میں تمثال ہوں: فحاشی کے الزام کا جواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل عارفہ شہزاد کا ناول “”میں تمثال ہوں“ ادبی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ کتاب ٹھیک دو دن پہلے میرے ایک قریبی دوست نے عنایت کی تھی۔ اس وقت یہ کتاب میرے سامنے ہے جس کو میں تین نشستوں کے بعد مکمل کر چکی ہوں۔

کتاب درحقیقت ایک خودنوشت ہے جو مرکزی کردار تمثال کے گرد گھومتی ہے۔ کتاب کے اندر تمثال اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ بیان نہیں کرتی نہ ہی وہ یہ بیان کرتی دکھائی دیتی ہے کہ اس نے زندگی میں کامیابی کیسے حاصل کی اور اس جستجو میں اس نے کیا کھویا کیا پایا۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنی جنسی زندگی کے متعلق نہایت بے خوفی سے یہ بتاتی نظر آتی ہے کہ اس نے کس طرح کے مذہبی گھرانے میں پرورش پائی جہاں ہر مشرقی گھر کی طرح جنس پر بات کرنا ممنوع تھا اور ایسے ماحول میں رہ کر کس طرح اسے جنسی عمل کے بارے معلوم ہونا شروع ہوا اور کیسے اسے اپنا پہلا عشق ہوا۔ کتاب میں مجموعی طور پر تمثال اپنی زندگی کے سات عشقوں کا ذکر کرتی ہے جن میں سے دو شادی سے قبل تھے تیسرا عشق اس کا شوہر تھا اور باقی کے چار عشق شادی کے بعد ہوئے۔

تمثال نے بالکل بے خوف ہو کر اپنے ہر عشق سے تعلق کی نوعیت کو کھل کر بیان کیا ہے اور ان سے اپنے ازدواجی تعلق کو بیان کرتے ہوئے بھی وہ ذرا نہیں گھبرائی۔

اپنے شوہر سے بیوفائی کی مرتکب وہ کیوں ٹھہری اس بارے میں بھی وہ دلائل پیش کرتی ہے جن سے وہ خود کو مطمئن کرنے کی ناکام سی کوشش کرتی ہے۔ یہی کوشش اسے عجیب سی اعصابی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہے جو نفسیاتی عارضے میں بدل جاتی ہے۔ خاص طور پر ساتویں عشق سے اپنے جذبات میں شدت کے باعث وہ ذہنی و قلبی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔

شادی سے قبل خود لذتی کا لطف، شادی کے بعد اس کے اور شوہر کے درمیان کیسا تعلق رہا کہ وہ دوسرے مردوں کی طرف نہ صرف متوجہ ہوئی بلکہ ان سے جنسی تعلقات بھی بنا بیٹھی المختصر یہ کتاب ایک عورت کی محض جنسی زندگی کے متعلق ہے جو کسی کی بیوی ہے، ماں ہے مگر پھر بھی جس کی ذات کی تسکین و تکمیل نہیں ہو رہی جو یکے بعد دیگرے سات عشق کرچکی ہے مگر اب بھی ادھوری ہے جسے خود معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے اور یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ شوہر کی عدم توجہی کا شکار تمثال کبھی کبھی مذہب اور سماج میں تقابل کرنے لگتی ہے جو اس کے نفسیاتی مسائل میں اضافے کا باعث بنتا ہے

اپنے تمام سوالات کے جوابات کے لئے وہ نفسیاتی معالج سے بھی رجوع کرتی ہے اور دونوں کے مکالمے کتاب میں بھی درج ہیں تاکہ کوئی اور تمثال جیسا شخص اس سے استفادہ حاصل کر سکے۔

یہ کتاب غالباً اپنے پڑھنے والوں کو جنسی عمل کی طرف راغب کر سکتی ہے یا پھر جنسی تسکین کا باعث بن سکتی ہے تاہم تمثال جیسا کردار سماج میں اکیلا نہیں ہے نجانے ایسے کتنے ہی کردار ہمارے معاشرے میں موجود ہیں مگر یہ پہلی بار ہے کہ کسی نے مکمل آزادی اور بے خوفی سے اپنی زندگی کے اس تاریک راز سے پردہ اٹھایا ہے جس کو کوئی دیکھنا یا سننا نہیں چاہتا۔ تمثال کوئی منٹو کی طوائف نہیں ہے جو بے باک ہو کر کھل کر سب کچھ کرتی ہے اور پھر اپنی زندگی کے تلخ حقائق کو کتابی صورت میں لے آئی ہے بلکہ تمثال اس معاشرے کی پڑھی لکھی اچھی پوسٹ پر جاب کرنے والی ایک شاعرہ ہے جس کا سماج میں ایک مقام ہے جس کی زندگی کا ایک رخ تو سب کے سامنے ہے مگر دوسرا رخ سب کی نظروں سے پوشیدہ تھا جس کو اس نے کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ تمثال پر تنقید کرنے سے قبل یہ ضرور سوچ لینا چاہیے کہ اس کے پاس آنے والے مرد بھی اس سے مختلف نہیں تھے۔

کتاب پر اعتراضات کر کے فحاشی کا الزام دے کر حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی یہ صرف تمثال کا چہرہ نہیں ہے بلکہ اس کے آئینے میں ہمیں سماج کا وہ بدنما عکس نظر آتا ہے جس حبس زدہ ماحول میں ہم جی رہے ہیں۔ یہ کتاب ہر عورت کو لازمی پڑھنی چاہیے تا کہ وہ تمثال جیسی دلدل میں پھنسنے سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply