئے ڈیٹا کو خود دیکھنا چاہتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم نے ووہان میں کرونا وائرس کے آغاز پر چین میں تحقیقات کے بعد اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کا آغاز ووہان کی لیبارٹری سے نہیں ہوا اور یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کا پھیلاؤ چمگادڑوں کے ذریعے ہوا۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینگ وین بن نے اپنی روزانہ کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ’’ہماری یہ خواہش ہے کہ امریکہ چین کی طرح شفاف رویہ اختیار کرے اور عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کو امریکہ میں کرونا وائرس کی ابتدا پر تحقیق کرنے دے۔‘‘

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی وبا جسے سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دیکھا گیا، کی ابتدا پر شدید تنازع ہے اور چین اس خیال کو بار بار سامنے لا رہا ہے کہ اس وائرس کی ابتدا کہیں اور ہوئی۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری جین ساکی نے منگل کے روز کہا ہے کہ بائیڈن کی انتظامیہ عالمی ادارۂ صحت کی تحقیق کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل میں شامل نہیں تھی اور ان کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ وہ اس معاملے میں نتائج اور استعمال کیے گئے ڈیٹا کو آزادانہ طور پر دوبارہ دیکھے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ کے ایڈیٹر ان چیف ہو زیجین نے چینی سوشل میڈیا ویبو پر لکھا کہ ’’امریکہ عالمی ادارۂ صحت کے ڈیٹا کو آزادانہ دیکھنا چاہتا ہے؟ دراصل عالمی ادارۂ صحت کو امریکہ کے ڈیٹا کو آزادانہ دیکھنا چاہیے۔‘‘

عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کے سربراہ پیٹر بین ایمبارک نے کہا ہے کہ ان کی تحقیقات سے وبا کے پھوٹنے سے متعلق کوئی ڈرامائی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وائرس ووہان میں نمودار ہونے سے پہلے کسی اور ملک سے آیا ہو۔

انہوں نے لیب لیک کے مفروضے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وائرس فروزن کھانے کے پیکجز سے ملک میں آیا ہو۔ بیجنگ کی جانب سے یہ مفروضہ دیا گیا تھا کہ وائرس کے کچھ کلسٹرز کا تعلق درآمد شدہ کھانے کے پیکج سے تھا۔

گلوبل ٹائمز نے لکھا کہ ’’عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کے نتائج نے چین مخالف سازشی نظریات کا انکار کر دیا ہے۔”

سابق امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ اس بات کا کافی ثبوت موجود ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا چین کی لیبارٹری سے ہوئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1162 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply