روحانیت اور سائنس کا سچ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں آج تک جو سب سے بڑا جھوٹ بولا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ سائنس اور روحانیت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور روحانیت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ سائنس اور روحانیت کی بنیادیں ایک جیسی ہیں۔ جس بنیاد پر سائنس کھڑی ہے ، اسی بنیاد پر روحانیت جگمگا رہی ہے۔ فطرت کے قوانین سائنس اور روحانیت دونوں کے لئے ایک جیسے ہیں۔ روحانیت کا مذاہب، عقائد اور جنت و دوزخ سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔

مذاہب اور عقائد کی بنیاد ایمان پر ہے جبکہ روحانیت ایمان (belief) نہیں ہے۔ ایمان کو ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی تقلید کی جاتی ہے، ایمان کو ہر صورت تسلیم کیا جانا چاہیے جبکہ روحانیت اور صوفی ازم میں جو کچھ بھی ہے ، اس کی ہر ایک بات کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ روحانیت اور سائنس کی دنیا میں جو ہے اس کی بات کی جاتی ہے۔ روحانیت دنیا کے تمام انسانوں کے لئے ایک جیسی ہے۔ ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی سب کے لئے روحانیت ایک جیسی ہے۔

دنیا کے انسانوں کے مذاہب مختلف ہیں لیکن ان سب انسانوں کی روحانی دنیا ایک جیسی ہے ، بالکل ویسے ہی جیسے سائنس دنیا کے تمام انسانوں کے لئے ایک ہے۔ روحانیت کو سمجھنے کے لئے سائنسی دنیا سے تین قوانین کو سمجھنا چاہیے۔ ان تین قوانین کو سمجھ لیا گیا تو یقین جانیں حقیقی اور حتمی سچ سامنے آ جائے گا۔ ان تین قوانین کو باریکی سے سمجھ لیا گیا تو روحانی اور سائنسی حوالے سے تمام کنفیوژنز ختم ہو جائیں گی۔

سائنس کے تین قوانین ہیں کہ جہاں بھی علت (effect) ہو گی وہاں پر ہر صورت معلول (cause) بھی ہو گا۔ ایفکٹ کے بغیر کاز کا ہونا ممکن ہی نہیں ہے اور یہ سائنس کا سب سے بڑا قانون ہے۔ یہ دنیا جہاں پر اربوں انسان رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلق بنائے ہوئے تو یہ ایفکٹ ہے، اگر یہ ایفکٹ ہے تو پھر اس کا کوئی نہ کوئی کاز بھی ضرور ہو گا۔ اس بارے میں کوئی شک کیا ہی نہیں جا سکتا۔ انسانوں کے درمیان خلا بھی ہے، ہر دو انسانوں کے درمیان خلا ہے۔اس خلا کا بھی کوئی نہ کوئی کاز یا سبب ہو گا ، اس بارے میں انکار کیا ہی نہیں جا سکتا۔

میں ہوں ، اس کا بھی کوئی نہ کوئی سبب ہو گا۔ ہر انا کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ اس دنیا میں کچھ بھی کسی ایسی جگہ سے نہیں آ سکتا ہے جہاں کچھ نہیں ہے۔ جہاں کچھ نہیں ہے حقیقت میں وہاں بھی کچھ نہ کچھ ہے۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے جس کا انکار دنیا کا کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ اس دنیا میں برف ہے تو پانی ہے اور پانی ہے تو ہوا بھی ہے اور ہوا ہے تو آسمان ہے۔ اسی طرح اس آسمان کا بھی کوئی نہ کوئی سورس ہے۔ جہاں ایفکٹ وہاں کاز ، اسی کا نام سائنس ہے اور یہیں سے انسان کی روحانی دنیا کی انکوائری کا آغاز ہوتا ہے۔

اس دنیا میں ایک انسان کا جسم ہے اور ایک خود انسان ہے اور ان دونوں کا کاز بھی ہو گا۔ ان دونوں کا کاز ایک ہی ہے۔ ایک دیکھ رہا ہے، ایک دکھائی دے رہا ہے، ان دونوں کا کاز ایک ہی ہے۔ کاز کا مطلب ہے سورس یا ذریعہ۔ خدا کے بارے میں انسان کا ایک نظریہ یہ ہے کہ انسان دنیا میں ہے اور خدا کسی اور جگہ ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے اسے belief کہتے ہیں۔ جبکہ روحانی دنیا میں صوفی کہتے ہیں کہ خدا انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، خدا انسان کے دل کا بھی دل ہے۔

اس کا مطلب کیا کہ خدا انسان کو پیدا کرنے والا ہے ، یعنی انسان کا سورس ہے۔ اب انسان خدا تک پہنچنے کے لئے belief کے راستے کا بھی انتخاب کرتا ہے اور صوفی یا روحانی بابے سائنسی انداز میں خدا تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صوفی خدا کو کائنات کے ہر ذرے کا سورس سمجھتے ہیں ،اس لئے وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔ خدا سے عشق کرتے ہیں۔ اس لئے تو صوفی کہتے ہیں کہ خدا کہیں اور نہیں ان کے اندر ہی ہے۔ روحانی بابے اس لیے کہتے ہیں کہ خدا نہیں تو کچھ بھی نہیں، خدا ہے تو سب کچھ ہے۔

یہ جو ہم انسان انا سے بھرے پڑے ہیں کہ میں یہ ہوں، میں وہ ہوں، میں فلسفی ہوں وہ جاہل ہے، میں دولت مند ہوں، وہ غریب ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ ہم سب کا سورس تو ایک ہی ہے اور وہ سورس نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ کائنات کے ہر ذرے کا سورس صوفیوں اور درویشوں کے نزدیک ایک ہی ہے۔ زمین، سورج، چاند، ستارے، کائنات، انسان سب کا سورس ایک ہی ہے۔ سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ سائنسی انکوائری کا اختتام بھی ایک ہی سورس پر ہے اور روحانی دنیا میں بھی اسی ایک سورس کی طرف سچ کا سفر جاری ہے۔

سائنس کہتی ہے کہ ایٹم ہی کائنات کے ہر ذرے کا سورس ہے۔ ایٹم ہی اگر کائنات کا سورس ہیں تو پھر ان ایٹمز کا سورس کیا ہے۔ یہاں سے پھر روحانیت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ سائنس سے جب پوچھا جاتا ہے کہ یہ ایٹمز کہاں سے آئے تو یہاں پر سائنس دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا؟ یہ وہ مقام ہے جہاں سائنس گھبرا جاتی ہے؟

سائنس کے مطابق something can not come out from nothing۔ یعنی کچھ بھی عدم سے وجود نہیں پا سکتا۔سائنسدانوں سے جب سوال کیا جاتا ہے کہ یہ ایٹمز کہاں سے آئے تو جواب دیتے ہیں۔ سب اٹامک پارٹیکل سے۔ جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ یہ سب اٹامک پارٹیکل کہاں سے آئے تو پھر ان کا جواب ہوتا ہے nothingness۔ یہاں پر سائنس کو معلوم ہی نہیں کہ یہ nothingness کیا ہے ، اسی وجہ سے یہاں سائنس اپنے ہی قانون کی دھجیاں بکھیرتی نظر آتی ہے۔ سائنس کے پاس کوئی ایسی چیز ہی نہیں جن سے وہ معلوم کر سکے کہ جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں پر کیا ہوتا ہے۔

جہاں سائنس کنفیوژ ہوتی ہے ، وہاں سے کوانٹم فزکس کا سفر ہو جاتا ہے۔ کوانٹم فزکس کے مطابق جہاں کچھ نہیں ہے وہاں بھی کچھ ہونا چاہیے۔ کوانٹم فزکس nothingness کو زیرو پوائنٹ کہتی ہے ، مطلب ایک ایسی فیلڈ جہاں پر سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس فیلڈ کے بغیر کچھ ہونا ممکن ہی نہیں۔ سب کچھ زیرو پوائنٹ پر ہی ہو رہا ہے۔ کوانٹم فزکس کے مطابق وہ فیلڈ ہے تو سب کچھ ہے ، وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ سائنس nothingness کے بارے میں کچھ جانے یا نہ جانے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن کاز تو ہے اس کاز کا تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس کاز یا سورس کو کچھ بھی کہہ دو۔ دنیا یا کائنات میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے چاہے وہ ٹھوس شکل میں ہو یا مائع شکل میں ہو، اس کا کچھ نہ کچھ سورس تو ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کچھ نہ ہو اور کچھ دکھائی دے۔ ’کچھ نہیں‘ میں سے کچھ دکھائی دے رہا ہے اور وہی سچ ہے۔ وہ nothingness کیا ہے ، اس کی انکوائری صوفی یا درویش کر رہے ہیں اور اسی کا نام spirituality یا روحانیت ہے۔

اسی لئے تو صوفی کہتے ہیں کہ یہ ایفکٹ کچھ بھی نہیں، حقیقت میں کاز ہی سب کچھ ہے جو بظاہر الگ نظر آ رہا ہے لیکن حقیقت میں الگ نہیں ، ایک ہی ہے۔ برف پانی ہی ہے لیکن پانی سے مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ برف کا ہر طرح سے مشاہدہ کریں ، پانی سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن حقیقت کیا ہے کہ برف پانی ہے۔ پانی نہیں تو برف کہاں؟ برف سے پانی نکل جائے تو کیا برف کا کوئی وجود ہے۔ صرف کاز ہی حقیقت ہے ، صرف کاز ہی سچ ہے۔

اب یہ سوال کہ برف کا وجود نہیں تو کیا برف nothing ہو گئی۔ برف nothing نہیں بلکہ پانی بن گئی۔ اب پانی کو کسی برتن میں ابالیں اور کچھ دیر بعد دیکھیں ، پانی برتن سے غائب ہو گیا۔ تو اب کی پانی nothing بن گیا۔ پانی nothing نہیں بلکہ ہوا بن گیا۔ کیا مطلب پانی مرا نہیں بلکہ اس کی شکلیں بدل رہی ہیں۔ سائنس جانتی ہے یہ برف پانی بنی، پانی ہوا بنی اور ہوا نے کوئی اور شکل اختیار کر لی۔ سائنس کے پاس جتنے ریسورسز ہیں ، وہ پانی کی بدلتی شکلوں کو دیکھ رہی ہے اور جب وہ ریسورسز ختم ہو جاتے ہیں تو سائنس رک جاتی ہے؟

یہ سائنس کے محدودات یا limitations ہیں؟ کچھ دیر کے لئے فرض کر لیں کہ سائنس nothingness یعنی زیرو پوائنٹ یا ساؤنڈ آف سائلنس تک پہنچ بھی جاتی ہے جو کہ ناممکن ہے تو وہاں پہنچ کر بھی سپریم ٹرتھ کو جان کر بھی پریشان ہی رہے گی اور کچھ اور کرنے کا سوچے گی۔ سائنس سچائی تک کبھی بھی نہیں پہنچ سکتی لیکن صوفی یا درویش وہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ صوفی ’جب میں کون ہوں؟‘ کے سفر پر چل پڑتا ہے تو حتمی طور پر وہ ساؤنڈ آف سائلنس یعنی زیرو پوائنٹ تک پہنچ جاتا ہے اور پھر جا کر اسے سارے کھیل کی حقیقت کا علم ہو جاتا ہے۔

انسان کے پاس حتمی سچ تک پہنچنے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا وہ انسان جو اپنے سچ کی تلاش میں نکلتا ہے اور nothingness تک پہنچ جاتا ہے یعنی زیرو پوائنٹ پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ جو کائنات کی تخلیق کے سچ کو جاننے کے لئے نکلتے ہیں وہ بھی زیرو پوائنٹ پر پہنچ جاتے ہیں اور وہ جو خدا کو تلاش کرنے کے سفر پر نکلتے ہیں وہ بھی اسی مقام تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ روحانی دنیا ایک حقیقی سچ ہے ، جو بھی اس سچ کا عاشق ہو جاتا ہے ، جس کو بھی اس سے محبت ہو جاتی وہ پرسکون ہو جاتا ہے اور اس کے اندر کی اتھل پتھل ختم ہو جاتی ہے۔

روحانی درویش، صوفی اسی وجہ سے پریشانی اور شکوک و شبہات سے پاک ہوتے ہیں کیونکہ وہ حقیقت کو جان چکے ہوتے ہیں۔ کسی کو بھی وہاں تک پہنچنا ہے تو اسے سچ کا طالب علم بننا پڑے گا۔ ہم انسان پرسکون، پرامن اور خوشگوار زندگی انجوائے کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سچ کے طالب علم کے طور پر زندگی گزارنی ہو گی۔

اس دنیا میں جس کو دیکھو وہ کچھ نہ کچھ علم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سب اس کائنات کی چیزوں کے بارے میں انکوائری کر رہے ہیں۔ لیکن روحانی مفکر، صوفی، درویش کائنات کے تخلیق کار تک پہنچنے کی انکوائری کر رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کائنات کا حقیقی علم تو spirituality ہے۔ ہم سب کو حقیقت سپریم ٹرتھ تک پہنچنے کے لئے سچ کے طالب علم بننا ہو گا۔ پھر جا کر ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم کون ہیں اور ہمارا سورس کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply