ویلنٹائن ڈے یا فحاشی و عریانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی ابتدائے آفرینش سے ہی حق و باطل کی معرکہ آرائی جاری ہے، ہر دور میں معاندین اور ہر زمانے میں مخالفین نے شر انگیزی پھیلائی ہے، ہر قوم و ملت میں ایسے ناعاقبت اندیش افراد نے جنم لیا ہے جنھیں اشاعت حق اور غلبہ خیر سے پیدائشی دشمنی رہی ہے ؛ لیکن موجودہ دور کے جو فتنے سر ابھار رہے ہیں وہ ایک خطرناک ترین سازش اور تعصب پر مبنی اسلام دشمنی اور اہل اسلام سے ازلی عداوت و نفرت کا شاخسانہ ہے، شاید یہی وہ ذہنی فکری عملی ارتداد ہے جو سب سے پہلے انسان کے ظاہری طبیعت پر اثر انداز ہو کر اس کے باطن سے ایمان کی حقیقی لذت چھین لیتا ہے کیونکہ ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں کہ ہم ایک صریح فکری تہذیبی و ثقافتی ارتداد میں جھونک دیے گئے ہیں جہاں سے واپسی کی راہ کافی دور ہو چکی ہے اور ہر کوئی اس سے بے اعتنائی کا شکار ہے اگر ہم اس پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہماری صبح وشام میں مغربی تہذیب و ثقافت کے آثار ہیں۔

بلکہ دنیا میں پائے جانے والے تمام مذاہب میں مغربی الحاد اور بے دینی کی لہر ہے، حتی کہ مذاہب کا اثر لوگوں میں صرف ناموں تک رہ گیا ہے باقی سب رسومات وعبادات اخلاقیات ومعاشرت اسی تہذیب مغرب کی نذر ہو کر تباہ و برباد ہو گئے ہیں، ہمارے معاشرہ کا سرمایہ دار طبقہ مغربی تہذیب وثقافت کا دلدادہ بن چکا ہے، ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی اسی طبقہ کے ہاتھ میں ہے جس کی وجہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے طلباء کی اکثریت مغربی (افرنگی) تہذیب وثقافت کی دلدادہ بن رہی ہے، یہ سلسلہ مسلسل تیزی کے ساتھ جاری ہے اگر اس ارتداد کی طرف فوراً توجہ نہ دی جائے اور اگر اسے یونہی جاری رہنے دیا جائے تو بہت جلد اکثریت کا اسلام سے جذباتی لگاؤ بھی ختم ہونے لگے گا۔ بے حیائی، عریانی، فحاشی کی کئی وجوہات ہیں ہر مہینے میں مغرب نے کوئی نہ کوئی ایسا عمل قبیح مسلمانوں کو متعارف کروایا ہوا ہے کہ مغرب کے نمائندے کبھی آزادی مارچ، اور کبھی ویلنٹائن ڈے، کے نام پر بے حیائی اور فحاشی معاشرے میں پھیلا کر مذہب سے دوری پیدا کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں۔

مغرب کی تہذیب اور رسم و رواج میں سے ایک ویلنٹائن ڈے ہے ویلنٹائن ڈے ابتداء، تاریخ کیا ہے، در اصل

اس کی ابتداء کے متعلق کئی روایات ہیں، لیکن سب سے زیادہ قابل بھروساBritannica Encyclopediaکی وہ روایت جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس دن کا تعلق Valentine Saint سے نہیں بلکہ قدیم رومیوں کے ایک دیوتا Lupercallia کے مشرکانہ تہوار میں سے ہے۔ یہ تہوار 14 /فروی کو juno Februata کے آغاز میں منعقد ہوتا تھا۔ لڑکیوں کے نام ایک برتن میں ڈال دیے جاتے اور مرد دیکھے بغیر جس لڑکی کا نام نکالتے وہی تہوار کے ختم ہونے تک ان کی ساتھی بن جاتی۔

جب روم میں عیسائیت کو فروغ ملا تو اس تہوار کو عیسائیت کا جامہ پہنانے کی اس طرح کوشش کی کہ لڑکیوں کے ناموں کے بجائے اولیائs Saint کے نام ڈال دیے گئے۔ اب جس Saint کا نام نکلتا مرد حضرات کو اس کی تقلید سارا سال کرنی پڑتی۔ لیکن یہ کوشش ناکام رہی اور دوبارہ لڑکیوں کے ناموں کا قرعہ ڈالا جانے لگا۔ کئی لوگ اس تہوار کو Cupid سے متعلق سمجھتے ہیں، جو رومیوں کا محبت کا دیوتا تھا، جس کا یوم ویلنٹائن میں اہم کردار ہے۔

یہ لوگوں کے دلوں میں تیر مار کر ان کو عشق میں مبتلا کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے اس کی ماں محبت کی دیوی Venus ہے، جس کا پسندیدہ پھول گلاب ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس کا تعلق Valentine Saint سے ہے، جس کو شاہClaudius نے 14 /فروری کو اس جرم میں قتل کروادیا کہ وہ اس کے فوجیوں کی خفیہ طور پر شادیاں کرواتا، جن کو شادیوں کی اجازت نہ تھی۔ دوران قید، قید خانے کے داروغہ کی بیٹی سے عشق ہو گیا اور انہوں نے اس کو خط لکھا جس کے آخر میں دستخط کیے ”تمہارا Valentine“ یہ طریقہ بعد میں لوگوں میں رواج پا گیا۔

496ء میں پاپائے روم Gelusius نے سرکاری طور پر 14 فروری کے مشرکانہ تہوار کو یوم Valentine Saint میں تبدیل کر دیا۔ چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہو گیا اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط پیغامات کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پا گیا۔

برطانیہ سے رواج پانے والے اس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی میں بھی منایا جانے لگا، برطانوی کاؤنٹی ویلز میں لکڑی کے چمچ 14 فروری کو تحفے کے طور پر دیے جانے کے لیے تراشے جاتے اور خوبصورتی کے لیے ان کے اوپر دل اور چابیاں لگائی جاتی تھیں جو تحفہ وصول کرنے والے کے لیے اس بات کا اشارہ ہوتیں کہ تم میرے بند دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتے ہو۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اور امت مسلمہ میں سے اس قباحت میں حصہ لینے والے یاد رکھیں کہ اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ کامل اور مکمل طرز حیات ہے۔

ہمیں اس بات کا احساس ہونے کے ساتھ یہ اعتراف بھی ہے کہ اسلام کے ماننے والے اپنی اصل شناخت کھو بیٹھے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کی اکثریت دین کی بنیادی تعلیمات آداب و شعائر سے نا آشنا ہے، ہم نے اپنے دستور حیات کو بھول کر مغرب کے باطل نظریات کو قبول کر لیا ہے، جو محض دنیا وی حرص و ہوس کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خوشیاں منانے کے لیے سال میں دو تہوار عطا کیے ہیں اور ان کیادائیگی کا طریقہ کار بھی بتا دیا ہے، مگر ہم نے اپنی زندہتہذیب کو چھوڑ کر اس قوم کی دم توڑتی تہدیب کو سینے سے لگا لیا جو ”مہذب“ ہونے کی دعویدار ضرور ہے لیکن سائشتگی کا عنصر، ان میں نہیں۔

جن نے انسداد دہشت گردی کے نام پر افغانستان و عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر وہاں کے قید یوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا اپنا تشخص اور پہچان ہے، جو ہم مغرب کی اندھا دھند تقلید میں بھول بیٹھے ہیں۔ اورویلنٹائن ڈے اس طرح منانے لگے ہیں کہ شاید ہندؤں اور انگریزوں کے یہاں بھی نہ منائے جاتے ہوں۔ آج جب کہ ہماری اکثریت بھی اس بات سے ناواقف ہے کہ ان تہواروں کو منائے جانے کی کیا وجوہات ہیں؟

ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی محبت کے زبانی دعویدار یہ تک نہیں جانتے کہ لا علمی میں ہم کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے پر لاکھوں روپیہ پانی کی طرح بہا کر Celebrate کرتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں غربت، بیروزگاری اور کئی سماجی مسائل ہیں۔ اور ہم ہر طرف سے قرض میں جکڑے ہوئے ہیں کیا ہمارے معاشرے اور وطن عزیز کے باسیوں کو یہ فضول خرچیاں زیب دیتی ہیں؟ پھر زیب و آرائش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش، آخر یہ کسی تہذیب اور کون سی ثقافت کی نمائندگی ہے۔

؟ جبکہ ہمارا مذہب اسلام پھول اور کارڈز پر رقم ضائع کرنے کے بجائے حقوق و فرائض ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دل کی گہرائی کے ساتھ والدین کے لیے بازو جھکا دینے اور بزرگوں کی خدمت کے لیے کوشاں رہنے کی تعلیم و تلقین کرتا ہے۔ بچوں کی پرورش کے لیے تکلیف اٹھانے اور دن و رات مشقت برداشت کرنے کو پدرانہ و مادرانہ محبت سے تعبیر کرتا ہے۔ باحیا اور باوقار طریق محبت (نکاح) کے بعد میاں، بیوی کو زندگی کے آخری سانس تک باہم وفا، اخلاص، ہم دردی، موانست اور تحمل کے ساتھ رفاقت نبھانے کو اصل محبت قرار دیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی رو سے عورت چاہے شادی شدہ اور بال بچے دار ہی کیوں نہ ہو، اس کا اجنبی مردوں کے سامنے آنا اور ضرورت کے وقت بھی نرم آواز میں بات چیت کرنا درست نہیں، پھر اس کے لیے یہ کیسے روا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی غیر مرد کو اپنا دوست بنائے اور ہدیہ، تحائف پیش کرے۔ ویلنٹائن ڈے اگر کنوارے، کنواریوں کے رشتے تلاش کرنے کا دن ہے تو اسلام کنواری لڑکی کو قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ اپنا رشتہ خود تلاش کرتی پھرے، بلکہ یہ اس کے سر پرست مرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کے لیے مناسب اور صالح رشتہ تلاش کر کے شریعت کے مطابق اس کا نکاح کردے، اگر یہ سینٹ (پادری) ویلنٹائن کی داستان عشق کی یاد منانے کا دن ہے تو یہ ایک انتہائی غلیظ اور خبیث فعل ہے، جو زنا جیسا قبیح فعل کر کے مذہب کے نام پر عورت کو دھوکہ دے کر پھانس لے۔

اسلام تو ایسے معمولی واقعات کو بھی دوسرے کے سامنے بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اساف اور نائلہ نے حرم میں زنا کیا تو ان کے جسم سزا کے طور پر پتھر بنا دیے گئے، لیکن اوباش پسند لوگوں نے انھیں دیوتا بنا لیا۔ اگر کہیں ہیر رانجے نے ایسی حرکت کی تو انہیں بھی آوارہ مزاجوں نے مرشد بنا لیا۔ اگر یہ محبت کے دیوتا کی یاد میں منایا جانے والا دن ہے تو یہ غیر قوموں کا تصور معبودیت ہے، جس کی اسلام بالکل بھی اجازت نہ دیتا ہے اور نہ کبھی دے گا۔

لیکن اگر کوئی زبردستی جائز صورت نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آخرت میں اپنے انجام کی فکر میں لگ جائے۔ یاد رکھیں معاشرے میں اس طرح کے تہواروں کو پروان چڑھانا، اسلامی معاشرے کی تباہی و بربادی پھیلانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اس بارے میں بہت گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اللہ پاک امت مسلمہ اور وطن عزیز پاکستان کے تمام مسلمانوں کو اس قبیح شر سے بچائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply