حسن ظہیر جعفری کی کتاب: منزلیں اور قوس قزح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ سندھ کا شہر حیدرآباد اپنی قدیمی حیثیت اور چوڑیوں کی صنعت کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ پاکستان بننے کے بعد حیدرآباد سندھ اردو ادب کا ایک بڑا مرکز بن گیا تھا، حیدرآباد کے تاریخی کل پاکستان مشاعرے اب تک یاد کیے جاتے ہیں۔ اسی حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے جناب حسن ظہیر جعفری جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد حیدرآباد کواپنا مسکن بنایا اور اپنے ادبی شوق ذوق کی بدولت یہاں کی ادبی فضا کے روح رواں بن گئے۔

آپ لکھتے ہیں ”شام کے وقت جہاں ادیب اور شاعروں کی بیٹھک ہوا کرتی تھی، گاڑی کھاتہ میں سلطان ہوٹل کی اوپری منزل پر ہوتی تھی۔ اسی ہوٹل کے نیچے ادبی رسائل اور کتابوں کے کیبن تھے۔ پان اور سگریٹ کی کئی دکانیں تھیں اور دیگر ہوٹل ان میں ایرانی کیفے مثلاً تہران کیفے جہاں ریڈیو کے فنکار محمد علی، حمایت علی شاعر، عامر، طاہر اور دیگر ہوتے۔ یہ کیفے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک پر تھا۔ سلطان ہوٹل میں محسن بھوپالی، ارشاد علی محمد علی کے بڑے بھائی، محمد حسین، نئی قدریں کے مدیر مشہور و معروف شخصیت استاد اختر اکبر آبادی کے علاوہ ہمارے قریبی دوستوں میں قابل اجمیری اور بابو رفیق ریواڑی، تراب گوالیاری وغیرہ کی نشست بھی رہتی“ ۔

حیدرآباد میں ان کے لڑکپن کے دوست سلطان جمیل نسیم جنہوں نے انہیں شاعری سے روشناس کروایا، اور یہی حیدرآباد شہر ہے جہاں بہ قول آپ کے ”ہمیں ادب کا چسکا پڑا اور ترقی پسند تحریک سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، حیدرآباد کے ادبی حلقوں میں آنا جانا شروع ہوا“ ۔ آپ نے حیدرآباد سندھ سے محسن بھوپالی کے اشتراک سے ایک ادبی جریدے ”زاویے“ کا اجراء کیا، اپنے رسالے کے لیے کبھی اداریے لکھے ، کبھی غزلیں اور کبھی نظمیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب آپ کو مصروفیت سے مہلت ملی ، آپ نے اپنی پہلی کتاب قوس قزح شائع کی۔ قوس قزح کے سات رنگ جو برسات کے بعد نکھر کر ہر دیکھنے والے کو مسحور کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جناب حسن ظہیر نے کتابی شکل کی قوس قزح میں وہ مضامین جو الگ الگ رنگ میں اپنا جدا اسلوب رکھتے ہیں شامل کیے۔ اس کے علاوہ اپنی شاعری جن میں حمد ونعت، غزلیں اور نظمیں بھی ہیں۔

حسن ظہیر ایک بہترین دوست ہونے کے ساتھ درد مند دل بھی رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے دوست محسن بھوپالی کی یاد میں ایک نظم اور ان کے انتقال پر ایک آنسو بھری تحریر ”محسن چلے گئے“ ، ایک اور دوست سلطان جمیل نسیم، بچپن کا ساتھی کے عنوان سے تحریر، صبا اکبر آبادی جن کی شاعری سے ان کے بیٹے سلطان جمیل نسیم نے متعارف کروایا ، ان پر ایک مضمون، صبا اکبر آبادی کے سینکڑوں شعر انھیں ازبر ہیں اور آپ نے انھیں اپنی کتاب کی زینت بنایا ہے۔ حیدرآباد کے ایک مشہور شاعر قابل اجمیری پر بھر پور تحریر غرض اس قوس قزح میں حسن ظہیر کے ادبی جوہر کھل کر سامنے آتے ہیں۔

موجودہ کتاب ”منزلیں اور قوس قزح“ یکجا ہونے اور کچھ اضافے کے بعد ملی ہے اس لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ موجودہ کتاب حسن ظہیر جعفری کے سفر ناموں، نثری مضامین اور شاعری کی کلیات ہے۔ ’منزلیں‘ میں اسفار کا احوال بہت دلچسپ جبکہ انداز بیاں مختصر اور دلکش ہے جسے پڑھ کر لطف آتا ہے۔ سفرناموں میں تھائی لینڈ، فوکیڈ، امریکا، سیاٹل، ترکی، دبئی، شارجہ کی سیر کا مفصل احوال اور ہندوستان میں بارہ دن جہاں اپنی والدہ کی لحد پہ فاتحہ خوانی بہت خوب تحریر ہے، جبکہ تاج محل، غالب کا محلہ، امراؤ جان ادا کی گلی کی روداد خوب ہے۔ آپ کے جذبۂ سیاحت کی داد دینی پڑتی ہے کہ اپنی عمر کو اس میں آڑے نہیں آنے دیا اور جی بھر کر سیر وسیاحت فرمائی۔ کتاب میں اپنے آبائی شہر سندھ کی رہائش اور ادبی زندگی کا احوال بھی ہے۔

اس کتاب میں آپ نے ایک مہربان محبت کرنے والے دوست کا کردار بہت خوبی سے نبھایا اور اپنے دوستوں کا ذکر بہت فراخ دلی سے کیا ہے ۔ خاص طور پہ اپنے دوست خاص محسن بھوپالی کے بارے میں بہت خلوص اور جذب سے تحاریر لکھیں ہیں کہ کس طرح ان دونوں نے حیدرآباد میں شب و روز گزارے اور کراچی آنے کے بعد بھی محسن بھوپالی سے ویسا ہی ناتا قائم رکھا۔ دونوں دوستوں کی مثال سامنے ہے کہ محسن بھوپالی نے اپنے مجموعہ کلام ”منزل“ کا انتساب حسن ظہیر کے نام کیا تو حسن ظہیر نے اپنی کتاب ”منزلیں اور قوس قزح“ کا انتساب محسن بھوپالی کے نام کیا۔ یہ بے لوث دوستی کی بہترین مثال ہے۔

حسن ظہیر جعفری

میری دعا ہے حسن ظہیر کو اللہ سلامت رکھے اور وہ اپنی اس خواہش کو ضرور پورا کریں جو اس کتاب میں ظاہر کی ہے کہ، ”محسن اور اپنی رفاقت کی کن کن باتوں کا تذکرہ لکھوں، اس کے لیے ایک مکمل کتاب کی ضرورت ہے۔ خدا نے زندگی دی اور آنکھوں نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ ایک کتاب ضرور مرتب کروں گا“ ۔ آپ کے کچھ اشعار نمونے کے طور پر پیش ہیں۔

ان کے غم کو سمجھ کے اپنا غم
خود کو یوں سوگوار کرتے ہیں

ہر چند میں اسیر سہی پھر بھی اے ظہیر
نالے مرے نوشتۂ دیوار ہو گئے

وقت بدلے تو پھر مکر بھی سکو
ایسا نکتہ بیان میں رکھنا

یقیناً یہ ایک ایسی کتاب ہے جو حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والے شاعر و ادیب کی وجہ سے یاد رکھی جائے گی، اردو ادب میں اس قطرے کے مماثل ہے جو گہر بن جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply