ویلنٹائن ڈے سے پہلے خدا کی وارننگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پورے ملک میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تو ہر طرف سے مختلف قسم کے تبصرے دیکھنے میں ملے۔ کسی نے اس پر اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کی۔ تو کسی نے اس کو ہمارے گناہوں کی سزا سے تعبیر کیا اور یہ پیغام دیا کہ ہمیں خدا سے اس پر معافی کا طلب گار ہونا چاہیے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے جب بھی یہاں زلزلہ آیا ہے تو اسے خدا کا عذاب ہی کہا گیا۔ عام لوگوں سے لے کر کئی جید علما بھی اس بات پر ہی یقین رکھتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل جو کہ ہماری ایک بہت ہر دلعزیز شخصیت ہیں، وہ بھی زلزلہ کو اللہ کے قہر سے تعبیر کر چکے ہیں اور اس کی وجہ ہمارے گناہوں کو ہی قرار دے چکے ہیں۔ اور اس پر ان کی طرف سے بارہا بار خدا سے معافی مانگنے کا بھی کہا گیا۔

پچھلے برس جب کورونا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لینے کے بعد ہمارے ملک میں بھی اپنے پنجے گاڑے تب بھی مولانا صاحب نے اس کو بھی آسمانی آفت سے ہی تعبیر کیا تھا۔ اور اسے ہمارے گناہوں کی سزا قرار دے کر معافی کے لئے خدا کے حضور دعا بھی کروائی تھی۔ اس وقت مولانا کو لگا تھا کہ شاید یہ آفت صرف ان پر ہی نازل ہوتی ہے جو کہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ مگر جب اس بیماری نے ان کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ان کو سمجھ آئی کہ اس کا تعلق اس سب سے شاید نہیں ہے۔ اس کی وضاحت انہوں نے صحت یاب ہونے کے بعد ایک ویڈیو میں بھی دی۔

مگر ایک صاحب نے تو آج کمال ہی کر دیا جب انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں آج آنے والے زلزلہ کو خدا کی طرف سے ایک وارننگ قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹ میں فرمایا کہ چونکہ ایک دن بعد ویلنٹائن ڈے آ رہا ہے جس پر بے حیائی اور گناہوں کے سارے ریکارڈ توڑے جاتے ہیں تو اس لیے خدا نے آج ہم سب کو خبردار کیا ہے کہ ہم اس سب سے باز آ جائیں ورنہ ہمیں نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اس پوسٹ نے میرے تو رونگٹے کھڑے کر دیے اور میں نے تو یہ تہیہ کر لیا ہے کہ کافروں کے اس بے حیائی والے تہوار کو میں تو بالکل بھی نہیں مناؤں گا۔ بلکہ اس دن میں اپنے رب سے اپنے کیے گئے گزشتہ گناہوں کی معافی بھی مانگوں گا۔

مگر اس ضمن میں بس اتنی سی عرض ہے کہ اگر اس لاجواب منطق کو درست بھی مان لیا جائے، کہ یہ زلزلہ واقعی ہی ایک وارننگ تھا۔ تو پھر تو یہاں سے زیادہ شدت کا زلزلہ مغربی ممالک میں بھی آنا چاہیے تھا، کیونکہ ہمارے زیادہ تر لوگوں کی نظر میں وہاں تو پھر ہم سے کہیں زیادہ بے حیائی اور گناہوں کا دور دورہ ہے۔ اور یہ ویلنٹائن ڈے کا تہوار تو ہے ہی ان کا اور وہیں زیادہ جوش و خروش سے بھی منایا جاتا ہے۔ تو پھر وہاں کے لوگوں کو ایسی کوئی وارننگ کیوں نہیں دی گئی؟

اس کی ایک وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ وہاں کے لوگوں کی طرف سے ویلنٹائن ڈے یا دیگر تہواروں پر ہماری طرح منافقت کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا کہ پہلے سب کچھ کرو، اور پھر بڑی ڈھٹائی سے پارسائی کا ڈرامہ بھی رچا لو۔ اس پوسٹ کو شیئر کرنے والوں میں سے ہی کئی لوگ ایسے ہوں گے جن کے اعمال اور باتوں میں بہت زیادہ تضاد ہوگا۔ اس کی ایک مثال، ہماری ایک اداکارہ کی وائرل ویڈیو بھی ہے جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر آج کل کافی شور برپا ہے۔ ہمارے وہ پارسا لوگ جو ایک طرف اس اداکارہ کو بے حیا کہہ کر اس کو گالیوں سے نواز رہے ہیں تو دوسری طرف وہی اس کی ویڈیو کا لنک بھی مانگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اور اس طرح کے واقعات میں اس سے پہلے بھی ایسے ہی دوغلے پن کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ اور اس پارسائی کے دعوے داروں کی منافقت اور تنقید کی وجہ سے کئی ایسی خواتین اداکاروں کو بھی مذہب اور پارسائی کا لبادہ اوڑھنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

جہاں تک زلزلے کو خدا کی طرف سے وارننگ سے تعبیر کیا جانا ہے تو اس حوالے سی اتنی ہی عرض ہے کہ زلزلہ کا آنا نہ تو کوئی عذاب ہے اور نہ ہی وارننگ۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ جو زمین کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس کی نقل و حرکت سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اور روئے زمین پر قدرتی طور پر کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر ان پلیٹس کی نقل و حرکت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان علاقوں میں باقی علاقوں کی نسبت زلزلے بھی زیادہ آتے ہیں۔

مگر کاش اس کی سمجھ مولانا طارق جمیل اور ان جیسی سوچ کے حامل دیگر لوگوں کو بھی آ جائے کہ جیسے کورونا کا تعلق کسی عذاب یا گناہوں کی سزا سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک بیماری تھی جس کا علاج ان کی دعاؤں کی بجائے ویکسین سے ہی ممکن ہوا۔ اسی طرح زلزلہ کا تعلق بھی برے اعمال سے نہیں ہے۔ کہ اس کو خدا کی طرف سے وارننگ قرار دیا جائے بلکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو ایسے ہی جاری رہے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس سماج میں لوگ کبھی جینز اور کبھی مخلوط تعلیم کو بے حیائی کی وجہ قرار دیں وہاں ویلنٹائن ڈے سے پہلے آنے والے زلزلہ کو کیسے خدا کی وارننگ سے تعبیر نہ کیا جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply