ویلنٹائن ڈے پر باحیا لوگ کیا کریں؟
حقوق نسواں، حقوق انسانیت اور پیار و محبت جیسے نعرے سننے میں تو خوبصورت لگتے ہیں لیکن اس قسم کے نعروں کے پیچھے باطل کے کچھ اور ہی مقاصد ہوتے ہیں۔
ایک عرصے سے پرفریب نعروں اور مخصوص ایام کا سہارا لے کر معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے مخصوص ایام میں ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہے۔ محبت کے نام پر پوری دنیا میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے لیے اس دن کا سہارا لیا جاتا ہے۔
قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھی اس غیر اسلامی تہوار کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں اور محبت جیسے پاکیزہ نام کا سہارا لے کر فحش کاری اور فسق و فجور کی ترویج کرتے نظر آتے ہیں۔ محبت کے نام پر ویلنٹائن ڈے منانے سے پہلے محبت کا مفہوم سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
محبت ایک پاکیزہ نام ہے جو اسلام جیسے پاکیزہ مذہب کو ہی جچتا ہے۔ اسلام ایک مکمل دین کا نام ہے۔ اس دین کی تعلیمات اس قدر کافی شافی ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے دین کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ایک مسلمان ہونے کی ناتے ہمیں دل و جان سے یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں میں ہے۔
اسلام محبت کرنے کی ہرگز مخالفت نہیں کرتا البتہ محبت کے نام پر بے حیائی کے فروغ سے ضرور روکتا ہے۔ محبت کے نام پر نامحرم مرد و زن کا آپس میں ملنا، باتیں کرنا اور گھومنا پھرنا اسلامی نقطۂ نظر سے جائز نہیں۔ اسلام ایسی محبت کی اجازت دیتا ہے جو پاکیزہ ہو اور ذاتی مفادات سے پاک ہو۔
محبت کی مثال دیکھنی ہو تو آپﷺ کی امت سے محبت دیکھ لیں۔ روز قیامت جب نفسا نفسی کا عالم ہو گا۔ باپ بیٹا ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ ماں جیسی عظیم ہستی اولاد سے منہ پھیر لے گی۔ یہاں تک کہ انبیاء علیھم السلام بھی نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے۔ ایسے وقت میں آقائے نامدارﷺ کو اپنی امت کی فکر لاحق ہو گی۔ ایسے عالم میں بھی آپﷺ امتی امتی پکار رہے ہوں گے اور بارگاہ ایزدی میں اپنی امت کی سفارش کر رہے ہوں گے۔
آپﷺ کی امت پر شفقت و رحمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر نبی کے لیے ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو روز قیامت اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہے۔ اس سے بڑھ کر محبت اور شفقت کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔
محبت ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے جس میں بے حیائی اور اخلاق باختگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ حقیقی محبت وہی ہے جو بندے کو اپنے خالق کے قریب کرے۔
محبت تو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہیے جس کی محبت دلوں میں سکون و اطمینان پیدا کرتی ہے۔ محبت تو آپﷺ سے ہونی چاہیے جو ہمیشہ امت کے لیے فکرمند رہتے تھے۔ محبت تو صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ہونی چاہیے جن کی بے شمار قربانیوں کی بدولت ہمیں اسلام جیسی عظیم نعمت ملی۔ محبت تو علماء اور صلحاء سے ہونی چاہیے جن کی صحبت انسان کو انسان بنادیتی ہے۔
محبت کے حق دار تو والدین ہیں جنہوں نے اولاد کی خاطر اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا۔ محبت کے حق دار وہ تمام حلال رشتے ہیں جن سے محبت کرنا عبادت ہے۔ یہی حقیقی محبت ہے۔ باقی سب محبت کے نام پر دھوکا ہے۔ محبت کے نام پر نامحرم مرد و زن کا آپس میں اختلاط، گھومنا پھرنا اور ویلنٹائن ڈے جیسے ایام پر ایک دوسرے کو تحائف دینا شرعاً اور اخلاقاً درست نہیں۔ کوئی باحیا اور سلیم الطبع شخص ایسے قبیح اور نامناسب افعال کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتا۔


