ٹی ایل پی سے معاہدہ پارلیمنٹ میں لے جانے سے کیا ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ حکومتِ پاکستان تحریک لبیک پاکستان کے مطالبات کو رواں سال 20 اپریل کے بعد پارلیمنٹ میں لے کر جائے گی۔ وزیرِ اعظم پاکستان کے اس بیان کے بعد ملک کے بعض حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ حکومت پریشر گروپس کے سامنے کمزوری کا مظاہرہ کر رہی ہے تو کیوں؟ اور مستقبل میں آنے والی حکومتوں کے لئے ایسے اقدامات سے کیا اثرات مرتب ہونگے۔

تحریک لبیک نے 16فروری تک فرانس میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے معاملے پر پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ لیکن گزشتہ ماہ 11 جنوری کو حکومت سے طے پانے والے معاہدے کے تحت اس احتجاج کو ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے طرف سے معاہدے کو پارلیمنٹ میں لے جانے کے بیان پر ٹی ایل پی کی مرکزی مجلس شورٰی کے نمائندوں نے سوشل میڈیا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنی جماعت کی کامیابی قرار دیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اُنہیں توقع ہے موجودہ حکومت معاہدہ شکنی کے بجائے معاہدہ پورا کرے گی۔

ٹی ایل پی کے ساتھ گزشتہ ماہ 11 جنوری کو ہونے والے نئے معاہدے میں حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیرِ مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی تھی، جبکہ تحریک لبیک کی نمائندگی کرنے والوں میں غلام غوث، ڈاکٹر محمد شفیق، غلام عباس اور محمد عمیر شامل تھے۔

معاہدے میں فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ ٹی ایل پی کے جن رہنماؤں یا کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں۔ وہ فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے۔

معاہدے کی شق کے مطابق رواں سال 20 اپریل تک معاہدے کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور اِن سب باتوں کا اعلان خود وزیرِ اعظم کریں گے۔

معاہدے کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کے ٹی ایل پی کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں۔​

معاملہ پارلیمنٹ میں جانا چاہیے یا نہیں؟

لاہور کی ‘لمز یونیورسٹی’ میں سیاسیات کے استاد ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی طاقت کم ہو رہی ہے اور پریشر گروپس منظم ہو گئے ہیں۔

رسول بخش رئیس نے اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں ہونےوالی وکلا کی سرگرمیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وکلا نے ایف ایٹ مرکز اور پارکس پر قبضہ کیا، ریاست اُن سے قبضہ نہیں چھڑوا سکی۔

اِسی طرح، رسول بخش رئیس کے بقول، مذہبی جماعتوں کے پاس زیادہ ووٹ نہیں لیکن ایسے لوگ ہیں، جو امن عامہ میں خلل ڈال کر حکومت کے لئے سیاسی دباو اور مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

اگر حکومت امن عامہ میں خلل نہیں دیکھنا چاہتی، تو رسول بخش رئیس کے بقول، حکومت کے پاس درمیان کا راستہ نکالنے کے سوا کوئی دوسرا حل نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ حکومت کب تک ایسے گروہوں کو برداشت کرتی رہے گی۔

انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ‘ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ (ایچ آر سی پی) کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق کہتے ہیں کہ جن معاملات پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے،یا جو پارلیمنٹ کی صوابدید اوراختیار کے دائرے میں آتے ہیں، اُنہیں موجودہ حکومت پارلیمنٹ لے جا نہیں سکتی یا لے جانا نہیں چاہتی۔

جیسا کہ سینٹ الیکشن کے معاملے پر حکومت عدالت چلی گئی اور بعد میں صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ جبکہ حارث خلیق کے بقول، وہ ایگزیکٹو فیصلے جو انتظامی سطح کے ہوتے ہیں۔ اُس پر وزیرِ اعظم کہہ رہے ہیں کہ وہ ایوان میں لے کر جائیں گے۔

ٹاک شو ہوسٹ اور صحافی منیزے جہانگیر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی بات سننا پسند نہیں کرتے، لیکن ٹی ایل پی کو یہ گنجائش دینے کو تیار ہیں، جن کی ایوان میں خاص نمائندگی نہیں۔​

تحریک لبیک کا فیض آباد میں پھر دھرنا
Photo Gallery:

تحریک لبیک کا فیض آباد میں پھر دھرنا

ریاستی رٹ کہاں ہے؟

ڈاکٹر رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ہو یا کوئی اور حکومت، سب کی ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی گروہ سے بلیک میل نہ ہو۔ اُن سے بات چیت ہو لیکن محاذ آرائی نہ ہو۔

اُن کی رائے میں حکومت چاہتی ہے کہ کسی بھی گروپ کے مطالبات نہ مانے جائیں اور صورتِ حال کی سنگینی کو کسی طرح کم کیا جائے۔

تاہم ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے بقول، اگر پارلیمنٹ میں فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی قرار داد منظور ہو جاتی ہے۔ تو بین الاقوامی سطح پر اِس کا بہت نقصان ہو گا جس سے پاکستان کا ایسا تاثر جائے گا کہ یہ جماعتیں زیادہ طاقت ور ہیں۔اس سے دیگر شدت پسند پریشر گروپس بھی طاقت پکڑ سکتے ہیں۔

رسول بخش رئیس کے بقول، اس سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں ہو گا اور داخلی طور پر بھی بہت نقصان ہو گا۔

ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق کہتے ہیں کہ ریاست اِس وقت کنفیوژن کا شکار ہے۔ ان کے بقول، جب ملک کا وزیرِ اعظم اپنی ہر گفتگو میں مذہبی حوالے دے گا، تو اس کا اثر معاشرے کے ہر طبقے کی سوچ پر پڑنا لازمی ہے۔ ایسے میں ٹی ایل پی یاکسی بھی دوسری مذہبی جماعت کا دباو بڑھا، تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہونی چاہئے۔ ان کا بقول، پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتوں نے مذہبی جماعتوں کے لیے خود خلا پیدا کیا ہے۔

حارث خلیق کے بقول، پاکستان کی حکومت اگر ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کو تسلیم کرتی ہے۔ تو ایف اے ٹی ایف، تجارتی معاہدے، جی ایس ٹی پلس اسٹیٹس، عالمی مالیاتی اداروں سے بات چیت جیسے بین الاقوامی سطح کے معاملات مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔

خادم حسین رضوی کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد شریک
Photo Gallery:

خادم حسین رضوی کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد شریک

انہوں نے کہا کہ پارلیمان جمہوری طریقے سے چلتا ہے جس میں اُس مسئلے پر گفتگو ہونی چاہیے جو عوام کے نزدیک مسئلہ ہو۔

منیزے جہانگیر کہتی ہیں کہ تحریکِ انصاف کا رجحان پارلیمنٹ کی طرف بہت کم ہے۔ کم اجلاس بلائے جاتے ہیں اور کم مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔ منیزے کے بقول، حال ہی میں جب حکومتی ملازمین اپنے مطالبات کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کر رہے تھے تو اُنہیں طاقت سے ہٹایا گیا، لیکن ایوان میں اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ جب کہ ماضی میں عمران خان کہا کرتے تھے کہ پر امن مظاہرہ ہر شہری کا حق ہے اور پاکستان کا ٗآئین بھی یہی کہتا ہے۔

کیا پارلیمان سے ٹی ایل پی کے مطالبات منظور ہو جائیں گے؟

حارث خلیق کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ ٹی ایل پی کے مطالبات کو منظور نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر سیاسی سطح پرکہیں یہ سوچ موجود ہے کہ اس سے ٹی ایل پی کے ووٹر کے دل میں پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو جائے گا، تو ایسا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے بقول،ٹی ایل پی کے مطالبات عجیب اور اس سے کسی حکومت کا کوئی معاہدہ کرنا اس سے بھی عجیب ہے، لیکن اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانا اچھا فیصلہ ہے۔ کیونکہ اگر حکومت اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرے گی تو حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں کہیں گی کہ ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ تحریکِ لبیک نے گزشتہ برس فرانس میں متنازع خاکوں کی اشاعت کے خلاف راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا جو بعد ازاں 16 نومبر کو حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ختم ہوا تھا۔

تحریک لبیک کا مطالبہ تھا کہ حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے۔ فرانس میں پاکستان کا سفیر بھی نہ ہو اور تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

خیال رہے کہ اِسی مقام پر ٹی ایل پی نے 2017 میں بھی دھرنا دیا تھا اور حکومت سے ایک معاہدے کے بعد دھرنا ختم کیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1255 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply