ایک کشمیری کا خواب اور قصہ چند ملاقاتوں کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں کشمیر سے متعلقہ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتا سکتا کہ اپنے بہی خواہوں کے ہاتھوں شہادت عظمیٰ پانے کی تمنا نہیں۔ البتہ اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ نوے کی دہائی میں کشمیر میں تحریک آزادی میں دل و جان سے شریک رہا۔ سبھی کشمیری لیڈروں (بشمول مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اور جہادی رہنماؤں) کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ تقریباً سب کے ماتھوں پر بڑے موٹے حروف میں ’برائے فروخت‘ کی تختیاں آویزاں دیکھیں، البتہ شبیر شاہ میں مجھے خلوص کی جھلک نظر آئی۔

ان سے ربط بڑھانے کے لئے جب میرے ساتھیوں نے، ان کے مقبوضہ کشمیر سے آئے ’اس طرف‘ کے معاون خصوصی سے ملاقات کی تو انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا: مجھے فلاں ادارے نے ایک کوٹھی اور پجارو دے رکھی ہے، آپ مجھے کیا دیں گے؟ میرے ساتھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ جب مجھے یہ بتایا گیا تو میرے منہ سے بے ساختہ، اس نام نہاد مجاہد کے اصلی نام کاہم قافیہ لفظ، ’سوداگر‘ نکلا اور یہی ان کا نام پڑ گیا۔ اب میرا ان سے ملنا بے معنی تھا۔ خیال تھا کہ شبیر شاہ، جو تئیس سال جیل میں گزار چکے ہیں، بڑے دیانت دار اور راست باز ہیں، سے مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکتا ہے اور اس تحریک کی زمام کشمیری خود اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے بامقصد بنا سکتے ہیں۔

شبیر شاہ سے ملاقات طے ہوئی اور ’وہاں‘ ہوئی جہاں تک وہ ہندوستان کے پاسپورٹ کے بغیر سفر کر سکتے تھے۔ میرے دو ساتھی برطانیہ سے تھے۔ ایک بیرسٹر تھے اور دوسرے ساتھی، مقبول بٹ کی شہادت کا بدلہ لینے کے شوق میں 1984ء میں مقبوضہ کشمیر میں گئے تھے، گرفتار ہوئے اور چار سال دار و رسن کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد برطانوی حکومت کے تعاون سے رہائی پا کر 1988ء میں برطانیہ واپس آئے تھے۔ اسی ساتھی سے جب میں نے مقبوضہ کشمیر جانے کے ارادے کے بارے میں سرسری سا ذکر کیا تھا کہ سری نگر میں مٹی کا وہ ٹکڑا تھا، امیرہ کدل، جو میرے آباء و اجداد کی جائے پیدائش تھا، میں ان کے نقوش پا ڈھونڈنا چاہتا ہوں، تو اس ساتھی نے چونک کر کہا تھا: آپ کہاں جانے کا سوچ رہے ہیں۔

میرے (برے دنوں کے) میزبان تو مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھتے رہے ہیں۔ وہ پہلے سے آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے، وہ ایئر پورٹ پر ہی آپ کا سواگت کر لیں گے۔ تو گویا میں یورپ میں آنے کے بعد، کشمیر کے بارے میں اخبارات میں، بھارت کی ناانصافی، ہٹ دھرمی اور سفاکی پر جو کچھ لکھتا رہا، وہ کہیں پر بڑی باریک بینی سے نوٹ کیا جاتا رہا تھا۔ اب ہم ایسی جگہ پرتھے جو ان کے دائرہ کار میں تھی۔ میرا خیال تھا کہ ہمارے حریف کو ہماری آمد کی خبر ہو گی اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، بلکہ انتہائی قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔

میں دوستوں کو بتائے بغیر راتوں کو اٹھ اٹھ کر داروازوں اور کھڑکیوں کی چٹخنیوں کو دیکھتا اور یہ یقین کر لینے کے بعد کہ سب بند ہیں، سونے کی کوشش کرتا تھا۔ ہلکے سے کھڑکے پر بھی میں جاگ اٹھتا تھا۔ جب شبیر شاہ سے ملاقات کرنے ان کے ہوٹل میں گئے تو وہاں ان کے اسی معاون خصوصی، ’سوداگر‘ جنہوں نے وہ تاریخی جملہ بولا تھا کہ تم مجھے کیا دو گے، کو ہوٹل کے ہال میں بیٹھے دیکھا تو میرا ماتھا ٹھنکا (یہ ابھی ابھی تشریف لائے تھے اور شبیر شاہ سے نہیں مل پائے تھے)۔

ان کے ساتھ اور بھی لوگ ہوں گے لیکن ہمیں کیسے پتہ چلتا (بعد میں پتہ چلا کہ ایک ادارے کے سینئر آفیسرز بھی ان کے ہمراہ تھے)۔ شبیر شاہ اور ان کے معتمد ساتھیوں سے ملاقات ہوئی، حیرت کی بات یہ تھی کہ ’سوداگر‘ بھی اس محفل میں شبیر شاہ کی پیپلز لیگ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت میں شریک تھا۔ بہت کچھ زیر بحث آیا، ’سوداگر‘ کی حتی المقدور روڑے اٹکانے کی کوشش کے باوجود مشترکہ حکمت عملی طے پا گئی۔ نکات لکھے گئے اور فریقین نے دست خط کر دیے۔ (یہ دستاویز اس وقت بھی میرے پاس موجود ہے) ۔

کچھ اور معاملات، ابھی زیر بحث آنے تھے۔ پہلے دن کی پانچ گھنٹے کی بیٹھک ناکافی رہی تھی۔ دوسرے دن پھر ملاقات ہوئی، لیکن آج کچھ عجیب سا منظر تھا۔ شبیر شاہ اور ان کے سبھی ساتھی مضمحل دکھائی پڑتے تھے۔ تھکاوٹ اور بے خوابی کے اثرات ان سب کے چہروں پر بڑے نمایاں تھے۔ نیند سے بوجھل آنکھیں، ڈولتے سر اور ڈھلکتی گردنیں، ”تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ ’ کی عملی تصویر تھیں۔ لہٰذا آج کا ماحول ہی کیا، رت ہی بدل گئی تھی۔ آج محفل میں کل والی گرم جوشی نہیں تھی۔ بات چیت میں عدم دل چسپی اور طبیعتوں میں اکتاہٹ کے آثار دیکھ کر، میں شبیر شاہ سے پوچھ بیٹھا، ’لگتا ہے، رات، آپ سو نہیں سکے؟‘ ۔ شبیر شاہ بہت ہی شریف النفس اور سادہ طبیعت کے آدمی ہیں۔ کہنے لگے ہاں رات کو کچھ مہمان ملنے آ گئے تھے، وہ دیر تک ہمارے پاس بیٹھے رہے۔ اب یہ جاننے کے لئے کہ وہ مہمان کون تھے، کسی لمبی چوڑی جمع تفریق کی ضرورت نہیں تھی۔

یہ ’سوداگر‘ کے ہمراہ آئے ہوئے مہمانان خصوصی ہی ہو سکتے تھے۔ گویا اپنی پیٹھ میں خنجر پیوست ہونے اور جان کاہ اذیت کے احساس پر جب مڑ کے پیچھے دیکھا تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی تھی۔ اب کون سا معاہدہ اور کون سی دستاویز، لکھی ہوئی وہ دستاویز ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ سب کچھ بے کار گیا، کچھ بھی نہ ہو سکا۔ چار دن بعد ہم بے نیل و مرام برطانیہ واپس آ گئے۔

برطانیہ میں کشمیر کے بارے میں ہم خاصا کام کر رہے تھے۔ ہم برطانیہ میں یا کشمیر کے کسی بھی حصے میں کسی ادارے، محکمے یا حکمران کی کوئی بات سنتے تھے اور نہ ہی ان پر عمل کرتے تھے۔ یعنی ہم کسی ظاہری یا باطنی ادارے کی ہدایات کے پابند نہیں تھے۔ ہم کشمیر پر صرف کشمیریوں کے نقطۂ نظر کی بات کرتے تھے۔ برطانیہ میں ہائی کمیشن میں ایک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ (ڈیپارٹمنٹ کا نام نہ لکھوں تو زیادہ بہتر ہے) پاکستان کے ایک ادارے کے بہت ہی سینئر سرونگ افسر تھے۔ ان کے ذمہ کچھ اور کام بھی ہوں گے لیکن لگتا تھا کہ انہیں بالخصوص، برطانیہ میں آباد کشمیریوں پر نظر رکھنا اور مجھ جیسے بے لگام کشمیریوں کو رام کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

یہ 1995ء کی بات ہے۔ ان کی نظر التفات مجھ پر پڑی اور مجھے بات چیت کے لئے اپنے دفتر میں بلایا۔ میں نے پیامبر کو ٹکا سا جواب دے دیا۔ میں کہتا تھا کہ جب مجھے پتہ ہے کہ ہمارا کسی بات پر اتفاق نہیں ہو سکے گا تو ایسی ملاقات کا فائدہ؟ لیکن وہ صاحب ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے۔

آخر اس شخص نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ آپ ان کی بات نہیں مانیں گے۔ اگر ایسا ہو، تو آپ انہیں صاف صاف جواب دے کر اٹھ کر چلے آئیں۔ جب ان صاحب نے مجھے زچ کر دیا تو میں نے کہہ دیا کہ فلاں تاریخ کو بعد دوپہر تین بجے میں ان کے آفس میں آ جاؤں گا۔ لیکن میں بہت اچھے طریقے سے سمجھتا تھا کہ یہ کسی کو زیر دام لانے کا ایک مہذب طریقہ ہے۔ مجھے خدشہ تھا کہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ چناں چہ میں نے چیدہ چیدہ ساتھیوں کو آگاہ کر دیا کہ میں وہاں جا رہا ہوں اور اگر دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد ٹیلی فون نہ کروں تو سمجھ لینا کہ کچھ اور ہو گیا ہے۔

میں مقررہ وقت پر وہاں پہنچا، وہ صاحب خود باہر تشریف لائے اور مجھے یہ کہتے ہوئے اپنے آفس میں لے گئے کہ ہمارے لئے یہ سعادت کا مقام ہے کہ آپ جیسے بلند مرتبہ اور باوقار لوگ ہمیں ملنے آئیں۔ میں نے فی البدیہہ کہہ دیا ’یہ آپ کے لئے سعادت کا مقام ہو سکتا ہے لیکن میرے لئے نہیں، جب میں آپ کے دروازے پر آیا تو ادھر ادھر دیکھا، جب مجھے یقین ہو گیا کہ کوئی مجھے دیکھ نہیں رہا، تو میں اندر آ گیا‘ ۔ ان صاحب کو ایک جھٹکا سا لگا لیکن انہوں نے بیٹھتے ہی بات چیت شروع کر دی۔

انہیں بالکل علم نہیں تھا کہ ان کے سب سے بڑے صاحب کو میں ان کے ہیڈ کوارٹر میں پانچ سال پہلے (1990ء) جا کر مل آیا تھا اور میں ان سے کشمیر پر ان کی پالیسی پر سیر حاصل گفتگو کر آیا تھا۔ وہ مجھے ایک ڈاکٹر سمجھتے اور جانتے ہوئے باتیں کرتے رہے تھے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ان سے یہ باتیں کیوں کر رہا ہوں۔ اب ان صاحب نے سوال جواب کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دراصل وہ مجھے انٹیروگیٹ (مجھ سے پوچھ گچھ ) کر رہے تھے کہ ہم لوگ کام کیسے کرتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا رابطہ کن ذرائع سے ہے۔ میں نے جو مناسب سمجھا وہ کہا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی انٹیرو گیشن کے بعد کہنے لگے، ہم چاہتے ہیں کہ ہم مل کر کام کریں۔ آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔

وہ کیا مشترکہ نصب العین (Common Goal) ہے جس پر آپ تعاون چاہتے ہیں؟ میں نے کہا۔
ہندوستان کو پوری دنیا میں بدنام کرنا ہے، ان صاحب نے کہا۔

اس طرح کا کوئی مقصد ہمارے ذہن میں نہیں۔ ہندوستان نے ریاست کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، ہم تو ہندوستان سے ریاست کی آزادی چاہتے ہیں اور ہم اسی مشن پر کام کر رہے ہیں۔

کشمیر میں ہندوستان کی جارحیت اور جور و جبر کو پوری دنیا میں آشکار کر کے ہم کشمیر کا مسئلہ، اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بحث کے لئے لا سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کم از کم اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ضمن میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔ اس سے کیا حاصل ہو گا؟ کیا آپ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو مانتے ہیں؟ کیا آپ ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں؟

ہم ان قراردادوں کو مانتے ہیں۔

تو پھر ایسے کرتے ہیں، ان قراردادوں کو پڑھ کر پہلے ہم ان کے اہم نکات پر بحث کرتے ہیں، اگر ہمارا ان پر اتفاق ہو گیا تو پھر ہم مل کر کام کریں گے۔

میں نے اپنا بریف کھولا اور قراردادوں کی کاپیاں نکالنے لگا، تو انہوں نے جھٹ سے ایک الماری کھولی اور ان قراردادوں کا ایک کتابچہ میرے سامنے رکھ دیا۔ میں نے کہا ہم 21 اپریل 1948ء کی قراداد پر بات کرتے ہیں جس میں پہلے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ و ہ یہ کام کرے:

1۔ قبائلی مجاہدین کو ریاست سے نکالے۔
2۔ پاکستان کے (عام یا فوجی ) شہریوں کو جو جنگ کے لئے ریاست میں موجود ہیں، ریاست سے نکالے۔
3۔ پاکستان ہر قسم کی امداد، جو مندرجہ بالا افراد کو دی جا رہی ہے، بند کر دے۔

4۔ پاکستان یہ باور کرائے کہ ریاست کے ہر شخص کو بلا تخصیص قوم و نسل اپنے نظریے کے پرچار کی پوری آزادی ہو گی۔

اب میرا سوال، آپ سے یہ ہے کہ کیا آپ آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان سے اپنے سبھی عام شہریوں کو نکالنے کے لئے تیار ہیں؟

جی بالکل، ہم اس پر تیار ہیں۔
کیا آپ اپنی فوج بھی وہاں سے نکال لیں گے؟
نہیں یہ تو نہیں ہو سکتا، پہلے ہندوستان اپنی فوج وہاں سے نکالے۔

لیکن آپ تو ان قراردادوں کو سب کے سامنے تسلیم کر چکے ہیں۔ ان قراردادوں کے مطابق ہندوستان کی فوج کا جزوی انخلاء تو مندرجہ بالا اقدامات اور یو این او کے مبصروں کی تصدیق کے بعد جا کر ہو گا۔

مجھے معلوم نہیں کہ ان صاحب کو کیا ہوا کہ وہ بری طرح بوکھلا گئے۔ انہوں نے کہا: (میں ان صاحب کے الفاظ کو ہو بہو نقل کر رہا ہوں ) ”در اصل اس وقت بددیانتی تھی، دونوں طرف (یعنی ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی کشمیر کے معاملے میں بددیانت تھے) اس لئے ہم نے یہ قراردادیں منظور کر لی تھیں“۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2